ہفتہ، 22 فروری، 2014

میری نئی اردو کتاب، ’’پاکستانی کشاکش‘‘ کی اشاعت اور اجرا

میری نئی اردو کتاب، ’’پاکستانی کشاکش‘‘ شائع ہو گئی اور اے ـ ایس ـ انسٹیٹیوٹ، لاہور نے آج اس کا اجرا کر دیا ہے۔ اس ضمن میں میڈیا ریلیز ملاحظہ کیجیے:

میڈیا ریلیز:

نئی اردو کتاب، ’’پاکستانی کشاکش‘‘ کی اشاعت اور اجرا


لاہور، فروری 22، 2014: آلٹرنیٹ سالوشنز انسٹیٹیوٹ (اے ـ ایس ـ انسٹیٹوٹ) نے آج ڈاکٹر خلیل احمد کی نئی کتاب، ’’پاکستانی کشاکش: تحلیل و تعدیل اور آگے بڑھنے کاراستہ‘‘ کا اجرا کر دیا ہے۔

کتاب پاکستانی ریاست اور سوسائیٹی کے موجودہ بحران کا تجزیہ بالخصوص اس تناظر میں کرتی ہے کہ پاکستانی ریاست اور سوسائیٹی دونوں نے پاکستان کے عام شہریوں کی جان و مال اور ان کے حقوق کو لاحق وحشیانہ خطرات کا مقابلہ کرنے کے ضمن میں کیا رویہ اختیار کیا ہے۔ کتاب سیاست دانوں اور سیاسی پارٹیوں کے مشکوک کردار پر بھی توجہ دیتی ہے کہ انھوں نے اپنی سرپرستی میں مجرمانہ تنظیموں کو شہریوں کے آئینی حقوق غصب کرنے کی آزادی فراہم کی۔ کتاب اس نتیجے کو سامنے لاتی ہے کہ ریاست اور سیاسی پارٹیاں دونوں پاکستان کے شہریوں کی جان و مال اور ان کے حقوق اور آزادیوں کا تحفظ کرنے میں ناکام ہو چکی ہیں، پاکستان کا آئین جن کی ضمانت دیتا ہے۔

ایک صریح تجزیے کے بعد کتاب مشوش اور روشن خیال شہریوں کے سامنے ایک نئی سیاسی پارٹی قائم کرنے کی تجویز پیش کرتی ہے، جو یک نکاتی ایجینڈے پر منظم ہونی چاہیے۔ یہ یک نکاتی ایجینڈا ہے: بہرطور بہرحال شہریوں کی جان و مال اور ان کے حقوق کا تحفظ، کسی فرق اور کسی امتیاز کے بغیر۔ مزید یہ کہ مجوزہ نئی سیاسی پارٹی کو اپنے یک نکانی ایجینڈے کے حصول کے لیے ہر قسم کی نظریاتی زنجیروں اور بوجھ کو ترک کر کے اخلاقی اور آئینی بنیادوں پر منظم ہونا چاہیے۔

کتاب کے اجرا کے موقعے پر مصنف ڈاکٹر خلیل احمد نے اس امید کا اظہار کیا کہ اگر نئی پارٹی مجوزہ یک نکاتی ایجینڈے پر متوجہ رہتی اور اخلاقی اور آئینی تقاضوں کو سامنے رکھ کر کام کرتی ہے تو پاکستان کی ریاست اور سوسائیٹی دونوں کو اس خود کش بحران سے باہر لانا کوئی مشکل نہیں ہو گا۔

یاد رہے ڈاکٹر خلیل احمد کی کتابیں سنجیدہ علمی مباحثے کو تحریک دے رہی ہیں۔ ان کی اہم کتابوں میں ’’پاکستان میں ریاستی اشرافیہ کا عروج‘‘، ’’سیاسی پارٹیاں یا سیاسی بندوبست: پاکستانی سیاست کے پیچ وخم کا فلسفیانہ محاکمہ‘‘ اور ’’چارٹر آف لبرٹی‘‘ (’’میثاقِ آزادی‘‘) شامل ہیں۔

کتاب: پاکستانی کشاکش: تحلیل و تعدیل اور آگے بڑھنے کا راستہ
مصنف: ڈاکٹر خلیل احمد
صفحات: 40
قیمت: 65 روپے

کتاب درج ذیل اداروں سے حاصل کی جا سکتی ہے:

لاہور:
سچیت کتاب گھر، F-11، شرف مینشن، 16 کوئینز روڈ، چوک گنگا رام ہسپتال، لاہور
فون: 042-3630 8265  ای میل: suchet2001@yahoo.com

اسلام آباد:
سعید بُک بینک
الرحمان سینٹر، F-7 مرکز، جناح سپر، اسلام آباد
فون: 92-51-2651656, 57, 58 (3 Lines)  فیکس: 92-51-2651660



مزید معلومات کے لیے، رابطہ کیجیے: info@asinstitute.org

بدھ، 5 فروری، 2014

پارلیمانی بالادستی کا ڈھونگ ـ ایک تازہ مثال

روزانہ اخبار دیکھتے ہوئے درجنوں ایسے معاملات نظر سے گزرتے ہیں، جن کی نشاندہی کرنے کو جی چاہتا ہے؛ جن پر لکھنے اور ان کے پیچھے چھپی کہانیوں کو بے نقاب کرنے کو دل چاہتا ہے۔ اور پاکستان کی ریاستی اشرافیہ اور طفیلیے سیاست دان، جو گل کھلاتے رہتے ہیں، ان پر خانہ فرسائی ضروری خیال کرتا ہوں۔ مگر اور بہت سے اہم اور ضروری معاملات توجہ چاہتے ہیں، اور میں ان پر مرتکز رہتا ہوں، اور چاہتا ہوں کہ ان روزانہ کی گل فشانیوں سے قطع نظر کر کے کچھ قابلِ قدر کام کروں۔

یوں بہت کچھ ایسا ہے، جسے کڑے دل کے ساتھ، اس پر بغیر کچھ کہے، بغیر کچھ لکھے، چھوڑنا پڑتا ہے۔ تاہم، بعض اوقات ایسا کچھ سامنے آ جاتا ہے کہ صبر نہیں ہوتا، اور احتیاط کا دامن ہاتھ سے چھوٹ جاتا ہے۔
آج ایسا ہی ایک معاملہ درپیش ہے۔

درج ذیل خبر ملاحظہ کیجیے، اور روئیے پاکستان کے مقدر کو جہاں ریاستی اشرافیہ کے نخرے شہزادوں سے بھی بڑھ کر ہیں، اور جہاں، دیکھیے اور سر دھنیے، کہ پارلیمانی بالادستی کا ڈھونگ کس طرح  رچایا جا رہا ہے۔


[روزنامہ جنگ، لاہور، 5 فروری، 2014 ]

اگر چیئرمین سینیٹ تہران کانفرینس میں شرکت نہ کرنے جائیں تو کیا اس سے پارلیمانی بالادستی کو زک پہنچے گا! جبکہ انھوں نے وہاں سیر کرنے کے علاوہ کیا کرنا ہے جا کر۔ اور ان کے اس دورے سے پارلیمان کی بالادستی کا کیا تعلق بنتا ہے! دفترِ خارجہ نے اپنی ذمے داری نبھائی اور جو ان کا کام بنتا ہے، اسے پورا کیا؛ یعنی انھوں نے ایران اور دنیا کے بیچ جو تنازعہ چل رہا ہے، اس کے پیشِ نظر چیئرمین کو مشورہ دیا ہو گا کہ وہ تہران نہ جائیں۔ اور اگر ایسا نہیں ہے، تو بھی اس معاملے کا پارلیمان کی بالادستی سے کوئی تعلق نہیں۔ کیا پارلیمانی بالادستی چیئرمین کے دوروں کے ساتھ جڑی ہوئی ہے۔ یا اس کا تعلق اپنی مرضی سے جہاں چاہو دورہ کرو، جو چاہے کرو، جیسے اختیار سے ہے!

مزید یہ کہ سیکریٹری خارجہ بھی بزدل افسر ثابت ہوئے اور نہ صرف چٹھی واپس لے لی، بلکہ معذرت بھی کی۔ اگر وہ چمچہ صفت نہ ہوتے، اور اپنے فرائض کا درست احساس رکھتے تو نہ تو معذرت کرتے، نہ چٹھی واپس لیتے۔ انھوں نے اپنا، یعنی دفترِ خارجہ کا فرض پورا کر دیا تھا اور اس پر قائم رہتے۔ آگے چیئر مین سینیٹ کی مرضی، وہ جاتے یا نہ جاتے۔ مگر پاکستان میں ایسے افسروں کا کال ہے، بلکہ ایسے انسان ناپید ہیں، جو باضمیر اور اپنے فریضے کے ساتھ مخلص اور دیانت داری سے اسے نبھانے والے ہوں۔ پھر یہ بھی کہ اخلاقی جرأت کے حامل بھی ہوں۔

اور پھر یہ حقیقت اپنی جگہ موجود ہے کہ پاکستان میں پارلیمانی خود سروں کو روک کون سکتا ہے! یہ بے اصولے اور مطلق العنان خصلت کے لوگ ہیں۔ یہ آئین، قانون اور ریاستی اداروں کو اپنے تابع سمجھتے ہیں۔ خود کو بادشاہ اور کسی کو جوابدہ نہیں سمجھتے۔

آخراً یہ کہ اگر چیئرمین سینیٹ کو تہران کے دورے سے روکنے کا مشورہ دینا پارلیمانی بالادستی میں ایگزیکٹو (انتظامیہ) کی مداخلت ہے، تو پھر نہ صرف دفترِ خارجہ کو لپیٹ دینا چاہیے، بلکہ تمام سرکاری دفاتروں، وزارتوں اور محکموں کو بھی ختم کر دینا چاہیے۔ یوں نہ رہے گا بانس، نہ بجے کی بانسری۔ یعنی نہ ایگزیکٹو (انتظامیہ) رہے گی، نہ پارلیمانی بالادستی میں کوئی مداخلت کرے گا۔ بس پارلیمان اپنی بالادستی کے محل میں تنہا بیٹھ کے ڈنڈے بجایا کرے گی!

پیر، 18 نومبر، 2013

ایک بم ہزار غم

روسی ادیب چیخوف نے افسانے کی تکنیک پر بات کرتے ہوئے لکھا تھا کہ اگر اس میں بندوق کا ذکر آیا ہے تواس سے پہلے کہ افسانہ ختم ہو اس کا چل جانا ضروری ہے۔ پاکستان نے جب سے ایٹم بم بنائے ہیں، تب سے چیخوف کے کچھ پاکستانی پیروکاروں کا مسلسل کہنا ہے کہ اگر انھیں چلانا نہیں تو بنایا کیوں۔

یاد پڑتا ہے کہ واپڈا کے ایک ریٹائرڈ چیئر مین ریٹائرڈ جنرل تھے، وہ کہتے تھے کہ یہ بم کیوں بنا رکھے ہیں ماریں انھیں انڈیا پر۔ وہ کچھ تعداد بھی بتاتے تھے کہ کتنے بم بھارت کو تباہ کرنے کے لیے کافی ہوں گے۔ (انھوں نے اغلباً یہ بھی اندازہ ضرور لگایا ہو گا کہ پاکستان کے لیے کتنے بم کافی ہوں گے اور انھیں یہ اطلاع بھی ہو گی کہ بھارت کے پاس اس سے کہیں کم بم موجود ہیں، جو پاکستان کے لیے کافی ہوںگے!) ایک بہت نامور صحافی اور نظریۂ پاکستان کے ٹھیکیدار بھی پاکستان کے بموں سے بہت تنگ ہیں۔ وہ بھی چیخوف کے بتائے سبق کے مطابق ایک ایسا افسانہ لکھنا چاہتے ہیں، جس میں پاکستان کے پاس موجود تمام ایٹم بم بھارت پر استعمال کر دیئے جائیں۔

چلیں یہ تو خواہشات ہیں۔ مگر ہاں، شکر ہے کہ ایسے افراد، جن کی پاکستان میں کمی نہیں، بلکہ بہتات ہی ہو گی، معاملات کو فیصل کرنے کے مقام سے بہت نیچے ہیں۔ تاہم، اس خطرے سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ ایسے لوگ کب تھوڑا سا اوپر آ جائیں۔ یہاں طالبان کا پاکستان میں برسرِ اقتدار آ جانا قطعاً مراد نہیں۔ گو کہ ان کے اقتدار پر قابض ہونے کا امکان چیخوف کے ماننے والوں سے کہیں زیادہ قوی ہو گیا ہے۔ صاف بات ہے کہ اگر طالبان کا دائرۂ عمل، جی ایچ کیو، اور پی این ایس کراچی اور پھر بہت سی دوسری حساس جگہوں تک بڑھ چکا ہے تو پاکستان کے پاس موجود ’ایٹم بم، ہزار غم‘ کی صورت اختیار کر چکے ہیں۔

کہانی بڑی دردناک اور عبرتناک ہے۔ اصل میں ایٹم بم بنانا ہمارے خمیر میں تھا۔ بھارت خواہ ایٹم بم بناتا یا نہ بناتا، ہمارے تو مقدرمیں لکھا تھا کہ ہم یہ کارنامہ ضرور سر انجام دیں گے۔ بھارت نے تو موقع فراہم کر دیا اور ہم بیٹھے بٹھائے ایٹمی طاقت بن گئے۔ نہ ہمیں گھاس کھانی پڑی، نہ بحرِ سائینس میں غوطے لگانے پڑے۔ بھارت کے ایٹمی دھماکوں نے ہماری انا کو خوب کچوکے دیے۔ ہم تو ایک اسلامی ملک ہیں، اور بھارت ہم پر حاوی ہو جائے گا۔ کیا خبر کس رات بھارت پاکستان پر قبضہ کر لے۔ ہم ڈر گئے، اور ہم نے بھی کچھ ایٹم بم پھوڑ ڈالے۔

انا کو تسکین مل گئی۔ ہم ایک اسلامی طاقت تو تھے ہی، اب ہم ایک ’اسلامی بم‘ کے مالک بھی ہو گئے۔ یہ بڑے فخر کی بات تھی۔ وقتی طور پر یہ دلیل خوب چلی کہ اگر ہم نے ایٹمی دھماکے نہ کیے تو بھارت ہم پر چڑھ دوڑے گا۔ ہماری انا کو کچھ اور زیادہ تسکین مل سکتی تھی، اگر یوں ہوتا کہ بھار ت ابھی مئی 1998 تک بنگلہ دیش پر قابض رہتا، اور جیسے ہی ہمارے چھ دھماکے چاغئی میں گونجتے، بھارت بنگلہ دیش سے دُم دبا کر بھاگ جاتا۔ مگر بھارت نے بڑی بے وقوفی کی، پہلے ہی، بلکہ فوراً ہی، بنگلہ دیش سے رفو چکر ہو گیا۔

ہمیں ایک اور بخار نے بڑا تنگ کیا ہے: ہم نے اسلامی بم بنا لیا۔ جیسے بلوچستان کے وزیرِ اعلیٰ کہتے ہیں کہ ڈگری، ڈگری ہوتی ہے، خواہ جعلی ہو یا اصلی، اسی طرح کہا جاسکتا ہے کہ بم، بم ہوتا ہے، اسلامی یا غیراسلامی نہیں۔ یہ کوئی بڑا سرخاب کا پر لگ جانے والی بات نہیں تھی کہ پاکستان پہلا اسلامی ملک تھا، جو ایٹمی طاقت بنا۔ بات تو جب ہوتی کہ پاکستان تما م انسانیت سوز ہتھیار تلف کرنے والا پہلا ملک ہوتا۔

چونکہ دنیا میں ایٹم بم بن اور چل چکا تھا اور پاکستان میں چیخوف کے مرید اتارو تھے کہ ایٹم بم نہ صرف بنایا جائے بلکہ اسے چلایا بھی جائے، تو ہتھیاروں کو تلف کرنے کی بات تو دور رہی، یہ لوگ ایسا سوچنے پر یہ بم خود پاکستان پر چلا دیتے۔ بلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ ہر طرح کے دوسرے بم پاکستانیوں پر چلائے جا رہے ہیں، بس ابھی ایٹم بم ان منچلوں کے ہاتھ نہیں آئے، ورنہ یہ بھی چل گئے ہوتے! سو اگر یہ نہیں ہوسکتا تھا تو کم از کم پاکستان ایک حقیقی جمہوری ملک ہی بن جاتا۔ یہ ہوتی سرخاب کے پر لگنے والی بات۔ اور دیکھیں آج کل کتنے اسلامی ملکوں کو سر خاب کے پر لگ رہے ہیں!

چیخوف کے پیروکار کچھ آ ئیڈیلسٹ سے بھی ہیں۔ کاش ایسا ہوتا کہ اگر یہ ہیروشیما اور ناگا ساکی پر ایٹم بم گرنے کے وقت موجود ہوتے تو کچھ دیکھ سکتے اور کچھ سیکھ بھی سکتے۔ مگر ان کی افتادِ طبع ایسی ہے کہ اگر انھیں آج بھی ہیروشیما اور ناگا ساکی میں تباہی کے اثرات دکھائے اور بتائے جائیں تو ان کا ردِ عمل یہ ہوگا کہ امریکہ کے ساتھ بھی ایسا ہی کرو، نہیں تو ہم کریں گے!

تو اس صورت میں چیخوف کے پیروکاروں کو یہ کیسے سمجھایا جائے کہ افسانے اور حقیقت میں بہت فرق ہوتا ہے۔ ایٹم بم بنانے پر پیسے اٹھتے ہیں۔ اسے چلانے پر بھی! اور بنانے سے بھی زیادہ پیسے اس کی حفاظت پر اٹھتے ہیں۔ اور طالبان جیسے چیخوف کے ’موت پسند‘ پیروکار، جو ہر وہ چیز چلا دینا چاہتے ہیں، جس کا ذکر افسانے میں آیا ہو یا نہ آیا ہو، ان سے ایٹم بم کی حفاظت پر تو بہت پیسہ خرچ ہوتا ہے، اور ہو رہا ہے۔

پھر آج تک کوئی امریکی ایسا ایٹم بم نہیں بنا سکا جو اپنے بنانے کی لاگت کے ساتھ ساتھ اسے چلانے کی لاگت بھی خود ہی اٹھا سکے۔ ہر طرح کے بموں کے اخراجات، چاہے یہ اسلامی ہوں یا غیراسلامی یا کسی اور نام کے، بے چارے خواص کے الّلوں تللوں کے مارے عام شہریوں کو ہی اٹھانے پڑتے ہیں۔ مراد یہ کہ ہر طرح کے بموں سمیت ایٹم بموں کے خرچ کا غم بھی شہریوں کے حصے میں ہی آتا ہے۔ اور سب سے بڑی حقیقت یہ ہے کہ جب یہ بم چلتے ہیں تو ان کی تباہی بھی سب سے زیادہ ان شہریوں کے حصے میں ہی آتی ہے۔

اور اس سے بھی بڑی حقیقت یہ ہے کہ یہ ایٹم بم یہ نہیں دیکھتے کہ کون مسلمان ہے، کون ہندو، کون عیسائی۔ ایٹم بم کا نام اسلامی رکھ دینے سے یہ نہ تو مشرف بہ اسلام ہو تا ہے، نہ ہی مسلمانوں کی شناخت کے قابل۔ یہ بم، بم ہی رہتا ہے اور تباہی اپنی فطرت کے مطابق ہی لاتا ہے۔ مزید یہ کہ یہ بم ریاستوں، سرحدوں، قوموں اور مذہبوں کی منطق نہیں سمجھتے اور اپنے اثرات بلا امتیاز اپنی پہنچ کے مطابق ہر جگہ پہنچاتے ہیں۔

چیخوف کے چیلوں کو ایک چیز اور بہت تنگ کرتی ہے۔ اور وہ ہے امریکہ۔ یہ امریکہ کو ہمارے بم کا غم کیوں کھائے جا رہا ہے: تجھ کو پرائی کیا پڑی اپنی نبیڑ تو۔ وہ شاید اس واقعے سے واقف نہیں جس سے ہو سکتا ہے کہ امریکہ بھی ناواقف ہو۔

کسی پاگل خانے میں ایک پاگل ایک اونچے درخت پر چڑھ بیٹھا۔ بہت سمجھایا گیا کہ بھائی نیچے اُتر آ۔ اس پر کوئی اثر نہیں ہوا۔ پاگل خانے کے سب ڈاکٹر اور ملازمین اپنی اپنی ترکیبیں لڑا کر ناکام ہو گئے۔ اس مایوسی کے عالم میں ایک اور پاگل نے اپنی خدمات پیش کیں اور یقین دلایا کہ وہ اس پاگل کو نیچے اتار سکتا ہے۔ آ بھائی تو بھی اپنی عقل آزما لے۔ پاگل نے ایک قینچی منگوائی اور درخت پر چڑھے پاگل کو دکھائی: نیچے آتا ہے یا کاٹوں درخت۔ درخت پر چڑھا پاگل سیدھا نیچے اتر آیا۔ سب کے سب حیران اور پریشان، یہ پاگل ہی ہم سے زیادہ عقل مند نکلا۔

درخت سے نیچے اترنے والے پاگل سے پوچھا گیا، بھائی ہم نے تمہیں اتنا سمجھایا تم نیچے نہیں اترے۔ اس پاگل کی بات تمیں فوراً سمجھ آ گئی۔ وہ بولا: کہہ رہا تھا درخت کاٹ دوں گا، پاگل ہے کیا پتہ کاٹ ہی ڈالتا!

کاش ہم بھی کسی ایسے پاگل کی بات ہی سمجھ اور مان لیں!

[یہ تحریر اردو ویب سائیٹ، ’’ہم آزاد‘‘ کے لیے لکھی گئی تھی، اور 7 اگست 2011 کو مکمل ہوئی۔]

سندھ اسیمبلی میں شادی خانہ آبادی

ویسے تو پاکستان کی قومی اور صوبائی اسیمبلیوں سے عام شہریوں کے لیے بربادی کے پروانے جاری ہوتے ہیں۔ مگر اس مرتبہ ایک مختلف خبر آئی ہے۔ پہلے جو خاص پاکستانی منتخب ہو کر قومی اسیمبلی میں پہنچ جاتے تھے، ان کے گھر شادیانے بجنے لگتے تھے، اب تو خود اسیمبلی میں ڈھول ڈھمکا شروع ہو گیا ہے۔ منتظر رہیے کس اسیمبلی میں ناچ گانے کی تقریب کب منعقد ہوتی ہے:


[روزنامہ جنگ، 4 نومبر، 2013]

پاکستان کے طاقت ور قیدی اور کمزور پولیس افسر

یہ خبر ملاحظہ کیجیے اور حیران ہوئیے کہ ایک قیدی نے کیسے ایک پولیس افسر کو تبدیل کروا دیا۔ یہی سبب ہے کہ میں پاکستان کو ایک جرائم پیشہ ریاست کہتا ہوں:


[روزنامہ جنگ، 29 ستمبر، 2013]

پاکستانی سیاست دانوں کی ذہنیت کی ایک مثال

پاکستان مسلم لیگ (ن) کی ایم این اے کو سپریم کورٹ نے جعلی ڈگری رکھنے پر ہمیشہ کے لیے نااہل قرار دیا۔ یہ بات تو علاحدہ رہی۔ دیکھنے والی بات یہ ہے کہ کیا انھیں اس پر کوئی شرمندگی ہوئی۔ قطعاً کوئی نہیں۔ بلکہ ان کا ردِ عمل چوری اور سینہ زوری کے مترادف ہے۔ اس سے متعلق کچھ خبریں ملاحظہ کیجیے:




[روزنامہ جنگ، 29 اکتوبر، 2013]

پاکستان کے جاسوس سیاست دان

دنیا میں یا پاکستان میں کہیں کچھ ہو، پاکستانی سیاست دانوں کو فوراً پتہ چل جاتا ہے، یہ کس نے کیا یا اس کے پیچھے کون ہے۔ باقی تفتیشی ادارے ابھی تفتیش شروع بھی نہیں کر پاتے، اور سیاست دان ’’مجرموں‘‘  کو کٹہرے میں لا کھڑا کرتے ہیں۔ کچھ نمونے کی خبریں ملاحظہ کیجیے، جو سیاست دانوں کی جاسوسانہ ذہنیت کی مثالوں کی حیثیت رکھتی ہیں۔ پاکستانی ریاست کو چاہیے، تمام جاسوسی و تفتیشی اداروں میں سے ماہرین وغیرہ کو نکال باہر کرے، اور سیاست دانوں کو بھرتی کر لے:


[روزنامہ جنگ، 21 ستمبر، 2013]


[روزنامہ جنگ، 25 ستمبر، 2013]


[روزنامہ جنگ، یکم اکتوبر، 2013]


[روزنامہ جنگ، یکم اکتوبر، 2013]


[روزنامہ جنگ، 11 اکتوبر، 2013]


[روزنامہ جنگ، 12 اکتوبر، 2013]


[روزنامہ جنگ، 29 اکتوبر، 2013]