ہفتہ، 27 فروری، 2016

لاہور کا نوحہ

لاہور کی میت ہے ذرا دھوم سے نکلے

[نئے شہر بساؤ اوراپنے شوق پورے کرو؛ ہمارے شہر کیوں ملیامیٹ کر رہے ہو!]


روتی ہوئی حسرت دلِ مغموم سے نکلے
واویلا کرو، بین کرو، اشک بہاؤ
لاہور کی میت ہے ذرا دھوم سے نکلے

اشراف کے خوابوں تلے کچلا گیا یہ شہر
صیاد کے ہتھکنڈوں سے مسلا گیا یہ شہر
آواز کہیں تو کسی حلقوم سے نکلے
لاہور کی میت ہے ذرا دھوم سے نکلے

جو روح تھی مر بھی چکی، اربابِ سیاست!
لاشہ بہا لے جائے گا سیلابِ سیاست
اس شہر کا قصہ دلِ مغموم سے نکلے
لاہور کی میت ہے ذراد ھوم سے نکلے

کتنی ہی عمارات جو پہچان تھیں اس کی
کوچے و گزرگاہیں جو کہ جان تھیں اس کی
نوحہ تو کسی کا لبِ مظلوم سے نکلے
لاہور کی میت ہے ذرا دھوم سے نکلے

وہ پیڑ، وہ برگد، وہ گھنے سیر کے رستے
منزل سے کہیں بڑھ کے جو تھے خیر کے رستے
اب قافلہ ان کا رہِ مسموم سے نکلے
لاہور کی میت ہے ذرا دھوم سے نکلے

اس شہرِنگاراں کو ہوس نے یوں اُدھیڑا
جیسے کسی نادار کو رہزن نے کھُدیڑا
کیا کیا نہ ستم خنجرِ مزعوم سے نکلے
لاہور کی میت ہے ذرا دھوم سے نکلے

اے ساکنو! کیوں چپ ہو، پنپنے کا نہیں پھر
اس بار جو اجڑے گا تو بسنے کا نہیں پھر
کیوں شہرمٹے، ہستیِ مرقوم سے نکلے
لاہور کی میت ہے ذرا دھوم سے نکلے

کاری ہے بہت ظلم کا یہ وار سنبھالو
مشکل نہیں کچھ کام یہ، لاہور بچا لو
لاہور کی جاں، پنجۂ مذموم سے نکلے
لاہور کی میت ہے ذرا دھوم سے نکلے

روتی ہوئی حسرت دلِ مغموم سے نکلے
واویلا کرو، بین کرو، اشک بہاؤ
لاہور کی میت ہے ذرا دھوم سے نکلے

[15 فروری، 2016]

ہفتہ، 18 اپریل، 2015

چین کدھر؟ یا پاکستان کا بایاں بازو کدھر؟

کل 17 اپریل کو میں ریاض صاحب سے ملنے گیا۔ ریاظ ، مصورہیں اور بیشترعلمی و ادبی کتابوں کے سرورق کھینچتے ہیں۔ وہ کہنے لگے، الحمرا (مال روڈ،لاہور) میں ڈاکٹر لال خان کی کتاب کی رونمائی کی تقریب ہے، اگرآپ نہیں چاہتے تو نہیں جاتے؛ورنہ چلتے ہیں۔ میں نے کہا، کوئی بات نہیں، چلتے ہیں۔ یہ تقریب الحمراہال تین میں تھی۔ ہم کوئی آدھ گھنٹے کی تاخیر سے پہنچے۔ تقریب کا آغاز ہو چکا تھا، اور جو صاحب سٹیج سنبھالے ہوئے تھے، جن کا نام بعد میں پتہ چلا آفتاب ہے، وہ کچھ کلمات ادا کر رہے تھے۔ انھوں نے کسی کو مدعوکیا، اورانھوں نے کسی اور کی ایک انقلابی نظم پڑھی۔


ایک بات جومجھے فوراً محسوس ہوئی، یہ تھی کہ بیٹھے ہوئے کوئی پچاس ساٹھ کے قریب، حاضرین کو بھی کامریڈ سمجھا اور کامریڈ کہہ کر مخاطب کیا جا رہا تھا۔ پھر کامریڈ عمران کمیانہ کو بلایا گیا۔ انھوں نے چین کے سوشلٹ انقلاب کوتہہِ تیغ کیا؛ بلکہ ماؤزے تنگ کو بھی دھو ڈالا۔ ان کا کہنا تھا کہ چینی انقلاب اصل میں قومی جمہوری انقلاب تھا، اورکیونکہ ماؤ پربہت دباؤ تھا، سو اسے سوشلسٹ انقلاب برپا کرنا پڑا، مگریہ سوشلسٹ انقلاب نہیں تھا۔ یہی وجہ ہے کہ یہ انقلاب، ردِ انقلاب بن گیا ہے؛ اس نے سرمایہ داروں کے ساتھ صلح کر لی ہے، اورچین کو امریکہ کی آغوش میں پھینک دیا ہے۔

پھرایک نظم پڑھی گئی۔ اور پھر کامریڈ آدم پال کو بلایا گیا، جن کی گفتگوشروع اس بات سے ہوئی کہ ان کے تاخیر سے آنے کی وجہ یہ تھی کہ چیرنگ کراس، مال روڈ پر ٹریفک رکی ہوئی تھی، کیونکہ وہاں چینی کمیونسٹ پارٹی کے کوئی عہدیدار آ رہے تھے، ان کا استقبال ہونا تھا۔ اورچینی صدر، جو کوئی پینتالیس ارب ڈالر کی سرمایہ کاری لا رہے ہیں، اس کا گیت گایا جانا تھا۔ ان کا یہ عذرسن کرمیں نے ریاظ صاحب کی طرف دیکھا، وہ بھی مسکرا دیے۔ کیونکہ وہاں تو کسی گاؤں کے دو ڈھائی سوکے قریب لوگ چارپائیوں پر لاشیں اٹھائے براجمان تھے، اور پولیس اور حکومت کے خلاف احتجاج کر رہے تھے۔ آج اخبار میں بھی یہی بتایا گیا ہے۔ یہ لوگ ننکانہ صاحب سے آئے تھے۔


کامریڈ آدم پال نے بھی چینی انقلاب کے بارے میں وہی کہانی اورتجزیہ پیش کیا، اور خاصے جوش وخروش کے ساتھ ۔ انھوں نے کچھ بہت اہم اورقاتل قسم کی مشابہتیں بھی سامنے رکھیں۔ جیسے کہ چینی کمیونسٹ پارٹی اور چینی حکومت کے عہدیداروں کی کرپشن (بدعنوانی) کا حجم، امریکی کانگریس کے امیرترین لوگوں سے بھی کہیں زیادہ ہے۔ شاید انھوں نے ہی یہ بھی بتایا کہ دنیا بھر میں سب سے زیادہ جسم فروشی چین میں ہو رہی ہے۔

کامریڈ قاضی سعید نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا، جو صحافی ہیں۔ کامریڈ الیاس خان نے انقلابی گفتگو فرمائی۔

سٹیج پر جہانگیر بدر بھی موجود تھے، اور بے چین و مضطرب سے تھے۔ کیونکہ ہر مقرر، پیپلز پارٹی کے لتے ضرور لیتا تھا، اور ان کی طرف باقاعدہ اشارہ کیا جاتا تھا۔ میں بھی ان سے توقیر صادق کا حال چال پوچھنا چاہتا تھا، مگر چپ رہا۔ جب انھیں بلایا گیا تو انھوں نے ازحد بے معنی ان انمل بے جوڑ گفتگو فرمائی، جو تمام کی تمام گریزاورکھسیانی بلی کھمبا نوچے کے مترادف تھی۔ اسی اثنا میں پیپلز پارٹی کے غلام عباس بھی آ چکے تھے، اور حاضرین کے ساتھ بیٹھے تھے۔ پھر انھوں نے آ کر جہانگیر بدر کی بھی اور پیپلز پارٹی سمیت آصف زرداری ٹولے کی خوب خبر لی ۔

آخرمیں صاحبِ کتاب، ڈاکٹر لال خان کو بلایا گیا، جن کا خاندانی نام تنویر گوندل ہے، اور جنھیں ایک ایم- بی- بی- ایس ڈاکٹر ہونا چاہیے، کیونکہ وہ راولپنڈی میڈیکل کالج میں پڑھا کرتے تھے؛ مجھے یہ درست معلوم نہیں کہ انھوں نے میڈیکل کی ڈگری حاصل کر لی تھی یا نہیں۔

یہاں میں بھی ایک مشابہت کی طرف توجہ دلانا چاہتا ہوں۔ جماعتِ اسلامی میں بھی ایسا ہی ہو گا، کیونکہ اسلامی جمیعتِ طلبہ میں تو ایسا ہی ہے کہ جب کسی کو”لیڈر“ بنانا مقصود ہو تو اس کا خاندانی نام تبدیل کر دیا جاتا ہے، اورکوئی بہت پرکشش نام رکھا جاتا ہے۔ ایم اے میں ہمارے ایک کلاس فیلو، جن کا نام رمضان ارشد جوئیہ تھا، جب انھیں طلبہ یونین کا انتخاب لڑانے کے لیے تیار کیا جانے لگا تو وہ ”رمضان ارشدجوئیہ“ سے ”منصورالاسلام“ ہو گئے۔ ڈاکٹر لال خان کے معاملے میں ایسا ہے،یا کیسا ہے، وہ خود بہتر بتا سکتے ہیں۔

لال خان نے بھی اپنی تقریر میں لگی بندھی باتیں کیں؛ ان کی تقریر بھی کوئی جلسے کی تقریر جیسی تقریر تھی۔

اس تقریب میں شامل ہونے سے ایک تو یہ واضح ہوا کہ پاکستان کے سوشلسٹوں نے چینی انقلاب سے لاتعلقی کا اظہار کر دیا ہے۔ بلکہ ماؤزے تنگ کو بھی ترک کر دیا ہے۔

پھر یہ گروہ، جو لال خان کی رہنمائی میں مجتمع ہے، خالص مارکس پسندی پر یقین رکھتا ہے۔ وہ اس انقلاب کے نام لیوا ہیں، ولادی میر لینن اور لیون ٹراٹسکی جس کے علم بردار تھے۔

بائیں بازو کا یہ گروہ، فاروق طارق کے گروہ، اور پھر بائیں بازوکے ان گروہوں سے جدا ہے، جو ”عوامی ورکرز پارٹی“ میں متحد ہیں۔ مجھے یاد ہے، جب میں ایک مرتبہ فاروق طارق سے ملا، تو وہ ایک اشاعتی ادارہ بھی قائم کیے ہوئے تھے اور ’’مزدور جدوجہد‘‘ نامی ایک رسالہ شائع کرتے تھے۔ لال خان کے گروہ کے اشاعتی ادارے کا نام اس سے تھوڑا مختلف ہے: طبقاتی جدوجہد پبلی کیشنز۔

لال خان کے گروہ کا یقین بھی یہی ہے کہ جب تک طبقات باقی ہیں، طبقاتی جدوجہد باقی ہے، اور جب تک طبقاتی جدوجہد باقی ہے، مارکس ازم باقی ہے۔

کتاب کی تقریب ختم ہوئی تو فیض احمد فیض کی شاعری گائی جانی تھی؛ ہم تو واپس چل پڑے۔ ہال کے دروازے پر ایک میز پر کتابیں رکھی گئی تھی، برائے فروخت۔ تقریب کے دوران میں میں نے ذہن بنا لیا تھا کہ مناسب قیمت ہوئی تو کتاب ”چین کدھر؟“ خرید لوں گا۔ لکھا ہوا موقف تو سامنے آ جائے گا۔ پہلے تو میں نے ساری کتابوں پر نظر ڈالی، اور یہ دیکھا کہ ان میں سے کتنی کتابیں، ترجمہ ہیں، کتنی اصل۔ کوئی ستر فیصد کتابیں ترجمہ تھیں۔ جو دوسری اصل کتابیں تھیں، وہ اسی طرح کی تھیں، جو چین یا روس سے تعلق رکھتی تھیں؛ پاکستان سے متعلق کوئی کتاب عنقا تھی۔ پھر ”چین کدھر؟“ کی قیمت پتہ کی تو پتہ چلا کہ اس کی قیمت پانچ صد روپے ہے، اور یہاں ڈھائی سو روپے میں مل سکتی ہے۔ میں نے قیمت زیادہ ہونے کی شکایت کی تو نوجوان کامریڈ نے کہا اس تقریب پر خرچ آیا ہے، وہ کیسے پورا ہو گا۔ میں نے کہا، ہم یہاں چندہ دینے تو نہیں آئے۔

جب ہم الحمرا کی طرف آ رہے تھے تو ریاض صاحب، اپنے موبائل فون کے ساتھ مصروف رہے، وہ کسی سے باتیں کر رہے تھے۔ واپسی پر وہ فارغ تھے۔ میں نے ان سے سوال نما باتیں شروع کر دیں:

اول: کامن سینس کہاں غائب ہو گئی ہے۔ مجھے بتائیے کہ یہ کتاب کی رونمائی کی تقریب تھی، یا پارٹی میٹنگ تھی، یا جلسۂ  عام تھا۔

دوم: بائیں یا دائیں بازوکے کسی اجتماع میں چلے جائیں، وہ سمجھتے ہیں کہ یہ پارٹی میٹنگ ہے، اور آپ ان کے پیروکار۔ یہاں بھی تمام حاضرین کو ” کامریڈ“ سمجھا جا رہا تھا۔ تقریب کے متنظمین نے اس بات پر کوئی توجہ نہیں دی کہ یہ کتاب کی تقریب ہے تو اسے کیسا ہونا چاہیے؛ اس میں تقریریں کیسی ہونی چاہییں؛ اس میں گفتگو کسی ہونی چاہیے۔ اس تقریب کا انداز کیسا ہونا چاہیے۔ کیا کسی کتاب کی رونمائی کی تقریب میں انقلابی نظمیں پڑھی جاتی ہیں، انقلابی جلسے والی تقریریں کی جاتی ہیں۔ یہ تقریب تو عجیب ملغوبہ تھی۔

سوم: ابتدا سے آج تک بائیں بازو نے، جن میں ہر طرح کے سوشلسٹ، کمیونسٹ، وغیرہ، شامل ہیں، کبھی پاکستان کے معاشرے اور یہاں کے لوگوں کے مسائل پر توجہ نہیں دی۔ وہ کلی طو ر پر سوشلسٹ نظریے کے آسیب میں گرفتار رہے ہیں۔ لال خان نے اپنی تقریر میں بتایا کہ انھوں نے 1989 میں روس پر ایک کتاب لکھی تھی، جس میں انھوں نے تین برس قبل پیشین گوئی کر دی تھی کہ روس ٹکڑے ٹکڑے ہو جائے گا، اور روس ٹکڑے ٹکڑے ہو گیا۔

لال خان نے اپنی تقریر کا اختتام جلسے کے انداز میں کیا۔ ویسے ان کی کل تقریر جلسے کی تقریر تھی۔ انھوں نے کہا: وہ دن دور نہیں، جب اندھیرے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے چھٹ جائیں گے۔ دکھ درد ہمیشہ کے لیے دور ہو جائیں گے۔ وہ دن دورنہیں، جب مزدوروں کی حکومت قائم ہو گی، اور استحصال ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائے گا۔

ایک آخری بات: سب مقررین کی گفتگو میں یہ بات مضمر تھی کہ روس اور چین کا انقلاب ناکام اس لیے ہوا کیونکہ پارٹی کی بیوروکریسی کی حکومتیں قائم ہو گئیں تھیں۔ سوال یہ ہے کہ مزدوروں، کسانوں کی براہِ راست حکومت کیونکر ممکن ہو گی؟ جو لوگ براہِ راست جمہوریت کے شیدائی ہیں؛ ان کا المیہ بھی یہی ہے۔ وہ بھی یہی کہتے ہیں کہ جب عام آدمی کی حکومت ہو گی، تب مسائل حل ہوں گے۔ کیا ایسا کبھی ممکن ہو سکتا ہے؟ اس سوال پرکسی نے دھیان نہیں دیا!

پاکستان کے بائیں بازو کے لوگ، مارکس اور مارکس پسندی کے عاشق ہیں، اور عاشق لوگ سودائی ہوتے ہیں، وہ حقیقت سے بےنیاز ہوتے ہیں، انھیں اپنی لیلیٰ سے کام سے کام اور سروکار ہوتا ہے، دنیا کچھ بھی کہتی، کچھ بھی کرتی رہے۔

پس نوشت: ایک اہم بات رہ گئی۔ متفقہ طور پر یہ بھی کہا گیا کہ نہ صرف چینی انقلاب معکوس ہو گیا ہے، بلکہ اس نے سامراج کا روپ بھی دھار لیا ہے!

بدھ، 19 نومبر، 2014

اشراف اور عوام کی تقسیم

الفاظ ہم خود بناتے، گھڑتے اور تراشتے ہیں۔ لیکن یہ بھی اتنا ہی سچ ہے کہ جواباً الفاظ بھی ہمیں بناتے، تراشتے اور بگاڑتے ہیں۔ جیسے ایک شعر میں بیان ہوا ہے: کھلتا کسی پہ کاہے کو دل کا معاملہ / شعروں کے انتخاب نے رسوا کیا مجھے۔ اور جیسے شاعر چاؤسر کا کہنا تھا:حکم نہ لگاؤ، کہیں تم پر حکم نہ لگ جائے۔ اسی طرح، الفاظ ہماری نمائندگی کرتے ہیں۔ یہ ہمارے عکاس ہوتے ہیں۔ یہ ہماری چغلی کھاتے ہیں۔ یہ ہمارے احساسات اور خیالات کو بے نقاب کرتے ہیں۔ الفاظ، ہماری دنیا اور ہماری زندگی کو بیان کرتے ہیں۔ یہ ہمیں زبان دیتے ہیں، یا یوں سمجھ لیجیے یہ ہماری زبان کو بولنا سکھاتے ہیں۔ الفاظ کے اندر تہذیب اور ثقافت کی تاریخ سموئی ہوتی ہے۔ یہ طرزِفکراور طرزِ حیات کی مٹھاس اور کڑواہٹ دونوں سے بھرے ہوتے ہیں۔ یہ زندگی دیتے بھی ہیں، اورزندگی لے بھی لیتے ہیں۔ یہ ایک علاحدہ وجود، اور جداگانہ زندگی کے حامل ہوتے ہیں۔ ہمیں انھیں احتیاط سے برتنا چاہیے۔ یہ نازک آبگینے اور خطرناک نشتر ہوتے ہیں۔

آئیے ابتداً اس کالم سے تعلق رکھنے والے دو لفظوں پر توجہ دیتے ہیں۔ اشراف، اور اجلاف۔ فیروزاللغات کے مطابق ”اشراف“ کا مطلب ہے: شریف کی جمع ؛ بھلے مانس لوگ۔ عالی خاندان؛ عالی نسب؛ ذی رتبہ؛ ذی عزت لوگ۔ مہذب اور شائستہ لوگ۔ اشراف پاؤں پڑے کمینہ سر چڑھے: (مثل) شریف تو اپنی شرافت کی وجہ سے نرمی کرتا ہے اورکمینہ سر چڑھتا ہے۔ اشراف وہ ہے جس کے پاس اشرفی ہے: اس زمانے میں اشراف مالدار کو ہی سمجھا جاتا تھا۔ اسی لغت میں ”اجلاف“ کا مطلب بھی دیکھتے ہیں: جلف کی جمع۔ کمینے؛ سفلے؛ شودر؛ ذلیل پیشوں کے لوگ۔ اشراف کی ضد۔ نوراللغات میں اشراف کا یہ مطلب درج ہے: وہ لوگ جن کا حسب و نسب اچھا ہو۔ اشراف سے کمینے ہیں برتر تو کیا ہوا / گوہر بزیرِ آب ہے بالائے یم حباب (اسیر)۔ مثال کے لیے دیکھو آگے کا مقولہ۔ اشراف پاؤں پڑے کمینہ سر چڑھے: کمینہ شریف کی نرمی اور خوشامد پر الٹا اور دلیر ہو جاتا ہے۔ اشراف پرست: صفت، بھلے مانسوں کی قدر کرنے والا۔ اجلاف: اشراف کی ضد۔ رذیل؛ کمینے۔ اب ”فرہنگِ آصفیہ“ کی باری ہے۔ اس میں ”اشراف“ کا مطلب یوں بیا ن ہوا ہے: بھلا مانس؛عالی خاندان؛ رئیس؛ عالی نسب؛ امیرزادہ؛ ذی رتبہ؛ ذی عزت؛ جنٹلمین۔ سیدھا؛ بے کپٹ؛ غریب؛ نیک۔ مہذب؛ شائستہ۔ اور”اجلاف“ کا مطلب ہے: کمینے؛ سفلے؛ کمین؛ فرومایہ؛ گھٹیل؛ شُدر۔

اگر ان الفاظ کے ماضی اور تاریخ کو کھنگالا جائے تو پوری ایک تہذیبی دنیا آئنہ ہو کر سامنے آ جائے گی۔ انسانی رشتوں اور طبقاتی حقیقتوں کی طلسمِ ہوشربا کاایک دفتر کھل جائے گا۔ باقی الفاظ کی طرح، اشراف اور اجلاف کے الفاظ بھی انسان اورا نسانی رشتوں کو بناتے، بگاڑتے اور ان کا تعین کرتے ہیں۔ انھوں نے انسانوں کو نہ صرف اشراف اور اجلاف بنایا، بلکہ انھیں اشرافی اور اجلافی دنیاؤں میں تقسیم بھی کیا اور قید بھی کیا۔ یہ تقسیم بہت حقارت آمیز اور یہ قید بہت صبر آزما تھی، اور کسی نہ کسی صورت میں ابھی تک جاری ہے۔ ایک طویل سعی و کوشش اور جد و جہد کے بعد، جس میں لاتعداد چھوٹے اور بڑے انقلابات شامل ہیں، خاصی حد تک اب یہ الفاظ ماضی کی یادگار بن کر رہ گئے ہیں۔ تاہم، ان کی باقیات کا اثر ابھی تک جوں کا توں موجود ہے۔ بلکہ ہوا یوں کہ اشراف اور اجلاف کا کچھ مفہوم کچھ دوسرے لفظوں میں منتقل ہو گیا۔ ”عوام“ کا لفظ، ان لفظوں میں نمایاں حیثیت رکھتا ہے، جو بعد ازاں، ”اشراف“ اور ”اجلاف“ کے جانشین قرار پائے۔

اشراف و اجلاف اور عوام کے الفاظ کے درمیان ربط و تعلق کو سمجھنے کے لیے، مذکورہ لغات میں ”عوام“ کے لفظ پر نظر ڈالتے ہیں۔ ”فیروزاللغات“ کے مطابق ”عوام“ کا مطلب ہے:عامہ کی جمع۔ عام لوگ؛ مخلوق۔ رعایا؛ پرجا۔ جہلا؛ جاہل آدمی؛ بازاری لوگ۔ عوام الناس: تمام آدمی؛ عام لوگ؛ بازاری آدمی۔ عوام کالانعام: عام لوگ مثلا چوپایوں کے ہیں۔ عوامی: عوام سے منسوب۔ عام لوگوں کی؛ جمہوری۔ ”نوراللغات“ میں ”عوام“ کا مطلب یوں بیان کیا گیا ہے:عام لوگ۔ خواص کا مقابل۔ عوام الناس: تمام لوگ۔ عام آدمی۔ بازاری آدمی۔ جاہل۔ ”فرہنگِ آصفیہ“ میں یہ مطلب درج ہے: عام لوگ؛ تمام آدمی؛ خلق اللہ؛ مخلوق۔ رعایا؛ پرجا۔ بازاری آدمی؛ جہلا؛ جاہل آدمی؛ ردواکھدوا۔ عوام الناس: عام لوگ۔ تمام آدمی۔ ہمہ شما۔

یوں نہ صرف الفاظ و لغات کی دنیا میں، بلکہ حقیقی دنیا میں بھی ایک طرف اجلاف اور عوام ہیں، اور دوسری طرف اشراف ہیں۔ یہ وہی تقسیم ہے، جسے حاکم اور محکوم کی تقسیم کا نام دیا جاتا ہے۔ تاریخِ انسانی میں یہ تقسیم کسی نہ کسی صورت میں ہمیشہ باقی و موجود رہی ہے۔ حتیٰ کہ آج کے جدید دور میں بھی، جبکہ ایک آئینی ریاست وجود رکھتی ہے، اشراف اور عوام کا یہ فرق اور امتیاز پہلے کی طرح جما کھڑا ہے۔ یہ غالباً انسانوں کے اندر سرایت کر گیا ہے، اور ان کے خون میں شامل ہو گیا ہے۔ یہی سبب ہے کہ بالخصوص ہر وہ شخص، جسے اجلاف یا عوام کے زمرے میں رکھ دیا جاتا ہے، یا وہ خود کواجلاف کے طبقے میں محصور پاتا ہے، اس کی ساری زندگی کی تگ و دو کا مرکز و محور یہ چیز بن جاتی ہے کہ کسی طرح وہ عوام میں سے نکل کر اشراف میں شمار ہو جائے۔ یہ ان دنوں کی بات ہے، جب پاکستان میں پہلی پہلی موٹر وے کا افتتاح ہوا تھا۔ ایک ٹی وی چینل کا رپورٹر اپنے کیمرے سمیت لاہور کی ایک سڑک پر موٹر وے کے بارے میں لوگوں کے تاثرات جاننے کی کوشش کر رہا تھا۔ وہ ایک کار چلاتے آدمی سے موٹر وے کے بارے میں سوال کرتا ہے۔ اس آدمی کا جواب مجھے آج تک یا دہے۔ وہ کہتا ہے: ”اس موٹر وے کا عوام کو تو کوئی فائدہ نہیں!“

اس آدمی کی رائے سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ کیونکہ وہ کار میں بیٹھا ہے، سو وہ تو اشراف میں سے ہے، اور موٹر وے کا فائدہ اشراف ہی کو ہے، جو کاروں کے مالک ہیں۔ فرض کریں اگر وہ آدمی ”کار“ کو اشراف کی پہچان نہ بھی سمجھتا ہو، پھر بھی اتنا تو واضح ہے کہ وہ خود کود عام لوگوں یا عوام میں نہیں، اشراف میں شمارکرتا ہے۔ بلکہ دیکھا جائے تو ہر آدمی جب بھی عوام کا لفظ استعمال کرتا ہے، وہ خود کو ”عوام“ میں سے علاحدہ کر لیتا ہے۔ یہ تو عام لوگوں کی بات ہے، جہاں تک خاص لوگوں کی بات ہے، یا وہ لوگ جوخود کو خاص سمجھتے ہیں، ان کا خیال ہے کہ وہ عام لوگوں سے یا عوام سے بلند اور ماورا ہیں۔ انھیں خواص سمجھ لیں۔ یہ خواص یا خاص لوگ کس طرح اور کیونکر بنتے ہیں، اس معاملے پر پھر کبھی بات ہو گی۔ یہاں صرف اشراف اور عوام کی تقسیم زیرِ بحث ہے۔

اب چونکہ پاکستان کے اشراف نے خود کو بالخصوص ریاست کے سر پر، یا ریاست کی قیمت پر، یا ریاست کی بدولت، خاص اور خواص بنایا، لہٰذا، پاکستان کا ہر فرد، بالخصوص، عام فرد، بے چارہ اسی تڑپ کا شکار بنا رہتا ہے کہ کسی نہ کسی طرح وہ ریاست سے وابستہ ہو جائے۔ ریاست سے اس کی وابستگی کا مطلب یہ ہے کہ وہ کسی نہ کسی طور، کسی نہ کسی سطح کے ریاستی اختیار و اقتدار کے ساتھ منسلک ہو جائے۔ یوں وہ خواص میں شمار ہو گا، اور اشراف بن جائے گا۔ اور جیسے ہی وہ کسی سطح کے ریاستی اختیار و اقتدار سے جڑتا ہے، وہ وہی کچھ کرنے لگتا ہے، جو وہ خواص اور اشراف کو کرتے دیکھتا رہا ہے۔ ان میں سب سے اہم چیز ہے، قانون سے انحراف۔ وہ خود کو قانون سے بلند اور ماورا سمجھنے لگتا ہے۔ یہ خاصیت، اشراف کی پرانی باقیات میں سے ہے۔ اشراف کے قدیم طبقات خود قانون ہوتے تھے؛ وہ خود قانون کی پیروی کیونکرکر سکتے تھے۔

اشراف کے موجودہ طبقات بھی اسی سوچ اور فکر کے حامل ہیں۔ پرانے اشراف کی طرح، آج کے جدید اشراف بھی اسی زعم میں مبتلا ہیں کہ وہ ’عالی خاندان؛ عالی نسب؛ ذی رتبہ؛ ذی عزت لوگ۔ مہذب اور شائستہ لوگ؛ اور رئیس؛ امیر زادے؛ جنٹلمین‘ ہیں۔ جبکہ وہ پرانے اشراف کی طرح، عام لوگوں کو کمینے، سفلے، شودر، ذلیل پیشوں کے لوگ؛ رذیل؛ کمینے؛ سفلے؛ کمین؛ فرومایہ؛ گھٹیل‘ سمجھتے ہیں۔ یہی سبب ہے کہ عام لوگ، اشراف بننے کی جھوٹی جدوجہد میں اپنی ساری زندگی ضائع کر دیتے ہیں، تاکہ وہ بھی اشراف بن کر عالی خاندان، عالی نسب، ذی رتبہ، ذی عزت، مہذب، شائستہ، رئیس، امیر زادے اورجینٹلمین بن جائیں! پاکستان کے عام لوگوں، نچلے طبقات، اور خاص طو پر متوسط طبقے اور اس کی مختلف پرتوں سے تعلق رکھنے والے لوگوں کی زندگی بیشتر اسی کوشش سے عبارت ہے۔ وہ اپنی زندگی نہیں، بلکہ پاکستانی اشرافیہ کی زندگی جینے کی کوشش میں جھوٹی زندگی جی رہے ہیں۔ پاکستان کے لوگوں کو اس جھوٹی تقسیم کے طلسم سے باہر نکلنا چاہیے، اور اپنی اصل زندگی کی طرف لوٹنا چاہیے۔ یہ زندگی ان کے انتظار میں ہے! 

نوٹ: یہ کالم 26 جون، 2013 کو روزنامہ مشرق پشاورمیں شائع ہوا۔

ہفتہ، 14 جون، 2014

سقراط پر ایک غیر سقراطی کتاب

سقراط
ازعائشہ اشفاق نور
الحمد پبلی کیشنز، لاہور، 2014

مختصر جائزہ :

[نوٹ: عائشہ اشفاق نور کی کتاب ’’سقراط‘‘ کا یہ جائزہ جون 14 کو لاہور میں جدت ریسرچ اینڈ پبلی کیشنز کے تحت منعقدہ کتاب کی تقریبِ پذیرائی میں پڑھا گیا۔]

اس مختصر جائزے میں کچھ نکات اور معاملات کی طرف توجہ دلانا مقصود ہے۔

1۔ سقراط ان یونانی فلاسفہ میں سے ہے، جو جس فلسفے پر یقین رکھتے تھے، اپنی زندگی بھی اسی کے مطابق گزارتے تھے۔ اس مفہوم میں یہ کتاب ”عظیم یونانی فلسفی کی داستانِ حیات“ سے بڑھ کر ”سقراط کی داستانِ فکروحیات“ ہے۔ یعنی سقراط کی حیات کا بیان، اس کی فکر کے بیان سے جدا نہیں۔

2۔ اردو میں سقراط پر جامع کتب غالباً دستیاب نہیں۔ ایک کتاب کا ذکر خود مصنفہ نے بھی کیا ہے، وہ ہے سقراط پر ڈاکٹر منصورالحمید کی کتاب ”سقراط“، جس سے انھوں نے استفادہ بھی کیا ہے۔ مجھے یاد پڑتا ہے ڈاکٹر منصورالحمید کی کتاب، نوے کی دہائی میں شائع ہوئی تھی۔ ابھی کچھ سال قبل یہ کتاب اضافوں کے ساتھ دوبارہ شائع ہوئی ہے۔ یوں، مصنفہ کی کتاب ایک اچھا اضافہ کہی جا سکتی ہے۔ یہ سقراط کی حیات اور فکر کا ابتدائی اور عمومی تعارف مہیا کرتی ہے۔

3۔ مجھے یاد پڑتا ہے کہ ڈاکٹر منصورالحمید سقراط کو ایک پیغامبر ٹھہرانا چاہتے تھے۔ مصنفہ نے بھی اس معاملے کا ذکر کیا ہے، اور یہ دکھانا چاہا ہے کہ سقراط کسی الہامی طاقت سے معمورتھا، جیسا کہ خود سقراط بھی اس نوع کا دعویٰ کرتا دکھایا گیا ہے؛ گو کہ انھوں نے اس بات پر زور نہیں دیا ہے اور صاد بھی نہیں کیا ہے۔ یہاں محض اتنا کہنے پر اکتفا کیا جائے گا کہ خود سقراط کی یہ حیثیت اور اس کا منہاج، جو اس کے فلسفے کی روح بھی ہے، ایک دوسرے سے میل نہیں کھاتے۔ سقراط کا منہاج، مکالماتی اور تحقیقی ہے، الہامی، کشفی یا وجدانی قطعاً نہیں۔ یہ بات عیاں ہے کہ سقراط ، صداقت کی تحقیق و تلاش کا سبق دیتا ہے، صداقت کو ایک بنی بنائی شے کے طور پر پیش نہیں کرتا۔ اس کا فلسفہ بنیادی طور پر علمیات کی اخلاقیات کی تشکیل کے ابتدائی کام پر مشتمل ہے۔

4۔ جیسا کہ ذکر ہوا، زیرِ نظر کتاب، سقراط کا ابتدائی تعارف پیش کرتی ہے، یہ کوئی تحقیقی کتاب نہیں۔ تاہم، ابتدائی کتاب کے لیے بھی یہ ضروری ہوتا ہے کہ اس کی تالیف میں، جن کتب سے مدد لی جاتی ہے، ان کی تفصیل آخر میں مہیا کر دی جائے۔

= مصنفہ نے کتاب میں مختلف مصنفین اورمحققین کا ذکر کیا ہے، جیسے کہ ڈبلیو- کے- سی- گدری، جنھوں نے چھ جلدوں میں یونانی فلسفے کی تاریخ لکھی۔

= پھر ایڈولف ہولم سے استفادہ کیا گیا ہے، اور انھیں عورت بتایا گیا ہے؛ یہ کتابت کا سہو ہوسکتا ہے (بلکہ تذکیر و تانیث کا سہو کئی مقامات پر موجود دیکھا جا سکتا ہے)۔ ایڈولف ہولم مرد ہیں، اورایک جرمن مورخ، اور انھوں نے چار جلدوں میں یونان کی تاریخ لکھی۔

= پھرڈاکٹر منصورالحمید کی کتاب سے استفادہ کیا گیا ہے، اور گو کہ یہ ایک تحقیقی کتاب ہے، مگراس سے مدد لینا مناسب نہیں تھا۔ مراد یہ کہ جو کتاب خود متعدد مستند کتابوں سے استفادے پر مشتمل ہو، اس پر انحصار بامعنی نہیں کہا جا سکتا۔ جبکہ عالمی ویب پر قریب قریب تمام کتب دستیاب ہیں۔

= اسی طرح ڈاکٹر نعیم احمد کی کتاب، ”تاریخِ فلسفۂ یونان“ کا معاملہ ہے۔ کسی ابتدائی سطح کی کتاب کے لیے بھی اسے ماخذ بنانا مناسب نہیں۔ اور ایسے میں جبکہ لاتعداد مستند ماخذ باآسانی دستیاب ہوں۔

= مناسب تھا کہ ان تمام کتب کا ذکر آخر میں کتابیات کے تحت کر دیا جاتا، جن سے اس کتاب کی تیاری میں مدد لی گئی۔

5۔ کتاب کے صفحہ 127 پرکنفیوشس کا ایک قول نقل کیا گیا ہے۔ جب کنفیوشس سے پوچھا گیا کہ اگر اسے حکومت کی ذمے داریاں سونپی جائیں تو وہ سب سے پہلا کام کیا کرے گا۔ اس کا جواب تھا: ’میں سب سے پہلے زبان کی اصلاح کروں گا۔‘

خود میں بھی کچھ اسی طرح کی رائے رکھتا ہوں، اور یہ سمجھتا ہوں کہ ہم جس ہمہ گیر بحران کا شکار ہیں، ہماری زبان بھی اس کی لپیٹ میں ہے؛ اور زبان پر توجہ اس بحران سے نبردآزما ہونے کے ضمن میں نہایت اہمیت کی حامل ہے۔ سو، اب کچھ باتیں کتاب کی زبان و بیان کے بارے میں۔ یہاں زبان و بیان کا معاملہ یوں بھی اہم ہو جاتا ہے کہ فلسفے پر لکھنا، یا کسی فلسفی کے فلسفے پر لکھنا ذمے داری کا بھاری پتھر اٹھانے کے مترادف ہے۔

= کسی بھی کتاب میں کتابت کی غلطیاں بہت کھلتی ہیں۔ اور اگر یہ کتاب فلسفے یا کسی فلسفی کے فلسفے سے تعلق رکھتی ہوتو یہ غلطیاں کچھ زیادہ نمایاں ہو جاتی ہیں۔ اور یہ بات بھی صاف ہے کہ ان کی ذمے داری مصنف پرآتی ہے، ناشر یا کاتب پر نہیں۔ یہاں صرف چند ایک کی نشاندہی کافی ہو گی: کئی جگہ دَورکو پیش کے ساتھ دُور لکھا گیا ہے (ص: 12، 15،20)۔ ٹروجن جنگ کو لڑوجان لکھا گیا ہے (ص:26)۔ وغیرہ۔

= زبان و بیان کے ضمن میں کچھ تراکیب کی طرف اشارہ کرنا مناسب ہوگا۔ صفحہ 192 پر باب کا عنوان ہے: ”عدالت میں سقراط“؛ جبکہ اسے بغیر کسی تردد کے ”سقراط عدالت میں“ لکھاجا سکتا تھا۔ صفحہ 48 پر باب کا عنوان ”ممدوحینِ سقراط“ باندھا گیا ہے۔ اس سے کیا مراد ہے، یہ سمجھنا مشکل ہے۔ اس کا عنوان ”مداحینِ سقراط“ ہوتا تو بات بن جاتی۔ مگر اس باب میں سقراط کے مخالفین کا ذکر بھی موجود ہے؛ لہٰذا، اس باب کا عنوان کچھ اور ہونا چاہیے تھا۔

= جہاں تک اصطلاحات کا تعلق ہے، گو کہ یہ کوئی بڑا اختلافی معاملہ نہیں، پھر بھی ایک اصطلاح کی طرف توجہ دلانا ضروری ہے۔ Scepticism کے لیے ارتیابیت کی اصطلاح استعمال کی گئی ہے۔ یہ قریب قریب مفقود الاستعمال ہے۔ جبکہ اس کی جگہ تشکیک کا استعمال عام ہے۔ پروفیسر شیخ منہاج الدین کی ”قاموس الاصطلاحات“ (مغربی پاکستان اردو اکیڈمی، لاہور، بار اول 1965؛ بار دوم 1982) میں یہ تراجم دیے گئے ہیں: مذہبِ شکاکیون، شکاکیت، لاادریت، شک پرستی۔ ہاں، فرہنگِ اصطلاحاتِ جامعہ عثمانیہ، جلد دوم، مرتبہ جمیل جالبی (مقتدرہ قومی زبان، اسلام آباد، طبع اول 1993) میں ارتیابیت کی اصطلاح دی گئی ہے۔ اور مجھے یاد پڑتا ہے، مولانا عبدالماجد دریابادی اور مولانا نیاز فتح پوری دونوں تشکیک کی اصطلاح استعمال کرتے ہیں۔ ارتیابیت کے مقابلے میں تشکیک کی اصطلاح زیادہ قابلِ فہم ہے؛ اس کا انتخاب مناسب رہتا۔

= متعدد مقامات پر کتابت کی اغلاط نے جملوں کو بگاڑ دیا ہے، اور ان کے معانی سمجھنا ممکن نہیں رہا۔ جیسے کہ: ایڈولف ہولم مزید لکھتی ہیں کہ یونانیوں کے ہاں اخلاق اور زہد و تقویٰ دونوں چیزیں موجود تھیں اور یہ کسی مافوق الفطرت ہستی کے احکامات کو ماننے کی وجہ سے ہرگز نہیں تھیں بلکہ دراصل ان کے باہمی معاملہ داری مظاہرے پر تھی جیسے فطرتاً ہر شخص محسوس کرتا تھا۔“ (ص: 18)

= کچھ مقامات پر مصنفہ کے بیانات میں تضاد بھی موجود ہے۔ سقراط کے خد و خال کے ضمن میں افلاطون کی شہادت کے تحت لکھا گیا ہے: اس کی آنکھیں مینڈک کی آنکھوں کی طرح باہر نکلی ہوئی تھیں۔ (ص:61) جبکہ فوراً بعد یہ بیان دیا گیا ہے: اس کا قد چھوٹا، آنکھیں اندر کی جانب دھنسی ہوئی تھیں۔ (ص:62)

= متعدد مقامات پر غیر ضروری تکرار جگہ پا گئی ہے، جبکہ اس سے بچا جاسکتا تھا: صفحات 38 – 39 پر یونانی شہری ریاستوں کی اقسام بیان کی گئی ہیں۔ پھر صفحہ43 پر ان ہی سطورکو دوبارہ نقل کیا گیا ہے۔ تکرار کی ایک اور مثال صفحات 52 اور 55 پر بھی موجود ہے۔

6۔ امید ہے اوپر جن نکات اور معاملات کی نشاندہی کی گئی ہے، انھیں خوشدلی سے دیکھا جائے گا۔ ان کی نشاندہی کے پیچھے یہی مقصد کارفرما ہے کہ ایک عام فہم کتاب، جو سقراط کی زندگی اورفکر کا تعارف ضروری تفصیل کے ساتھ بیان کرتی ہے، اس کی خوبیاں اور زیادہ عیاں ہو کر سامنے آ سکیں۔ اور قارئین شاعری کے سقراط سے آگے بڑھ کر فلسفی سقراط کی زندگی اور تعلیمات دونوں سے بہتر واقفیت حاصل کر سکیں۔

7۔ تاہم، آخر میں ایک اور بات کی طرف توجہ دلانا چاہوں گا۔ ضروری ہے کہ ہم اب ابتدائی اور تعارفی نوعیت کی کتابوں کی تصنیف و تالیف سے آگے بڑھیں۔ اور جیسا کہ سرسید کا کہنا تھا، چند کتابوں کی مدد سے ایک نئی کتاب لکھنے سے درگزریں، اور ان مباحث کو چھیڑیں اورسنجیدہ غوروفکر کی طرح ڈالیں، جن سے ہم اور ہمارا وجود، دوچار ہے۔ تاہم، اس سے انکار ممکن نہیں کہ یہ کام سقراط کی حیات و فکر کو بیان کرتے ہوئے بھی کیا جاسکتا تھا۔

جیسا کہ پاکستان ایک اخلاقی بحران کے بھنور میں گرفتار ہے؛ یہاں اخلاقی مباحث کو مہمیز کرنا اشد ضروری ہے۔ کیونکہ اخلاقیات ہی کسی معاشرے کے ستونوں کی بنیاد ہوتی ہے۔ اور اس کے ساتھ سیاسی نظریہ، ریاستی نظریہ، معاشرتی نظریہ، معاشی نظریہ؛ یعنی سیاست کیا ہے، ریاست کیا ہے، معاشرہ کیا ہے، اور معاشیات کیا ہے؛ ایسے معاملات ہیں، جو ناگزیر طور پر سنجیدہ توجہ کے متقاضی ہیں۔ اورصرف فلاسفہ نہیں، بلکہ جو لوگ غور و فکر اور لکھنے پڑھنے سے شغف رکھتے ہیں، ان کا فرض بنتا ہے کہ اپنی فکری توانائیاں ان معاملات پر مرکوز و مرتکز کریں۔ زندگی کی روزمرہ تگ و دو کو فلسفیانہ اقلیم میں جا کر ہی سمجھا اورسلجھایا جا سکتا ہے؛ کیونکہ فلسفے کا سرچشمہ، مسائل و معاملات کی تفہیم اوران کے تصفیے کی جدوجہد سے عبارت ہے۔

شکریہ!