منگل, فروری 25, 2014

’’طالبان کی اصلیت‘‘

گذشتہ روز ’’جنگ‘‘ میں شاہین صہبائی کا کالم، ’’طالبان کی اصلیت‘‘ شائع ہوا۔ آپ بھی پڑھیے اور طالبان کا ذکر تو علاحدہ ہے، طالبان کے ہمدردوں اور حامیوں کے بارے میں سوچیے کہ وہ کیا چاہتے ہیں، اور کس برتے پر طالبان کے نمائندے بنے ہوئے ہیں۔ طالبان کے حامیوں میں اب جماعتِ اسلامی بازی لے گئی ہے، اور عمران خان اور تحریکِ انصاف پیچھے رہ گئی ہے۔ دیکھیں طالبان کے مقدر میں جو کچھ لکھا ہے، کیا جماعتِ اسلامی کا مقدر اس سے متاثر ہو گا یا ںہیں!

[روزنامہ جنگ، 24 فروری، 2014] 

خود مختار پارلیمان کی بالادستی بالآخر قائم ہو گئی!

یہ پوسٹ ایک گذشتہ پوسٹ، ’’پارلیمانی بالادستی کا ڈھونگ ـ ایک تازہ مثال‘‘ سے جڑی ہوئی ہے۔

اصل میں چیئرمین سینیٹ ایران کے دورے پر چلے گئے، اور یوں پارلیمان کی بالادستی قائم ہو گئی۔

پارلیمان کی بالادستی کی تصویر دیکھیے۔ کتنی زبردست تصویر ہے، کتنے شاندار سوٹ میں ملبوس ہے پارلیمان کی بالادستی:

یہ تصویر 20 فروری کے بزنیس ریکارڈر میں بھی چھپی ہے، اور سینیٹ کی ویب سائیٹ پر بھی دستیاب ہے۔


ہفتہ, فروری 22, 2014

میری نئی اردو کتاب، ’’پاکستانی کشاکش‘‘ کی اشاعت اور اجرا

میری نئی اردو کتاب، ’’پاکستانی کشاکش‘‘ شائع ہو گئی اور اے ـ ایس ـ انسٹیٹیوٹ، لاہور نے آج اس کا اجرا کر دیا ہے۔ اس ضمن میں میڈیا ریلیز ملاحظہ کیجیے:

میڈیا ریلیز:

نئی اردو کتاب، ’’پاکستانی کشاکش‘‘ کی اشاعت اور اجرا


لاہور، فروری 22، 2014: آلٹرنیٹ سالوشنز انسٹیٹیوٹ (اے ـ ایس ـ انسٹیٹوٹ) نے آج ڈاکٹر خلیل احمد کی نئی کتاب، ’’پاکستانی کشاکش: تحلیل و تعدیل اور آگے بڑھنے کاراستہ‘‘ کا اجرا کر دیا ہے۔

کتاب پاکستانی ریاست اور سوسائیٹی کے موجودہ بحران کا تجزیہ بالخصوص اس تناظر میں کرتی ہے کہ پاکستانی ریاست اور سوسائیٹی دونوں نے پاکستان کے عام شہریوں کی جان و مال اور ان کے حقوق کو لاحق وحشیانہ خطرات کا مقابلہ کرنے کے ضمن میں کیا رویہ اختیار کیا ہے۔ کتاب سیاست دانوں اور سیاسی پارٹیوں کے مشکوک کردار پر بھی توجہ دیتی ہے کہ انھوں نے اپنی سرپرستی میں مجرمانہ تنظیموں کو شہریوں کے آئینی حقوق غصب کرنے کی آزادی فراہم کی۔ کتاب اس نتیجے کو سامنے لاتی ہے کہ ریاست اور سیاسی پارٹیاں دونوں پاکستان کے شہریوں کی جان و مال اور ان کے حقوق اور آزادیوں کا تحفظ کرنے میں ناکام ہو چکی ہیں، پاکستان کا آئین جن کی ضمانت دیتا ہے۔

ایک صریح تجزیے کے بعد کتاب مشوش اور روشن خیال شہریوں کے سامنے ایک نئی سیاسی پارٹی قائم کرنے کی تجویز پیش کرتی ہے، جو یک نکاتی ایجینڈے پر منظم ہونی چاہیے۔ یہ یک نکاتی ایجینڈا ہے: بہرطور بہرحال شہریوں کی جان و مال اور ان کے حقوق کا تحفظ، کسی فرق اور کسی امتیاز کے بغیر۔ مزید یہ کہ مجوزہ نئی سیاسی پارٹی کو اپنے یک نکانی ایجینڈے کے حصول کے لیے ہر قسم کی نظریاتی زنجیروں اور بوجھ کو ترک کر کے اخلاقی اور آئینی بنیادوں پر منظم ہونا چاہیے۔

کتاب کے اجرا کے موقعے پر مصنف ڈاکٹر خلیل احمد نے اس امید کا اظہار کیا کہ اگر نئی پارٹی مجوزہ یک نکاتی ایجینڈے پر متوجہ رہتی اور اخلاقی اور آئینی تقاضوں کو سامنے رکھ کر کام کرتی ہے تو پاکستان کی ریاست اور سوسائیٹی دونوں کو اس خود کش بحران سے باہر لانا کوئی مشکل نہیں ہو گا۔

یاد رہے ڈاکٹر خلیل احمد کی کتابیں سنجیدہ علمی مباحثے کو تحریک دے رہی ہیں۔ ان کی اہم کتابوں میں ’’پاکستان میں ریاستی اشرافیہ کا عروج‘‘، ’’سیاسی پارٹیاں یا سیاسی بندوبست: پاکستانی سیاست کے پیچ وخم کا فلسفیانہ محاکمہ‘‘ اور ’’چارٹر آف لبرٹی‘‘ (’’میثاقِ آزادی‘‘) شامل ہیں۔

کتاب: پاکستانی کشاکش: تحلیل و تعدیل اور آگے بڑھنے کا راستہ
مصنف: ڈاکٹر خلیل احمد
صفحات: 40
قیمت: 65 روپے

کتاب درج ذیل اداروں سے حاصل کی جا سکتی ہے:

لاہور:
سچیت کتاب گھر، F-11، شرف مینشن، 16 کوئینز روڈ، چوک گنگا رام ہسپتال، لاہور
فون: 042-3630 8265  ای میل: suchet2001@yahoo.com

اسلام آباد:
سعید بُک بینک
الرحمان سینٹر، F-7 مرکز، جناح سپر، اسلام آباد
فون: 92-51-2651656, 57, 58 (3 Lines)  فیکس: 92-51-2651660



مزید معلومات کے لیے، رابطہ کیجیے: info@asinstitute.org

بدھ, فروری 5, 2014

پارلیمانی بالادستی کا ڈھونگ ـ ایک تازہ مثال

روزانہ اخبار دیکھتے ہوئے درجنوں ایسے معاملات نظر سے گزرتے ہیں، جن کی نشاندہی کرنے کو جی چاہتا ہے؛ جن پر لکھنے اور ان کے پیچھے چھپی کہانیوں کو بے نقاب کرنے کو دل چاہتا ہے۔ اور پاکستان کی ریاستی اشرافیہ اور طفیلیے سیاست دان، جو گل کھلاتے رہتے ہیں، ان پر خانہ فرسائی ضروری خیال کرتا ہوں۔ مگر اور بہت سے اہم اور ضروری معاملات توجہ چاہتے ہیں، اور میں ان پر مرتکز رہتا ہوں، اور چاہتا ہوں کہ ان روزانہ کی گل فشانیوں سے قطع نظر کر کے کچھ قابلِ قدر کام کروں۔

یوں بہت کچھ ایسا ہے، جسے کڑے دل کے ساتھ، اس پر بغیر کچھ کہے، بغیر کچھ لکھے، چھوڑنا پڑتا ہے۔ تاہم، بعض اوقات ایسا کچھ سامنے آ جاتا ہے کہ صبر نہیں ہوتا، اور احتیاط کا دامن ہاتھ سے چھوٹ جاتا ہے۔
آج ایسا ہی ایک معاملہ درپیش ہے۔

درج ذیل خبر ملاحظہ کیجیے، اور روئیے پاکستان کے مقدر کو جہاں ریاستی اشرافیہ کے نخرے شہزادوں سے بھی بڑھ کر ہیں، اور جہاں، دیکھیے اور سر دھنیے، کہ پارلیمانی بالادستی کا ڈھونگ کس طرح  رچایا جا رہا ہے۔


[روزنامہ جنگ، لاہور، 5 فروری، 2014 ]

اگر چیئرمین سینیٹ تہران کانفرینس میں شرکت نہ کرنے جائیں تو کیا اس سے پارلیمانی بالادستی کو زک پہنچے گا! جبکہ انھوں نے وہاں سیر کرنے کے علاوہ کیا کرنا ہے جا کر۔ اور ان کے اس دورے سے پارلیمان کی بالادستی کا کیا تعلق بنتا ہے! دفترِ خارجہ نے اپنی ذمے داری نبھائی اور جو ان کا کام بنتا ہے، اسے پورا کیا؛ یعنی انھوں نے ایران اور دنیا کے بیچ جو تنازعہ چل رہا ہے، اس کے پیشِ نظر چیئرمین کو مشورہ دیا ہو گا کہ وہ تہران نہ جائیں۔ اور اگر ایسا نہیں ہے، تو بھی اس معاملے کا پارلیمان کی بالادستی سے کوئی تعلق نہیں۔ کیا پارلیمانی بالادستی چیئرمین کے دوروں کے ساتھ جڑی ہوئی ہے۔ یا اس کا تعلق اپنی مرضی سے جہاں چاہو دورہ کرو، جو چاہے کرو، جیسے اختیار سے ہے!

مزید یہ کہ سیکریٹری خارجہ بھی بزدل افسر ثابت ہوئے اور نہ صرف چٹھی واپس لے لی، بلکہ معذرت بھی کی۔ اگر وہ چمچہ صفت نہ ہوتے، اور اپنے فرائض کا درست احساس رکھتے تو نہ تو معذرت کرتے، نہ چٹھی واپس لیتے۔ انھوں نے اپنا، یعنی دفترِ خارجہ کا فرض پورا کر دیا تھا اور اس پر قائم رہتے۔ آگے چیئر مین سینیٹ کی مرضی، وہ جاتے یا نہ جاتے۔ مگر پاکستان میں ایسے افسروں کا کال ہے، بلکہ ایسے انسان ناپید ہیں، جو باضمیر اور اپنے فریضے کے ساتھ مخلص اور دیانت داری سے اسے نبھانے والے ہوں۔ پھر یہ بھی کہ اخلاقی جرأت کے حامل بھی ہوں۔

اور پھر یہ حقیقت اپنی جگہ موجود ہے کہ پاکستان میں پارلیمانی خود سروں کو روک کون سکتا ہے! یہ بے اصولے اور مطلق العنان خصلت کے لوگ ہیں۔ یہ آئین، قانون اور ریاستی اداروں کو اپنے تابع سمجھتے ہیں۔ خود کو بادشاہ اور کسی کو جوابدہ نہیں سمجھتے۔

آخراً یہ کہ اگر چیئرمین سینیٹ کو تہران کے دورے سے روکنے کا مشورہ دینا پارلیمانی بالادستی میں ایگزیکٹو (انتظامیہ) کی مداخلت ہے، تو پھر نہ صرف دفترِ خارجہ کو لپیٹ دینا چاہیے، بلکہ تمام سرکاری دفاتروں، وزارتوں اور محکموں کو بھی ختم کر دینا چاہیے۔ یوں نہ رہے گا بانس، نہ بجے کی بانسری۔ یعنی نہ ایگزیکٹو (انتظامیہ) رہے گی، نہ پارلیمانی بالادستی میں کوئی مداخلت کرے گا۔ بس پارلیمان اپنی بالادستی کے محل میں تنہا بیٹھ کے ڈنڈے بجایا کرے گی!