اتوار، 29 ستمبر، 2013

ایبٹ آباد کمیشن رپورٹ: غلط سوال، صحیح جواب

نوٹ: رپورٹ ڈاؤن لوڈ کیجیے: ایبٹ آباد کمیشن رپورٹ


[یہ تصویر الجزیرہ کی ویب سائیٹ سے لی گئی ہے۔]

پاکستان کے قیام کے ساتھ ہی واقعات کا ایک ایسا سلسلہ شروع ہوا, جو بالآخر لاہور میں مارشل لا کے نفاذ پر منتج ہوا۔ یہ1954-1953  کی بات ہے۔ پہلی پہلی تحقیقاتی عدالت قائم ہوئی، جو دو معزز و محترم جج حضرات پر مشتمل تھی۔ جسٹس محمد منیر اس عدالت کے صدر اور جسٹس ایم- آر کیانی واحد رکن تھے۔ انھوں نے تحقیق کی اور تحقیق کا حق پورا پورا ادا کیا۔ پھر رپورٹ لکھی، اور کیا خوب رپورٹ لکھی۔ چونکہ ابھی حکومت اور اربابِ اختیار و اقتدار نے عیاری و مکاری کے سبق نہیں سیکھے تھے، اور یہ یقین رکھتے تھے کہ ہر کوتاہی اور مجرمانہ غفلت کے لیے وہ شہریوں کو جواب دہ ہیں، لہٰذا، یہ رپورٹ من و عن شائع کر دی گئی۔ نہ صرف اصل انگریزی رپورٹ، بلکہ سرکار کی طرف سے مستند اردو ترجمہ بھی شائع کیا گیا۔ پاکستانی حکومت کی یہ پہلی اور آخری رپورٹ تھی، جو عام شہریوں تک قانونی انداز میں پہنچی۔ اس کے بعد دو بڑے سانحات کی رپورٹیں غیر قانونی انداز میں افشا ہوئیں۔ پہلی رپورٹ، حمود الرحمٰن کمیشن رپورٹ تھی، جس کے متعدد حصے اول اول ہندوستان کے ایک اخبار نے شائع کیے۔ دوسری رپورٹ، حالیہ ایبٹ آباد کمیشن رپورٹ ہے۔ حکومت نے ابھی تک اسے شائع نہیں کیا ہے۔ جبکہ الجزیرہ ٹی - وی چینل نے اسے افشا کر دیا ہے۔ حکومت کا موقف ہے کہ یہ اصل رپورٹ نہیں، تاہم ، حکومت اصل رپورٹ کب عام کرے گی، اس بارے میں کچھ بھی کہنا ناممکن ہے۔ ہاں ،اتنا ضرور ہے کہ افشا ہونے والی ایبٹ آباد کمیشن رپورٹ، خاصی حد تک مکمل رپورٹ معلوم ہوتی ہے۔

جب سے یہ رپورٹ افشا ہوئی ہے، ٹی- وی چینلز اور اخبارات میں اس پر بحث جاری ہے۔ اس رپورٹ کے بارے میں بالعموم ناپسندیدگی کا اظہار کیا گیا ہے۔ جب تک میں نے اسے پڑھا نہیں تھا، میں بھی یہی رائے رکھتا تھا۔ مطالعے کے بعد میری رائے یکسر تو نہیں، مگر بہت زیادہ تبدیل ہو گئی ہے۔ اوپر جن رپورٹوں کا ذکر ہوا، ان سب کا مطالعہ ہر اس پاکستانی کے لیے ناگزیر ہے، جو پاکستان کے مستقبل کے بارے میں تشویش رکھتا ہے۔ یہ تینوں رپورٹیں ہزاروں کتابوں سے کہیں زیادہ علمیت اور بصیرت کی حامل ہیں۔ جسٹس منیر انکوائری رپورٹ کا مطالعہ انتہائی ضروری ہے۔ یہ رپورٹ نہ صرف انٹرنیٹ پر دستیاب ہے، بلکہ اسے ایک نجی ادارے نے ایک بار پھر شائع کر دیا ہے، اور یہ مارکیٹ میں بھی دستیاب ہے۔ حمودالرحمٰن کمیشن رپورٹ کا جو ورشن انٹرنیٹ پر موجود ہے، وہ رپورٹ کا صرف ضمنی حصہ ہے۔ اس رپورٹ کو بھی پاکستان کا ایک بڑا اشاعتی ادارہ شائع کر چکا ہے، مگر غالباً اب یہ مارکیٹ میں دستیاب نہیں۔ خود میں بھی یہی ضمنی رپورٹ دیکھ سکا ہوں۔ مگر یہ ضمنی حصہ بھی مکمل رپورٹ کے جوہر سے آگاہی مہیا کردیتا ہے۔

اب آتے ہیں اس تیسری رپورٹ کی طرف، جسے حکومت تو اخفا میں رکھنا چاہتی ہے، مگر یہ پھر بھی حمودالرحمٰن کمیشن رپورٹ کی طرح افشا ہو گئی ہے۔ حکومت کی یہ نااہلی ہم عام شہریوں کے لیے رحمت کا باعث ہے۔ وگرنہ ہم بے چارے یہ دونوں رپورٹیں، اور کارگل سے متعلق رپورٹ بھی، کبھی دیکھ نہ پاتے۔ اور یوں ہم بے چارے عام شہری، ان حالات و واقعات اور ذمے داروں کے کرداروں کی تفصیلات سے کبھی آگاہ نہ ہو سکتے، جنھوں نے مشرقی پاکستان کو بنگلہ دیش میں تبدیل کیا، اور اسامہ بن لادن کو پاکستان میں قائم و دائم اور محفوظ و مامون رکھا۔ اس کا مطلب یہ بھی بنتا ہے کہ پاکستان کی ریاست اور حکومتیں خود اپنے شہریوں کو اپنے کرتوتوں سے بے خبر رکھنا چاہتی ہیں، اور ایسا کرنے کے لیے جھوٹے اورغیر اخلاقی قوانین کا سہارا لیے رکھتی ہیں۔ مثلاً حکومتوں کے پاس یہ اختیار کہاں سے آ گیا کہ وہ اتنے بڑے قومی سانحات کی رپورٹوں کو ان شہریوں سے چھپا رکھیں، جن کے پیسے سے یہ ریاست اور حکومتیں پلتی اور پھلتی پھولتی ہیں۔ کسی بھی ریاست اور کسی بھی حکومت کو کوئی حق نہیں کہ ان سانحات کے پیچھے کارفرما ”حقائق“ پر مبنی رپورٹوں کو سرد خانوں کی زینت بنائے رکھے۔ ہم عام شہریوں کو اس مطالبے سے کبھی دستبردار نہیں ہونا چاہیے کہ یہ رپورٹیں، ہم شہریوں کی ملکیت ہیں، اور ان کی ملکیت ہمیں واپس ملنی چاہیے!

جسٹس منیر انکوائری رپورٹ غالباً اس اعتبار سے بھی پہلی اور آخری رپورٹ تھی کہ اس کے صدر اور رکن کو مکمل آزادی اور اختیار میسر تھا کہ وہ قانون کے اندر رہتے ہوئے، جو ذمے داری انھیں سونپی گئی تھی، اسے بہ طریقِ احسن پورا کر سکیں؛ اور جن سوالوں کے جواب انھیں تلاش کرنے کے لیے کہا گیا تھا، ان کے جواب بے باکانہ انداز میں مہیا کریں۔ اس کے مقابلے میں ایبٹ آباد کمیشن کی تشکیل اور اس میں شامل ارکان کی موجودگی اس آزادی کو زائل کرنے کے لیے کافی تھی، جو اس درجہ اہم معاملے اور سانحے کی تحقیقات کے لیے ناگزیر تھی۔ مزید برآں، اس کمیشن کو وہ اختیار بھی میسر نہ تھا، جو اتنی بڑی کوتاہی کی تہہ میں کارفرما عوامل کو بے نقاب کر نے کے لیے انتہائی ضروری تھا، جس کا نتیجہ 2 مئی (2011) جیسے شرمناک سانحے کی صورت میں نکلا۔ یقینا 1954-1953 میں حالات بہت مختلف تھے۔ ابھی سول حکومت ہی بااختیار ہوا کرتی تھی۔ کوئی اور ادارہ ابھی ایسا نہیں تھا، جو اس کے آئینی اختیارات پر ڈاکہ ڈال سکے۔ جبکہ 2011 میں، جب ایبٹ آباد کمیشن بنا، اس وقت تک پاکستان کے سیاسی اور آئینی پُلوں کے نیچے سے پانی کے ایسے ایسے ریلے گزر چکے تھے، جنھوں نے کناروں کے ساتھ ساتھ پُلوں کو بھی ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا دیا تھا، اور اس وقت کی حکومت، آئینی لحاظ سے پاؤں پر نہیں، بلکہ سر کے بل الٹی کھڑی تھی۔

یہی وہ اسبا ب ہیں، جو اس بات کی توجیہہ مہیا کرتے ہیں کہ جسٹس منیر انکوائری رپورٹ نہایت صاف، کھلے اور براہِ راست انداز میں جواب کیوں مہیا کرتی ہے۔ اس کے برعکس، ایبٹ آباد کمیشن رپورٹ کا انداز، صاف، کھلا اور براہِ راست کیوں نہیں۔ اس رپورٹ میں اشاروں، کنایوں میں، یا بالراست انداز میں جواب مہیا کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ دیکھتے ہیں کہ دونوں کمیشنوں کے سامنے کیا سوالات رکھے گئے تھے، تا کہ یہ سمجھا جا سکے کہ انھوں نے ان سوالوں کے جواب کیسے اور کس اندا زمیں وضع کیے، اور ان کا اظہار کس انداز میں کیا۔ 1953 میں ہونے والے فسادات کے ضمن میں جو تحقیقاتی عدالت قائم کی گئی، اسے ان تین سوالوں کے جواب تلاش کرنے تھے: (1) وہ کیا کوائف تھے، جن کی وجہ سے 6 مارچ 1953 کو لاہور میں مارشل لا کا اعلان کرنا پڑا۔ (2) فسادات کی ذمے داری کس پر ہے۔ اور (3) صوبے کے سول حکام نے فسادات کے حفظِ ماتقدم یا تدارک کے لیے جو تدابیر اختیار کیں، آیا وہ کافی تھیں یا ناکافی۔ یہ سوال نہایت واضح اور دوٹوک ہیں۔ ان کے جوابا ت ان سے بھی زیادہ واضح اور زیادہ دوٹوک ہیں۔

اب دیکھتے ہیں کہ ایبٹ آباد کمیشن رپورٹ کے سامنے جو سوال رکھے گئے، کیا وہ اس بات کے مستحق تھے کہ ان کے جواب تلاش کیے جائیں۔ یا ان سوالوں کی تشکیل میں گریز سے کام لیا گیا۔ مراد یہ کہ 2 مئی کو ہونے والا سانحہ، جو سوال اٹھاتا تھا، کیا ان سوالوں پر توجہ دی گئی، یا نہیں۔ اس سانحے کے پس منظر میں جو سوال موجود تھے، کیا وہی سوال اٹھائے گئے، یا اصل سوالوں کو نظر انداز کر دیا گیا، اور کچھ اور متعلقہ، مگرغیر ضروری سوال سامنے رکھ دیے گئے۔ ملاحظہ کیجیے وہ سوال جن کا جواب مہیا کر نے کے لیے ایبٹ آباد کمیشن تشکیل دیا گیا تھا: (الف) پاکستان میں اسامہ بن لادن کی موجودگی سے متعلق مکمل حقائق کا پتہ لگانا؛ (ب) 2 مئی 2011 کو ایبٹ آباد میں امریکی آپریشن سے متعلق حالات و واقعات کی تحقیقات کرنا؛ (ج) متعلقہ حکام کی کوتاہیوں کی نوعیت، پس منظر، اور اسباب کا تعین کرنا؛ اور (د) ان پر مبنی سفارشات پیش کرنا۔ آخری دونوں سوال اس محاورے کی یاد دلاتے ہیں، جس میں سانپ کے چلے جانے کے بعد لکیر پیٹنے کی بات کی گئی ہے۔ چوتھا سوال ہر انکوائری کا لازمی حصہ ہوتا ہے، سو اسے اس انکوائری میں بھی شامل رکھا گیا۔ ہاں، پہلا سوال ہے، جو کسی حد تک 2 مئی کے سانحے سے میل کھاتا ہے۔ لیکن اسے بھی صاف اور سیدھے انداز میں وضع نہیں کیا گیا، اور اس میں ڈنڈی ماری گئی ہے۔ حاصل یہ کہ غلط سوال اٹھائے جانے کے باوجود افشا ہونے والی ایبٹ آباد کمیشن رپورٹ صحیح جواب مہیا کرنے کی پوری اور کافی حد تک کامیاب کوشش کرتی ہے۔ آئندہ کالموں میں اس رپورٹ کے مختلف پہلووں پر بحث جار ی رہے گی۔

جمعہ، 27 ستمبر، 2013

میڈیا کی کام چلاؤ اردو

کافی عرصے سے پاکستان میں ایک بات دہرائی جاتی رہی ہے کہ تدریس کے شعبے میں صرف وہ لوگ آتے ہیں، جو اور  کسی شعبے میں کھپ نہیں پاتے۔ اس پر میرا ردِ عمل یہ ہوا کرتا تھا کہ جو لوگ تدریس کے شعبے میں کھپ نہیں پاتے، وہ صحافت میں جا بستے ہیں۔ اس کا پس منظر پاکستان میں صحافت کی حالتِ زار تھی، جو اب مزید ابتر ہو گئی ہے۔

کچھ دنوں پہلے روزنامہ ’’جنگ‘‘ میں پھر اسی تعصب کی تکرار سنی گئی۔ ایک ’’ماہرِ تعلیم‘‘ نے فرمایا: ’ہمارے معاشرے میں جو کچھ نہیں بنتا وہ ٹیچر بن جاتا ہے۔‘‘


[روزنامہ ’’جنگ‘‘ 28 اگست، 2013]

اس بات میں مزید اضافہ کیا جا سکتا ہے: جو کچھ نہیں بننا چاہتا، بس زندگی کا کام چلانا چاہتا ہے، وہ پرنٹ یا الیکٹرانک میڈیا میں جا گھستا ہے۔ کیونکہ یہاں ہر کوئی ’’ماہر‘‘ ہے۔ بلکہ حیرانی کی بات یہ ہے کہ پاکستان میں میڈیا نے ایک عجیب و غریب معیار قائم کر دیا ہے، یعنی یہ کہ جو اخبار میں چھپ گیا اور کسی ٹی وی چینل پر آ گیا، وہ مستند اور ماہر بن گیا۔ یوں، پاکستان کی یونیورسیٹیوں نے اتنے ماہرین پیدا نہیں کیے ہوں گے، جتنے پاکستانی میڈیا نے پیدا کر دیے ہیں۔

اس ضمن میں اہم ترین بات یہ ہے کہ ہر ٹی وی چینل اور ہر اخبار کام چلاؤ زبان استعمال کر رہا ہے۔ یہ اردو نہیں، کچھ اور ہے۔ آپ کو بھی ایسے لوگوں سے سابقہ ضرور پڑا ہو گا، جنھیں جب یہ کہا جائے کہ آپ نے غلط لفظ بولا یا غلط لفظ استعمال کیا، درست لفظ یہ ہے، تو وہ کہتے ہیں: آپ کو بات سمجھ آ گئی نا، کافی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ انسانی زندگی کی زبان جیسی اہم ایجاد، جسے خود زندگی کہنا چاہیے، نظر انداز  کی جا رہی ہے۔ میڈیا پر بھی یہی ہو رہا ہے۔ کام چلاؤ زبان سے کام چلایا جا رہا ہے۔ کام چلاؤ ماہرین کام چلا رہے ہیں۔

یہ رویہ پاکستان کا المیہ بن گیا ہے۔

آج (27 ستمبر) کے روزنامہ ’’جنگ‘‘ میں رضا علی عابدی کا کالم اسی معاملے پر روشنی ڈالتا ہے۔ ملاحظہ کیجیے:


بدھ، 25 ستمبر، 2013

ڈاکٹر صفدر محمود اور حبیب جالب کے ایک مصرعے کی گت

اب آتے ہیں آج کے ’’جنگ‘‘ میں شائع ہونے والے کالموں کی طرف۔ ان سب کو پڑھنے کے لیے اور پھر ان پر رائے زنی کے لیے بہت وقت درکار ہو گا۔ سرسری انداز میں دیکھنے سے جو چیز فوراً نظر میں آئی، وہ ہے ایک کالم کا عنوان۔

عنوان یہ ہے: ’’زندہ ہیں، یہی بڑی چیز ہے پیارے‘‘

پہلے میں نے سوچا کہ یہ کتابت یا کمپوزنگ کی غلطی ہو گی۔ یہی دیکھنے کے لیے میں نے پورا کالم دیکھ ڈالا۔ کالم کے آخر میں یہ الفاظ درج ہیں:

’’زندہ ہیں، یہی بڑی چیز ہے پیارے‘‘     

کالم لکھنے والے ہیں ڈاکٹر صفدر محمود۔ یہ ایک نامی گرامی بیوروکریٹ رہے ہیں۔ تحریکِ پاکستان کے محقق اور مورخ ہیں۔ انھیں ان کی تاریخی کتب پر ’’پرائیڈ آف پرفارمینس‘‘ بھی مل چکا ہے۔ روزنامہ ’’جنگ‘‘ میں ’’صبح بخیر‘‘ کے عنوان سے کالم لکھتے ہیں۔

انھوں نے جس شعر کا ایک مصرع درج  کیا ہے، وہ شعر اس طرح ہے:

اس شہرِ خرابی میں غمِ عشق کے مارے
زندہ ہیں یہی بات بڑی بات ہے پیارے

یہ حبیب جالب کی نہایت معروف غزل ہے۔ پوری غزل ملاحظہ کیجیے:

یہ ہنستا ہوا چاند یہ پر نور ستارے
تابندہ و پائندہ ہیں ذروں کے سہارے

حسرت ہے کوئی غنچہ ہمیں پیار سے دیکھے
ارماں ہے کوئی پھول ہمیں دل سے پکارے

ہر صبح مری صبح پہ روتی رہی شبنم
ہر رات مری رات پہ ہنستے رہے تارے

کچھ اور بھی ہیں کام ہمیں اے غمِ جاناں
کب تک کوئی الجھی ہوئی زلفوں کو سنوارے

یہ غزل شعروں کی تبدیلی کے ساتھ فلم ’’موسیقار‘‘ (1962) میں شامل کی گئی تھی۔ موسیقار رشید عطرے تھے۔ اس غزل کو سلیم رضا نے گا کر امر کر دیا۔

اس اعتراض پر کالم نگار یہ جواب دے سکتے ہیں کہ انھوں نے مصرعے میں تصرف کیا ہے۔ درست ہے کہ کسی شعر یا مصرعے میں تصرف کیا جا سکتا ہے، پر ایسا کرتے ہوئے اس شعر یا مصرعے کا وزن خراب نہیں کیا جاتا۔ اگر مذکورہ مصرعے میں تصرف ہی مقصود تھا تو اسے یوں ہونا چاہیے تھا: زندہ ہیں یہی چیز بڑی چیز ہے پیارے

پھر بھی میرا اعتراض اپنی جگہ قائم ہے۔ ’بات‘ کی جگہ ’چیز‘ سے مصرعے کے مطلب و معنی میں کوئی اضافہ نہیں ہو پاتا، بلکہ مصرعے کی گت بن جاتی ہے۔ یہ حبیب جالب اور شاعری کی روح دونوں کے ساتھ بد مذاقی بھی ہے!

[نوٹ: یہ پوسٹ 11 ستمبر کو شائع ہونے والی ایک طویل پوسٹ، ’’آج کااخبار اور پاکستان کی حالتِ زار‘‘ کا ایک حصہ ہے۔] 

سوموار، 23 ستمبر، 2013

سِول پاکستان کا مطلب کیا؟

جب اردو بلاگ کے لیے ’’سول پاکستان‘‘ کا نام میرے ذہن میں آیا تو مجھے یہ ہر اعتبار سے جامع اور مانع محسوس ہوا۔ میں نے چند لغات وغیرہ دیکھیں، اور اس طرح میرے تاثر کی تصدیق ہو گئی۔ یہاں بھی میں صرف لغات اور قاموسوں کی مدد سے لفظ ’’سول‘‘ کے مفہوم و معنی کی تشریح اور تصریح کی کوشش کروں گا۔

فیروزاللغات:

(۱) غیر فوجی ـ شہری (۲) انتظامی ـ تمدنی (۳) خلیق ـ مہذب ـ ملنسار ـ بھلا مانس


فرہنگِ آصفیہ:

(۱) ملیٹری کا نقیض ـ ملکی ـ مالی ـ دیوانی ـ انتظامی ـ تمدنی (۲) خلیق ـ سنجیدہ ۔ مہذب ـ بھلا مانس ـ شریف ـ ملنسار ـ خواندہ ـ تعلیم یافتہ

نوراللغات:

۱ ـ فوجی کا نقیض ـ ملکی ـ مالی ـ انتظامی ـ ۲ ـ سنجیدہ ـ مہذب

انگریزی ـ اردو ڈکشنری، مرتبہ: ڈاکٹڑ ایس ـ ڈبلیو فیلن:

1۔ شہری ـ ملکی
2۔ بھیتری ـ اندرونی ـ آپس کی ـ باہمی ـ خانگی
3۔ انتظامی ـ ملکی ـ محکومانہ
4۔ مالی ـ ملکی
5۔ دیوانی
6۔ خلیق ـ بااخلاق ـ شریف ـ اشراف ـ سوشیل

قومی انگریزی اردو لغت:

حضری؛ مدنی؛ شہری؛ ملکی؛ اجتماعی؛ معاشرتی؛ شایستہ؛ مہذب؛ خوش اخلاق؛ غیر فوجی؛ دنیاوی؛ دیوانی یا غیر فوجداری؛ معاشرے یا مملکت کی پالیسی اور حکومت کے متعلق؛ شہریوں پر مشتمل، ان کے متعلق یا ان کے شایانِ شان؛ نجی حیثیت میں فرد یا انفرادی آزادی کا یا اس کے متعلق؛ شہریوں کے درمیان معاملہ؛ وہ معاملات جو مذہبی یا عسکری نہ ہوں؛ غیر فوجی۔

(قانون) دیوانی قانون کا، اس کے متعلق یا اس کے متعلق یا اس سے اخذ کردہ؛ شہریوں کے انفرادی حقوق کے متعلق، خصوصاً ان حقوق کے دفاع میں قانونی کاروائی کے متعلق؛ طور طریق میں شایستہ؛ متمدن؛ باادب؛ اچھی تربیت یا پرورش پایا ہوا؛ خلیق؛ شریف؛ بااخلاق؛ اشراف؛ شریفانہ؛ قانونی

ڈکشنری اردو ـ انگلش اینڈ انگلش ـ اردو (جان شیکسپیئر)

خلیق ـ مردم ـ ملکی ـ ملنسار ـ مودب

قاموس الاصطلاحات (پروفیسر شیخ منہاج الدین، مغربی پاکستان اردو اکیڈمی، لاہور)

(سوشیالوجی) معاشرتی ـ تمدنی
(پالیٹِکس) شہری ـ غیر فوجی ـ حضری
(قانون) دیوانی

اردو یا انگریزی سے اردو کی ان تمام لغات میں لفظ ’’سِول‘‘ کے جو معنی دیے گئے ہیں، یقیناً پاکستان کو ایسا سِول پاکستان ہونا چاہیے! 

کتاب دوست اور کتاب دشمن معاشرے

یہ سال 1993 کی بات ہے کہ میں نے اپنی شاعری ماہنامہ ’’ادبِ لطیف‘‘ میں بھیجنی شروع کی۔ یہ شاعری چھپی تو میں نے حوصلہ پکڑا، اور مضامین بھی بھیجنے لگا۔ آہستہ آہستہ رسالے کی ایڈیٹر صدیقہ بیگم سے کچھ جان پہچان ہو گئی۔ اب مجھے درست طور پر تو یاد نہیں، ہوا اس طرح کہ ایک روز صدیقہ بیگم کا فون آیا۔ وہ کہہ رہی تھیں: میں اپنی لائبریری کی کتابیں دیال سنگھ ٹرسٹ لائبریری (لاہور) لے کر گئی تھی، انھوں نے کہا، ہمارے پاس جگہ نہیں، ہم تو نہیں لے سکتے۔ میں نے سوچا اب یہ کتابیں کسے دوں تو آپ کا نام میرے ذہن میں آیا، آپ اسی وقت آئیں، کتابیں گاڑی میں ہی موجود ہیں، لے جائیں۔


[نوٹ: ’’ادبِ لطیف‘‘ کی ویب سائیٹ وضع ہو چکی ہے، جہاں اس کے پرانے شمارے دستیاب ہیں۔]

کتابیں، یہ تو میرے لیے نعمتِ غیر مترقبہ تھی، میں نے سوچا۔ مگر چونکہ اس وقت میں مصروف تھا، فوراً نہ جا سکا۔  تاہم، یہ کتابیں میرے حصے میں آ گئیں۔

مجھے دیال سنگھ ٹرسٹ لائبریری کا یہ رویہ اور انکار نہایت کتاب دشمن لگے۔ ویسے ہی خیال آیا، اگر دیال سنگھ زندہ ہوتے تو کیا یہ لائبریری کتابیں لینے سے انکار کر سکتی تھی!

جب میں پڑھتا تھا تو کچھ دوستوں کے ساتھ ایک تقریب کے انعقاد کے سلسلے میں استاد دامن کے گھر جانے کا اتفاق ہوا تھا۔ گھر کیا تھا مناسب سے سائز کا ایک کمرہ تھا۔ بلکہ کمرہ کیا تھا، لائبریری تھی، جس میں کمرے کے درمیان تھوڑی سی جگہ پر ایک چارپائی اور کچھ کرسیاں موجود تھیں۔ چارپائی پر استاد دامن بیٹھے تھے۔ کمرے کی صرف وہ جگہ خالی تھی، جہاں باہر آنے جانے کا راستہ اور دروازہ تھا۔ باقی تینوں اطراف چھت تک لکڑی کی الماریاں کھڑی تھیں۔ ہر الماری کتابوں سے بھری ہوئی۔ چارپائی، میز، سٹول، وغیرہ، پر بھی کتابیں براجمان تھیں۔

اور کتابوں کی بھیڑ میں ایک شاعر کتنا نہال بیٹھا تھا!

دیال سنگھ ٹرسٹ لائبریری سے مجھے ایک اور واقعہ یاد آیا۔ میرے والد کچھ عرصہ سعودی عرب میں مقیم رہے تھے۔ ایک مرتبہ حج کے بعد انھوں نے خط بھیجا کے دیال سنگھ ٹرسٹ لائبریری کے لائبریرین یہاں حج کرنے آئے تھے۔ میں نے انھیں اپنے پاس رکھا۔ اور واپسی پر آپ لوگوں کے لیے کچھ چیزیں، جیسے کہ گھڑیاں، وغیرہ، بھیجی ہیں۔ یہ کوئی صدیقی صاحب تھے، میں نے ان سے فون نمبر پر بات کی اور چیزیں لینے گیا۔ جو چیزیں ان سے مل سکیں، ان کی تعداد نصف سے کچھ ہی زیادہ تھی۔

ویسے ہی دل میں یہ خیال آیا کہ کیا کتابوں کے درمیان رہنے والے لوگ اخلاقیات سے عاری بھی ہو سکتے ہیں۔

گو یہ کوئی نئی بات نہیں کہ پاکستان کتاب دشمن معاشرہ ہے، بلکہ کتاب دشمنوں سے بھرا پڑا ہے؛ لیکن حیرانی اور ملال اس بات پر ہے کہ لائبریریوں میں بھی کتاب دشمن بھرے پڑے ہیں!

آج رزونامہ ’’جنگ‘‘ میں رضا علی عابدی کا کالم کتاب دوستی اور کتاب دوست معاشروں کے بارے میں ہے اور پڑھنے سے تعلق رکھتا ہے۔ ملاحظہ کیجیے:


یاد آیا کہ حال ہی میں رضا علی عابدی کی کتاب، ’’کتابیں اپنے آبا کی‘‘ لاہور سے شائع ہوئی ہے۔ ابھی تک میں اسے دیکھ نہیں سکا ہوں، تمنا ضرور ہے۔

اتوار، 22 ستمبر، 2013

غزل ـ قاتلوں نے شہر پر قبضہ کیا اچھا کیا

[پشاور میں مسیحی شہریوں کے قتلِ عام پر بے بسی کا اظہار]

(میں سوچتا ہوں اگر شاعری نہ کر سکتا تو ہو سکتا ہے کچھ اور سوچتا اور عملاً کچھ کرتا کہ پاکستان کو ایک قتل گاہ سے گہوارۂ امن و سکون کیسے بنایا جائے۔)


قاتلوں نے شہر پر قبضہ کیا اچھا کیا
زندگی کی بزم کو چلتا کیا اچھا کیا

وہ جو رنگا رنگ تھیں رنگینیاں سی جا بجا
ہائے بد رنگی انھیں بھدا کیا اچھا کیا

چشمۂ شفاف پھیلاتے تھے ہر سو تازگی
دھوئیں تلواریں انھیں گدلا کیا اچھا کیا

تیشۂ سنگین سے ٹکرائی جو شمع کی لوَ
غیض نے سورج کو ہی بُجھتا کیا اچھا کیا

کونسا پہلے یہاں بہتی تھیں نہریں دودھ کی
ہر روش کو خون آلودہ کیا اچھا کیا

[22 ستمبر، 2013]

سوموار، 16 ستمبر، 2013

”پاکستا ن میں ریاستی اشرافیہ کا عروج“

کتاب:”پاکستا ن میں ریاستی اشرافیہ کا عروج“ شائع ہو گئی

مصنف کے مطابق کتاب ”اشرافیہ کا نہیں، سب کا پاکستان“ کا نعرہ وضع کرتی اور اس نعرے کو فلسفیانہ بنیاد بھی مہیا کرتی ہے

’یہ کتاب پاکستا ن کے شہریوں کی زندگی بدل سکتی ہے،‘ مصنف ڈاکٹر خلیل احمد


لاہور، 21 فروری 2012: اے، ایس، انسٹیٹیوٹ، لاہور، نے آج ڈاکٹر خلیل احمد کی تازہ ترین کتاب، ”پاکستان میں ریاستی اشرا فیہ کا عروج“ ریلیز کر دی ہے ۔ یہ کتاب پاکستانی اشرافیہ کو آئین اور قانون کی حکمرانی اور بالا دستی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ قرار دیتی ہے ۔ اس کے مطابق پاکستانی اشرافیہ، ریاست، ریاستی اداروں اور ریاست کے وسائل پر پھلتی پھولتی ہے ۔ یہ نہ صرف پاکستانی ریاست پر قابض ہے، بلکہ ریاستی اداروں پر قبضے کے ذریعے اس نے مارکیٹ کو بھی اغوا کیا ہو ا ہے ۔ اشرافیہ کے قلب، یعنی سیاست دانوں، ایسٹیبلِشمینٹ، یعنی قائمیہ اور بیوروکریسی نے پاکستانی آئین کو اپنے گھر کی باندی بنایا ہوا ہے ؛ جبکہ عام شہریوں کو بنیادی حقوق کی دستیابی محال ہی نہیں، نا ممکنات میں سے ہے ۔

مصنف کا کہنا ہے کہ اس مظہر کو ”ریاستی اشرافیہ“ کی اصطلاح سے سمجھنا ضروری ہے ۔ قبل جدیدی اشرافیہ، اپنی طاقت اور اختیار، کسی امتیاز، جیسے کہ نسلی برتری، سے اخذ کرتی تھی، جبکہ پاکستانی اشرافیہ اپنی طاقت اور اختیار، ریاست سے اخذ کرتی ہے ۔ دولت ہو یا اثر و رسوخ، مراعات ہوں یا اعانات، اشرافیہ ہر چیز کو ریاست کے ذریعے اپنے لیے مختص کرلیتی ہے ۔ اور عام شہریوں کے لیے سرکاری دفتروں، انتخابی سٹیشنوں، اور عدالتوں کے دھکوں کے سوا کچھ نہیں بچتا ۔

یہ کتاب اشرافی پاکستان کو سب کے پاکستان میں تبدیل کرنے کا راستہ دکھاتی ہے ۔ اور پاکستان کے تمام طبقات اور گروہوں کو آئین اور قانون کی حکمرانی کی طرف بلاتی ہے، اور انھیں انسانی تہذیب کی اہم ترین قدر، قانون، پر ٹِک جانے کی صلاح دیتی ہے ۔ مزیدبرآں، یہ کتاب جن موضوعات سے بحث کرتی ہے، ان میں اشرافیہ - تاریخی تناظر ؛ پاکستانی ریاست اور اشرافیہ ؛ پاکستانی اشرافیہ کی تشکیل ؛ ریاستی اشرافیہ کا عروج ؛ اشرافیہ کا فلسفہء انسان ؛ پاکستانی اشرافیہ کی نوعیت اور ماہیت ؛ اشرافی شکنجے سے آزادی ؛ پاکستان کے اشرافی طبقات ؛ پاکستان کی ریاستی اشرافیہ کا قلب، شامل ہیں ۔

کتاب کا مصنف، فلسفے کی تدریس سے وابستہ رہا ہے، اور سیاسی فلسفے سے دلچسپی رکھتا ہے ۔ وہ آلٹر نیٹ سالوشنز انسٹیٹیوٹ کے بانیوں میں سے ہے، جو پاکستان میں بنیادی حقوق اور قانون کی حکمرانی کے استحکام کے لیے کام کر رہا ہے ۔ مصنف کی اہم تصنیف، ”چارٹر آف لبرٹی“ (میثاق ِ آزادی) ہے، جو پاکستانی آئین میں بیان کیے گئے بنیادی حقوق کو آئین کی اساسی اور اعلیٰ ترین قدر بنانے پر زور دیتی ہے ۔

یہ کتاب 156 صفحات پر مشتمل ہے، اور اس کی قیمت 220 روپے ہے ۔ کتاب سے متعلق معلومات اور خرید کے لیے درج ِ ذیل پر رابطہ کیا جا سکتا ہے:

فون نمبر: 0303 – 4000 161 
ایمیل : info@asinstitute.org
آفس ایڈریس: کمرہ نمبر 32، تیسری منزل ، لینڈ مارک پلازا، 5/6 جیل روڈ، لاہور

عرفان صدیقی اور حلوائی کی دکان

عرفان صدیقی کہنہ مشق کالم نگار ہیں۔ رائے بنانے اور پھر اس کے اظہار میں سنجیدگی کو ہاتھ سے نہیں دیتے۔

تاہم، بعض اوقات اور بعض مقامات پر ان کی اردو اُکھڑی اُکھڑی معلوم ہوتی ہے! اور کبھی کبھی ایسی کوتاہیاں منہ چڑاتی دکھائی دیتی ہیں، جنھیں نظرانداز نہیں کیا جانا چاہیے۔ بات یہ ہے کہ جب کوئی لکھنے والا شہرت پا لیتا ہے اور بہت زیادہ پڑھا جانے لگتا ہے تو اس پر ذمے داری کا بوجھ اتنا ہی بڑھ جاتا ہے۔ اگر وہ غلط زبان لکھ رہا ہے، غلط دلائل دے رہا ہے، تو اس کا مطلب یہ بھی ہے کہ وہ غیرمحسوس انداز میں اپنے قارئین کی ’’غلط تربیت‘‘ کر رہا ہے۔

میں سمجھتا ہوں کہ جب ہم کوئی کام کرتے ہیں تو ہمیں اس کی بنیادی شرائط اور تقاضے نظر انداز نہیں کرنے چاہیئیں۔ خواہ کوئی کالم لکھ رہا ہے، یا ناول، زبان سے بے توجہی برتنا قابلِ معافی نہیں ہو سکتا۔ اس کا قطعاً یہ مطلب نہیں کہ غلطی کی کوئی گنجائش نہیں۔ غلطی ہر کسی سے ہو سکتی ہے۔ دیکھنے والی بات یہ ہے کہ کیا غلطی کو باربار دہرایا جاتا ہے، یا اس کی تصحیح کر لی جاتی ہے۔

اب مجھے یاد نہیں رہا، عرفان صدیقی کا یہ کونسا کالم تھا، جس میں یہی غلطی موجود تھی، جس کا ذکر آج اس پوسٹ میں مقصود ہے۔

کل (15 ستمبر) کے روزنامہ ’’جنگ‘‘ میں ان کا جو کالم چھپا ہے، اس میں ایک مرتبہ پھر اسی غلطی کو دہرایا گیا ہے۔  بلکہ ان کے اس کالم کا عنوان ہی ’’حلوائی کی دکانیں‘‘ ہے۔

پہلے ان کا جملے ملاحظہ کیجیے:

’’دنیا بھر کی صف اول کی ایئر لائنز کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ ایک ہوائی جہاز کے لیے ہر نوع کے عملے کی مجموعی تعداد ایک سو بیس افراد کے لگ بھگ ہے۔ پی آئی اے کے ایک علیل طیارے کے لیے سات سو افراد کا عملہ بھرتی کیا گیا ہے۔ حلوائی کی دکان پر نانا جی کی فاتحہ کے اس افسوسناک رجحان کے باعث پی آئی اے کو 36 ارب روپے سالانہ کے خسارے کا سامنا ہے۔‘‘


اردو کی کہاوت یا مثل ہے: حلوائی کی دکان اور دادا جی کی فاتحہ

آئیے ’’فرہنگِ آصفیہ‘‘ پر نظر ڈالتے ہیں:

’’حلوائی کی دکان اور دادا جی کی فاتحہ۔ کہاوت۔ پرائے مال کو اپنا سمجھ کر صرف میں لانے یا غیر کا مال بیدریغ صرف کرنے کے موقع پر بولتے ہیں۔‘‘

’’نوراللغات‘‘:

’’حلوائی کی دکان دادا جی کی فاتحہ۔ مثل۔ پرائے مال کو اپنا سمجھ کر صرف میں لانے یا غیر کا مال بیدریغ صرف کرنے کے موقع پر بولتے ہیں۔ گرہ کا کچھ خرچ نہیں ہوتا۔‘‘

یعنی اس مثل میں نانا جی کا کوئی کام نہیں۔ حلوائی کی دکان ہو تو فاتحہ دادا جی کی پڑھی جاتی ہے۔

ہفتہ، 14 ستمبر، 2013

اندھا بانٹے ریوڑیاں ـ ـ ـ

نئے انتخابات ہو گئے۔ نئی حکومت بن گئی۔ مگر اندھوں کا کاروبار اسی طرح چالو ہے۔ وہ ہر پھر کر ریوڑیاں اپنوں کو ہی بانٹے چلے جا رہے ہیں!

یہ خبر ملاحظہ کیجیے:


[روزنامہ جنگ، 13 ستمبر، 2013]

خیبر پختونخوا ـ ’’پپو یار تنگ نہ کر‘‘

خیبر پختونخوا میں انتظامی معاملات میں ہمہ گیر اور ہمہ جہت سیاسی مداخلت کی بنیاد رکھی جا رہی ہے۔ ایک گذشتہ پوسٹ میں اس کی طرف توجہ دلائی گئی تھی۔ دوبارہ نظر ڈالیے:


صوبے میں تحریکِ انصاف کی حکومت ہے اور اس کے وزیرِاعلیٰ پرویز خٹک نے ایک دن میں 32 پارلیمانی سیکریٹریزکی تقرری کا ریکارڈ قائم کیا ہے۔ اس ضمن میں جب صحافیوں نے ان سے بات کرنے کی کوشش کی تو وہ بھڑک اٹھے: 


[روزنامہ جنگ، 13 ستمبر، 2013]

بے شرم جمہوریت

یہ پوسٹ گذشتہ پوسٹ: ’’جھوٹ کے پاؤں اور جھوٹ کا دماغ‘‘ سے جُڑی ہوئی ہے۔

جیسا کہ آصف علی زرداری کی شان میں زمین آسمان ایک کرنےکی کوشش کی گئی۔ اگلے روز روزنامہ ’’جنگ‘‘ میں ہی اس کا جواب چھپا اور زمین کو آسمان سے جدا کرنے کا جتن کیا گیا۔ یہ جتن ملاحظہ کیجیے:


[روزنامہ جنگ، 13 ستمبر، 2013]

اور پاکستان کی بے شرم جمہوریت کا فسانہ بس اتنا سا ہے کہ اس کا ہر چہرہ بے شرمی سے گہنایا ہوا ہے۔ یہ جو ’’جمہوریت شرم سے منہ چھپا رہی ہو گی‘‘ کے عنوان سے جواب چھپا، یہ کسی اور کی طرف سے نہیں، بلکہ جینرل مشرف کے شوکت عزیزانہ دور کے ایک وزیر نے لکھا تھا۔ شاید اخبار کے سٹاف میں سے کسی نے مضمون کے آخر میں یہ اضافہ کیا یا مصنف نے خود یہ اعتراف کیا کہ وہ کس دور میں وزیر رہا ہے:

’’مضمون نگار مشرف دور میں دفاعی وزیر مملکت رہ چکے ہیں‘‘

جمعرات، 12 ستمبر، 2013

یہ ہواؤں کے مسافر، یہ سمندروں کے راہی ـ ایک اور سرخاب کا پر

سیاہی خشک ہونے کا محاورہ بھول جائیے۔ شیکسپیئر کو یاد کیجیے:

There are more things in heaven and earth, Horatio, 
!Than are dreamt of in your philosophy

پہلے خبر کی سرخی اور ذیلی سرخیاں ملاحظہ کیجیے:

نیول انٹیلی جنس کے اہلکاروں نے اپنا ہی افسر اغوا کیا، تاوان وصول کیا
مغوی کے بہنوئی کے ساتھ لے جا کر بینک سے رقم نکلوائی اور نیم مردہ حالت میں چھوڑ دیا
29 دن سیل میں رکھا گیا، مغوی کے ہائیکورٹ پہنچنے پر نیوی افسران حرکت میں آگئے، ٹریبونل تشکیل

یہ ہے خبر کی تفصیل:


[روزنامہ جنگ، 3 ستمبر، 2013]

سابقہ پوسٹ ملاحظہ کیجیے: یہ ہواؤں کے مسافر، یہ سمندروں کے راہی

Another abduction by naval agency officials exposed

KARACHI: Another incident of abduction for ransom by officials of the Naval Intelligence has come to light.This time, the victim is not a common trader or citizen but a chief petty officer of the Pakistan Navy (PNS Rahat). 

The Naval Intelligence officials kept the Chief Petty Officer, Ramzan Shah, in confinement at the Intelligence Cell near the Chief Minister House for 29 days. He was abandoned in a critical condition after his family arranged the ransom money amounting to one million rupees. The kidnappers took the brother-in-law of the abducted person to dispose of his car for Rs1,470,000 and also cashed the pay order.

Although, an investigation was carried out when the matter was taken to the Chief of Staff, Vice Admiral Tayyab Ali Dogar, but the victim was dismissed from service after his refusal to back off from the demand of getting the ransom money back on an FIR registered against him five years back. However, the naval officers came into action and formed a tribunal when the victim reached the Sindh High Court. The proceeding of the tribunal has been fixed for September 9.

[The News, September 3, 2013]

یہ ہواؤں کے مسافر، یہ سمندروں کے راہی!

ابھی ’’شاہی سید والی خبر‘‘ کی سیاہی بھی خشک نہ ہوئی تھی کہ ایک اور خبر منظرِ عام پر آ گئی۔

پہلے یہ خبر 29 اگست (روزنامہ ’’جنگ‘‘) کو سامنے آئی۔ ملاحظہ کیجیے:


پھر 30 اگست (روزنامہ ’’جنگ‘‘) کو اس کی مزید تصیل شائع ہوئی:


اس کی تردید کا سامان بھی کیا گیا ہے۔ یہ بھی روزنامہ ’’جنگ‘‘ میں ہی شائع ہوئی۔ گو کہ اب یہ خبر برقی میڈیا پر بھی پھیل چکی ہے۔ اس کی تردید آنکھوں میں دھول جھونکنے کے مترادف ہے۔ دیکھیے:


پاکستانیوں کی اس بے چارگی پر کیا کہا جا سکتا ہے۔

پاکستانی ریاست پاکستانی شہریوں کو کس کس طرح لوٹتی ہے، اس کی تفصیل ’’طلسمِ ہوشربا‘‘ سے کم ہوشربا نہیں۔

اسے انتہائے زوال ہی کہا جا سکتا ہے کہ جنھیں محافظ بنایا جائے، وہیں لٹیرے بن جائیں!

یہ حساس ادارے کتنے بے حس ہو چکے ہیں، یہ سوچ کر حواس گم نہ ہوں تو کیا ہو!