اتوار، 8 ستمبر، 2013

پاک بھارت جنگ کے سائے؟

جس طرح آج کل لائن آف کنٹرول پر حالات خراب ہو رہے ہیں، اور ایک خوف سا محسوس ہو رہا ہے کہ نوبت کہیں جنگ تک نہ پہنچ جائے۔ اسی طرح کے حالات 1999 کے وسط میں بھی تھے۔ علاوہ ازیں، آج بھی پاکستان کے داخلی حالات اس نوع کی مہم جوئی کو ”جواز“ مہیا کر رہے ہیں۔ انڈیا کو تجارت کے لیے پسندیدہ قوم قرار دینے کا عمل مکمل ہونے کے مراحل میں ہے۔ پاک بھارت دو طرفہ سفر کے ضمن میں شہریوں کے لیے سہولتیں ٹھوس اقدامات میں ڈھلنے کو ہیں۔ دونوں ممالک کی سول سوسائیٹی باہمی تعلقات میں بہتری کے لیے پہلے سے کہیں زیادہ پُر عزم ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ دونوں ممالک کے مابین تعلقات کی اساس کو تقویت مل رہی ہے۔ ایسے میں لائن آف کنٹرول پر ہونے والی جھڑپوں نے بہت سے شکوک کو سر اٹھانے کا موقع فراہم کر دیا ہے۔ پھر یہ بھی ایک تاریخی حقیقت ہے کہ جب کبھی پاک بھارت تعلقات ایک حد سے زیادہ بہتر اور نارمل ہونے کی سمت مڑنے لگتے ہیں، کچھ نہ کچھ ہو جاتا ہے۔ کبھی کالی بلی راستہ کاٹ جاتی ہے۔ کبھی راستہ ہی بارود کے دھوئیں سے کالا ہو جاتا ہے۔ اس ضمن میں، ماضی قریب میں ہونے والی کارگِل کی مہم جوئی کا ذکر کچھ نہ کچھ بصیرت مہیا کر سکتا ہے۔ 

یہ جون 1999 کے دن تھے۔ کارگِل جنگ کے پھیلنے کا چرچا تھا۔ حالات آج کی نسبت کافی زیادہ خراب لگتے تھے۔ ملک بھر میں اور بالخصوص لاہور میں اس قسم کی گفتگو عام تھی: ’کہتے ہیں لوگ واہگے سے گھر چھوڑ کر شہر آ رہے ہیں۔‘ ’ہاں۔ اخباروں میں یہی آ رہا ہے اور لوگ تو ذرا سے میں ہڑ بڑا جاتے ہیں۔‘ ’ہاں جی، یہ تو ہے۔‘ ’ابھی جب آٹے کی کچھ کمی ہوئی تھی تو لوگ پاگلوں کی طرح آٹے کے پیچھے بھاگنے لگے تھے۔‘ ’ہاں جی، کتنا آٹا اکٹھا کر لیتے۔ کب تک چلتا۔‘ ’لوگ ذہن سے نہیں سوچتے۔‘ ’تو کیا جنگ ہونے والی ہے؟‘ لوڈر کا ڈرائیور حقیقت جاننا چاہتا تھا۔ ’ کیا کہا جا سکتا ہے۔ شاید ہو جائے شاید نہ ہو۔‘ ’لوگ تو بڑے خوفزدہ ہیں جی، اور بارڈر والے بارڈر چھوڑ رہے ہیں۔‘ ’باجی! سنا ہے جنگ لگنے والی ہے، ہم نے اپنا مکان چھتنا تھا‘، صفائی کرنے والی نے پوچھا۔ ’ہاں، ابھی نہ بناﺅ۔ ہو لینے دو جو ہونا ہے۔ ویسے شاید نہ ہی لگے۔‘

اُس وقت صورتِ حال یہ تھی کہ جنگ کے سائے بڑھتے جا رہے تھے۔ تاریکی اپنے پاﺅں پھیلا رہی تھی۔ لوگ اپنے لاشعور سے سوچ رہے تھے، اور جنگ کی تباہ کاریوں کے احساس سے اندر اندر ڈرے ہوئے تھے۔ لیکن یہ تو بس لوگ ہیں۔ ان کے چاہنے، نہ چاہنے سے کیا ہوتا ہے۔ ان کا فائدہ نقصان کون دیکھتا ہے، کون سوچتا ہے۔ لوگوں کے علاوہ فوج ہے، حکومت ہے، سیاسی و مذہبی و عسکری جماعتیں، تنظیمیں، اور گروہ ہیں، الیکٹرانک میڈیا ہے، پریس ہے، خوف، اور افواہیں ہیں۔ اور ملک سے باہر گرد و پیش کے ملک اور علاقائی اور بین الاقوامی سیاست ہے۔ ان سب کے اپنے اپنے مسائل، مقاصد، اور مفادات ہیں۔ اور اُس وقت یوں محسوس ہوتا تھا کہ یہ سب جنگ پر تلے ہوئے ہیں۔ آج بھی یہی صورت بن رہی ہے۔

کیوں؟ پتہ نہیں کیوں؟ اس سوال کا جواب نہایت خطرناک ہے۔ تاہم، اس چیز کو یوں بھی دیکھا جا سکتا ہے کہ جنگ کے بارے میں یہ سب فریق کیا سوچتے ہیں۔ یہ سب جنگ کو کیا سمجھتے ہیں۔ ان میں سے کچھ جماعتیں اور گروہ تو جنگ برائے جنگ کے قائل ہیں۔ کچھ اخبارات بھی اسی اندازِ فکر کے حامل ہیں۔ یہ سب چاہتے ہیں کہ بس ہر وقت جنگ ہوتی رہے۔ کسی نہ کسی کہ ساتھ مسلسل جنگ۔ اور بالخصوص ہمسایہ ملک بھارت کے ساتھ تو چوبیس گھنٹے جنگ جاری رہنی چاہیے۔ جنگ کے بغیر، اور بھارت کے ساتھ جنگ کے بغیر، بھلا زندگی کوئی زندگی ہے۔ کچھ جماعتیں اور تنظیمیں یہ سوچ رکھتی ہیں کہ ہر مسئلے کا حل، جنگ ہے۔ یہ ایک تیر بہدف نسخہ ہے۔ جب تک جنگ نہیں ہو گی، کوئی مسئلہ حل نہیں ہو سکتا۔ یہ بھی کوئی بات ہے کہ بھارت کے ساتھ جنگ کیے بغیر کوئی مسئلہ حل کر لیاجائے!

مذکورہ بالا دونوں نوع کی قوتیں ہر وقت ہر طرح جنگجویانہ جذبات کو فروغ دینے اور ابھارنے میں کوشاں رہتی ہیں۔ یہ لوگوں کو یقین دلانا چاہتی ہیں کہ زندگی بس مرنا مارنا ہے۔ اور لوگ ان کے بہکاوے میں آ بھی جاتے ہیں۔ یہ شاید روانڈا کے باسیوں سے متاثر ہیں، جنہیں یہ سمجھانا بہت مشکل ہے کہ موت خود بھی آجاتی ہے، ضروری نہیں کہ ایک دوسرے کو مارا ہی جائے۔ کچھ جماعیتں اور گروہ ایسے بھی ہیں، جن کا مقصدِ اولیٰ بھارت کی تباہی ہے۔ اور صاف بات ہے کہ تباہی، جنگ کے بغیر ممکن نہیں۔ خواہ اپنی ہو یا کسی اور کی۔ ان بے چاروں نے اپنے ذمے اتنا بڑا کام لگا لیا ہے کہ اس کی تکمیل کے لیے کئی نسلیں اور کئی صدیاں درکار ہوں گی۔ یہ ایک طویل المدت مقصد ہے، لیکن اس کے فوری اثرات بھارت کے ساتھ ہمہ وقت جنگ کے عزم و ارادے کی تجدید اور تیاری میں ظاہر ہوتے رہتے ہیں۔ آپ سوچ سکتے ہیں کہ اگر کوئی فرد اپنے ہمسائے کی تباہی کو اپنا مقصد بنا لے تو اس کی زندگی کیسی گزرے گی!

اسی بات کو کچھ افراد اور جماعتیں یوں سوچتی ہیں کہ بھارت کے ساتھ جنگ ایک نہ ایک دن ہونی تو ہے، کب تک ٹلے گی! لہٰذا، یہ ابھی ہو جائے۔ ان کا حافظہ شاید کمزور ہے۔ یہ بھول جاتے ہیں کہ بھارت کے ساتھ تین جنگیں تو ہوچکی ہیں اور ان جنگوں کے نتیجے میں کشمیر سمیت کوئی مسئلہ حل نہیں ہوا۔ ہاں دونوں ملکوں نے اپنے اپنے مسائل میں اضافہ ہی کیا ہے۔ ہمارے نظریہ دانوں اور پالیسی سازوں کا جھکاﺅ بھی جنگ، یعنی بھارت کے ساتھ جنگ کی طرف معلوم ہوتا ہے۔ گو کہ اس جھکاؤ میں کچھ تبدیلی کے آثار سامنے آنے لگے ہیں۔ یہ نظریہ دان اور پالیسی ساز، جنگ کو پالیسی کا حصہ نہیں سمجھتے، بلکہ خود جنگ کو ایک پالیسی کے طور پر استعمال کرنا چاہتے ہیں! اس کے نتائج خواہ کچھ بھی ہوں۔

معقولیت کا تقاضا یہ ہے کہ ہمیں بہر صورت جارحانہ جنگ سے بچنا چاہیے۔ اگر جنگ سر پر آ جائے تو پھر اپنا دفاع بھر پور انداز میں ضرور کرنا چاہیے۔ لیکن اکثر صورتوں میں یہ طے کرنا ایک عجیب و غریب گورکھ دھندہ بن جاتا ہے کہ کون جارح تھا اور کون نہیں۔ کس نے پہلی گولی چلائی۔ اسی مخمصے سے فائدہ اٹھایا جاتا ہے۔ لہٰذا، اس بات کا احساس کرنا ضروری ہے کہ جنگ اپنے دامن میں کیا کیا تباہ کاریاں لاتی ہے۔ برسوں اور دہائیوں میں جو کچھ ہاتھ میں آتا ہے، وہ لمحوں میں ہماری گرفت سے پھسل جاتا ہے۔ خاک و راکھ ہو جاتا ہے۔ پیش رفت، پسماندگی میں تبدیل ہو جاتی ہے۔

پھر یہ چیز بھی ایک ناقابلِ تردید حقیقت ہے کہ ہر جنگ کی تان مذاکرات پر آ کر ٹوٹتی ہے۔ یہ مذاکرات تاشقند میں بھی ہو سکتے ہیں۔ اور وہاں ہونے والے معاہدے کے نتیجے میں ایک نئی سیاست جنم لے سکتی ہے۔ سو، حکومت کو اس بات کی زبانی تکرار پر اکتفا نہیں کرنا چاہیے کہ وہ کشمیر سمیت تمام مسائل مذاکرات کے ذریعے حل کرنا چاہتی ہے! بلکہ اس پر حقیقتاً عمل بھی کرنا چاہیے۔ ہمیں آنکھیں اور ذہن کھول کر اس حقیقت کو سمجھنا چاہیے کہ گو کہ کچھ قوتیں، جماعتیں، تنظیمیں، اور گروہ، نعرۂ جنگ بلند کرتے ہوئے بارڈر کی طر ف مارچ کر نے کو جون 1999 میں بھی تیار تھے اور آج بھی تیار ہیں، لیکن اُس وقت بارڈر کے نزدیک رہائش پذیر شہری، بارڈرسے محفوظ مقامات کی طرف ہجرت کررہے تھے۔ اور عام شہری آج بھی جنگ کے بڑھتے ہوئے سایوں سے خوفزدہ ہیں۔ جنگ کے سائے اپنے ہمراہ تباہی کی تاریکی کے سوا کچھ نہیں لاتے۔ اور یہ تاریکی،غیر آئینی، غیر قانونی، غیر اخلاقی اور انسان دشمن قوتوں کو توانا ور صحت مند بناتی ہے!

[یہ کالم 24 جنوری کو روزنامہ مشرق پشاور میں شائع ہوا۔]

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں