بدھ، 11 ستمبر، 2013

صحافت کی طاقت اور فائدہ

پاکستان میں فوج، سیاست، صحافت، بیوروکریسی، وغیرہ، سے وابستہ خواص آئین، قانون اور اخلاقیات سے ماورا ہوتے ہیں۔ انھیں کوئی ہاتھ نہیں لگا سکتا۔ بلکہ الٹا انھیں خوش کرنے کے ساتھ ساتھ ان کی خوشنودی حاصل کرنے کی کوشش بھی کی جاتی ہے۔ یہ دو خبریں دیکھیے، اور صحافیوں کے زورِ بازو کا اندازہ کیجیے:


[روزنامہ جنگ، 19 اگست، 2013]


[روزنامہ جنگ، 20 اگست، 2013]

جہاں تک نجی سکولوں کا تعلق ہے تو ان کا یہ فعل ان تک محدود ہے۔ وہ ایسا کرنے میں آزاد ہیں۔ ہاں، جو بچے ان سکولوں میں پڑھتے ہوں گے ان کے والدین اس پر معترض ہو سکتے ہیں۔ گو کہ صحافیوں کو جو فائدہ دیا جائے گا نجی سکول اس کی قیمت ان پیسوں سے ادا کریں گے، جو یہ سکول شہریوں سے کمائیں گے۔ تاہم، جہاں تک نادرا (یا ریاست) کا تعلق ہے، تو اس صورت میں صحافیوں کو جو رعایت دی جائے گی، اس کی قیمت شہریوں کو ٹیکس کی صورت میں ادا کرنی پڑے گی۔ جیسا کہ نادرا کے معاملے میں اگر کسی صحافی کو سمارٹ کارڈ 750 روپے میں دیا جاتا ہے تو اس کی نصف قیمت، باقی 750 روپے شہریوں کے ٹیکس میں سے کاٹے جائیں گے۔

صحافیوں کو اس کے علاوہ بھی، ریاست کی طرف سے اور بہت سی مراعات دی جاتی ہیں۔ جیسے کہ گرانٹس، وغیرہ۔ یا جیسے کہ لاہور میں ایک پبلک پارک، یعنی شملہ پہاڑی کو ’’لاہور پریس کلب‘‘ میں بدل دیا گیا۔

ایسا کیوں ہے؟ صحافیوں کو شہریوں کے ٹیکس کے پیسے سے یہ مراعات اور ’’رشوتیں‘‘ کیوں دی جاتی ہیں؟

دراصل، پاکستان کے صحافیوں کی ایک بڑی تعداد پاکستانی ریاست پر قابض ’’ریاستی اشرافیہ‘‘ کے ساتھ مل کر ریاست اور پاکستان کے شہریوں کے وسائل کو لوٹنے میں پوری طرح ملوث ہے! 

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں