پیر, ستمبر 23, 2013

کتاب دوست اور کتاب دشمن معاشرے

یہ سال 1993 کی بات ہے کہ میں نے اپنی شاعری ماہنامہ ’’ادبِ لطیف‘‘ میں بھیجنی شروع کی۔ یہ شاعری چھپی تو میں نے حوصلہ پکڑا، اور مضامین بھی بھیجنے لگا۔ آہستہ آہستہ رسالے کی ایڈیٹر صدیقہ بیگم سے کچھ جان پہچان ہو گئی۔ اب مجھے درست طور پر تو یاد نہیں، ہوا اس طرح کہ ایک روز صدیقہ بیگم کا فون آیا۔ وہ کہہ رہی تھیں: میں اپنی لائبریری کی کتابیں دیال سنگھ ٹرسٹ لائبریری (لاہور) لے کر گئی تھی، انھوں نے کہا، ہمارے پاس جگہ نہیں، ہم تو نہیں لے سکتے۔ میں نے سوچا اب یہ کتابیں کسے دوں تو آپ کا نام میرے ذہن میں آیا، آپ اسی وقت آئیں، کتابیں گاڑی میں ہی موجود ہیں، لے جائیں۔


[نوٹ: ’’ادبِ لطیف‘‘ کی ویب سائیٹ وضع ہو چکی ہے، جہاں اس کے پرانے شمارے دستیاب ہیں۔]

کتابیں، یہ تو میرے لیے نعمتِ غیر مترقبہ تھی، میں نے سوچا۔ مگر چونکہ اس وقت میں مصروف تھا، فوراً نہ جا سکا۔  تاہم، یہ کتابیں میرے حصے میں آ گئیں۔

مجھے دیال سنگھ ٹرسٹ لائبریری کا یہ رویہ اور انکار نہایت کتاب دشمن لگے۔ ویسے ہی خیال آیا، اگر دیال سنگھ زندہ ہوتے تو کیا یہ لائبریری کتابیں لینے سے انکار کر سکتی تھی!

جب میں پڑھتا تھا تو کچھ دوستوں کے ساتھ ایک تقریب کے انعقاد کے سلسلے میں استاد دامن کے گھر جانے کا اتفاق ہوا تھا۔ گھر کیا تھا مناسب سے سائز کا ایک کمرہ تھا۔ بلکہ کمرہ کیا تھا، لائبریری تھی، جس میں کمرے کے درمیان تھوڑی سی جگہ پر ایک چارپائی اور کچھ کرسیاں موجود تھیں۔ چارپائی پر استاد دامن بیٹھے تھے۔ کمرے کی صرف وہ جگہ خالی تھی، جہاں باہر آنے جانے کا راستہ اور دروازہ تھا۔ باقی تینوں اطراف چھت تک لکڑی کی الماریاں کھڑی تھیں۔ ہر الماری کتابوں سے بھری ہوئی۔ چارپائی، میز، سٹول، وغیرہ، پر بھی کتابیں براجمان تھیں۔

اور کتابوں کی بھیڑ میں ایک شاعر کتنا نہال بیٹھا تھا!

دیال سنگھ ٹرسٹ لائبریری سے مجھے ایک اور واقعہ یاد آیا۔ میرے والد کچھ عرصہ سعودی عرب میں مقیم رہے تھے۔ ایک مرتبہ حج کے بعد انھوں نے خط بھیجا کے دیال سنگھ ٹرسٹ لائبریری کے لائبریرین یہاں حج کرنے آئے تھے۔ میں نے انھیں اپنے پاس رکھا۔ اور واپسی پر آپ لوگوں کے لیے کچھ چیزیں، جیسے کہ گھڑیاں، وغیرہ، بھیجی ہیں۔ یہ کوئی صدیقی صاحب تھے، میں نے ان سے فون نمبر پر بات کی اور چیزیں لینے گیا۔ جو چیزیں ان سے مل سکیں، ان کی تعداد نصف سے کچھ ہی زیادہ تھی۔

ویسے ہی دل میں یہ خیال آیا کہ کیا کتابوں کے درمیان رہنے والے لوگ اخلاقیات سے عاری بھی ہو سکتے ہیں۔

گو یہ کوئی نئی بات نہیں کہ پاکستان کتاب دشمن معاشرہ ہے، بلکہ کتاب دشمنوں سے بھرا پڑا ہے؛ لیکن حیرانی اور ملال اس بات پر ہے کہ لائبریریوں میں بھی کتاب دشمن بھرے پڑے ہیں!

آج رزونامہ ’’جنگ‘‘ میں رضا علی عابدی کا کالم کتاب دوستی اور کتاب دوست معاشروں کے بارے میں ہے اور پڑھنے سے تعلق رکھتا ہے۔ ملاحظہ کیجیے:


یاد آیا کہ حال ہی میں رضا علی عابدی کی کتاب، ’’کتابیں اپنے آبا کی‘‘ لاہور سے شائع ہوئی ہے۔ ابھی تک میں اسے دیکھ نہیں سکا ہوں، تمنا ضرور ہے۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں