سوموار، 9 ستمبر، 2013

تحریکِ انصاف اور پارٹی انتخابات

تحریکِ انصاف نے پارٹی انتخابات کیا کروائے، جیسے کوئی انہونی ہو گئی۔ پاکستان میں کچھ ایسا ہو گیا، جو کبھی نہ ہوا تھا، اور یوں لگا بس اب پاکستان کے عام شہریوں کا مقدر بدلنے ہی والا ہے۔ پاکستان میں دودھ اور شہد کی نہریں بہنے ہی والی ہیں۔ ان انتخابات کے دوران جو کچھ ہوا، اس سے قطع نظر تحریکِ انصاف کے رہنماؤں کا رویہ قابلِ دید اور قابلِ غور ہے۔ یہ رویہ اس تکبر سے کسی طرح مختلف نہیں، جس کا اظہار تحریکِ انصاف پہلے سے کرتی آ رہی ہے۔ یہ رویہ اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ تحریکِ انصاف، خود پسندی کا شکار ہے۔ اور اپنی اس خود پسندی کے زیرِ اثر دوسروں کو ذرا بھی خاطر میں نہیں لاتی۔ مثال کے طور پر عمران خان اور دوسرے رہنما، جو نئے نئے تحریکی رہنما بنے ہیں، یہ ایک مصرع دہراتے نہیں تھکتے: پیپلز پارٹی بھی کرپٹ ہے، اور مسلم لیگ (ن) بھی کرپٹ ہے۔ اصلاً دونوں بڑی جماعتوں کو کرپٹ قرار دے کر وہ کہنا یہ چاہتے ہیں کہ بس ایک اکیلی تحریکِ انصاف، نیک، دیانت دار، پاک صاف، اور دھُلی دھُلائی جماعت ہے۔ باقی سب چھان بورا، اور کوڑ کباڑ ہے۔ یہ سیاسی رویہ نہیں۔ اگر کل انتخابات کے بعد اسے ان میں سے ہی کسی پارٹی کے ساتھ مل کر کام کرنا پڑے تو وہ کیا کرے گی! یا پھر تحریکِ انصاف کے مقاصد کیا ہیں؟

مجھے اس چیز سے کوئی سروکار نہیں کہ کون کرپٹ ہے۔ کیونکہ پاکستا ن میں جو سوال اہم ہے، وہ یہ ہے کہ کون کرپٹ نہیں۔ پاکستان کی ریاست، حکومت اور سیاست میں نیچے سے لے کر اوپر تک ہر کوئی کرپٹ ہے۔ اسی لیے میں سمجھتا ہوں کہ پاکستانی سیاست میں کرپشن، سیاسی ایشو نہیں۔ جبکہ تحریکِ انصاف کرپشن کو ایک سیاسی ایشو بنانے کی کوشش کر رہی ہے۔ اور اس کی یہ کوشش مسلسل ناکامی سے دوچار ہے۔ درحقیقت کرپشن کا ایشو ایک انتظامی ایشو ہے۔ یہ ایک ایسا ایشو ہے، جسے کسی این- جی- او کو پکڑنا اور اٹھانا چاہیے، سیاسی پارٹی کو نہیں۔ تحریکِ انصاف کو یہ سمجھنا چاہیے کہ انتظامی ایشو، انتظامی انداز سے ہی حل کیا جا سکتا ہے، سیاسی انداز سے نہیں۔ مراد یہ کہ اگر نیب (قومی احتساب بیورو) کو آزادانہ طور پر کام کرنے دیا جائے اور اس کے معاملات میں سیاسی مداخلت نہ کی جائے تو کرپشن پر کافی حد تک قابو پایا جاسکتا ہے۔ تحریکِ انصاف کو چاہیے کہ ایک متاثر کن پروگرام کی بنیاد پر ووٹ حاصل کرنے کی کوشش کرے۔ دیانت داری کے دعوے کی بنیاد پر غرور و تکبر کا سہارا نہ لے۔ اور خود اپنے گریبان میں بھی جھانکے، یعنی: دامن کو ذرا دیکھ ، ذرا بندِ قبا دیکھ!

یہاں یہ قطعاً مراد نہیں کہ پارٹی انتخابات درست چیز نہیں۔ بہت اچھی بات ہے کہ ہر پارٹی میں باقاعدگی سے شفاف انتخابات ہوتے رہیں۔ تاہم، جیسا کہ گذشتہ کالم، ”پارٹی انتخابات کا ڈھونگ“ میں ذکر ہوا کہ اس سے ملک میں جمہوریت کسی طرح مستحکم نہیں ہوتی۔ جمہوریت کے استحکام کے لیے آئین اور قانون کی بالادستی، اور آئین اور قانون کی پاسداری ضروری ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ، جمہوریت کی پختگی کے لیے آزاد عدلیہ اور آزاد میڈیا بھی ناگزیر ہیں۔ مزید وضاحت کے لیے فرض کرتے ہیں کہ اگر پانچ سال پیپلز پارٹی نے آئین اور قانون کی پاسداری کی ہوتی، اور عدلیہ کے فیصلوں کا مضحکہ اڑانے کے بجائے ان کا احترام کیا ہوتا اور ان پر عمل درآمد کیا ہوتا، تو آج پاکستان میں جمہوریت کہیں زیادہ مستحکم ہوتی۔ اور پورے پانچ سال ہر وقت لوگوں کو یہ دھڑکا نہ لگا رہتا کہ حکومت اب گئی کہ تب گئی۔ جیسا کہ ابھی حال ہی میں جب بجلی کا ایک بڑا بریک ڈاؤن ہوا تو یہ افواہیں گردش کرنے لگی تھیں کہ مارشل لا لگ گیا۔ بعینہٖ، جیسا کہ پیپلزپارٹی دانستہ طور پر آئین اور قانون کی پامالی کرتی رہی، عدلیہ کے فیصلوں کو التوا میں ڈالتی رہی، بلکہ ان کے خلاف کام کرتی رہی، تو صاف بات ہے کہ اس سے جمہوریت مضبوط نہیں ہوئی۔ اسے دھچکے لگے اور یہ نازکی اور شکستگی کا شکار رہی۔

تحریکِ انصاف اگر اپنے پارٹی انتخابات کا کریڈٹ لینا چاہتی ہے تو ضرور لے، اس نے بہت اچھا کام کیا ہے۔ اور اب تو اس کے چیئر مین، خود عمران خان منتخب ہوئے ہیں۔ اور وہ بلامقابلہ منتخب ہوئے ہیں؛ ان کے مقابلے پر کسی نے انتخاب لڑا ہی نہیں۔ باقی تمام جماعتوں میں بھی ایسا ہی ہوتا ہے۔ ان کے سربراہ بالعموم بلا مقابلہ منتخب ہوتے ہیں۔ اس ضمن میں ناقابلِ تردید حقیقت یہ ہے کہ پاکستان میں سیاسی پارٹیاں نام اور شخصیت سے پہچانی جاتی ہیں۔ جیسے پیپلز پارٹی، ذوالفقار علی بھٹو، بے نظیر بھٹو؛ مسلم لیگ (ن)، میاں نواز شریف؛ ایم- کیو- ایم، الطاف حسین؛ مسلم لیگ (ق)، چوہدری شجاعت حسین، پرویز الٰہی کے نام اور شخصیت سے پہچانی جاتی ہیں۔ بالکل اسی طرح، تحریکِ انصاف، عمران خان کے نام اور شخصیت سے جانی پہچانی جاتی ہے۔ یہ بھی باقی پارٹیوں جیسی ایک پارٹی ہے۔ تحریکِ انصاف باقی پارٹیوں سے تب مختلف ہو گی، جب یہ عمران خان کے نام اور شخصیت سے نہیں، بلکہ اپنے پروگرام اور پالیسیوں سے جانی اور پہچانی جائے گی۔ 


[یہ اشتہار 12 مارچ کو روزنامہ ایکپریس لاہور میں شائع ہوا۔] 

ان انتخابات کے ضمن میں تحریکِ انصاف ایک اور بات کا کریڈٹ لے رہی ہے، جبکہ یہ کوئی ایسی انوکھی چیز نہیں۔ اس نے پارٹی انتخابات کے بعد ایسے اشتہارات اخباروں میں شائع کیے، جو بتاتے ہیں، مثلاً ایک دکاندار سیکریٹری فنانس منتخب ہو گیا۔ کیا یہ کوئی ایسا معاملہ ہے کہ سوسائیٹی کے ہر حصے اور ہر سطح سے لو گ منتخب ہوں۔ کیا یہاں حکمرانی کا مطلب یہ ہے کہ باری لگی ہو، اب اس طبقے کی باری ہے اور اب اس سطح کے لوگو ں کی باری ہے۔ کیا اصل معاملہ یہ نہیں کہ پاکستان میں آئین اور قانون کی حکمرانی ہو، اور عام شہریوں کو بھی آئین میں درج بنیادی حقوق دستیاب ہوں!

کیا سوسائیٹی کی نچلی سطح سے منتخب ہو کر آنے والے لوگ پاکستان میں آئین اور قانون کی حکمرانی کو ممکن بنا سکتے ہیں۔ تاریخ اور تجربہ بتاتا ہے کہ ایسا نہیں ہوتا۔ پیپلزپارٹی میں ابتداً ایسے لوگ موجود تھے، لیکن اس سے آئین اور قانون کی حکمرانی کو کوئی تقویت نہیں ملی۔ موجودہ پیپلز پارٹی کے لیڈروں کی کافی تعداد سوسائیٹی کی ایسی ہی سطحوں اور طبقوں سے تعلق رکھتی تھی، لیکن یہ سب کے سب انتہائی کرپٹ نکلے۔ توقیر صادق کا کیس ایک نمونے کی حیثیت رکھتا ہے۔ گذشتہ صدی کی پانچویں اور چھٹی دہائی میں یہ تصور موجود رہا کہ متوسط طبقے کی لیڈرشپ تیسری دنیا کے ممالک کو ترقی اورافزائش کی طرف گامزن کر سکتی ہے۔ تاہم، متوسط طبقے کی یہ لیڈرشپ عملاً نہایت کرپٹ ثابت ہوئی۔

یہ وہی غلط تصورات ہیں جو اصلاً عام شہریوں کی زندگی کی خوشحالی کی قیمت پر نو بہ نو مگر ناکام تجربوں کے لیے رائے عامہ ہموار کرتے ہیں، اور عام شہریوں کو ان کی بہت کڑی قیمت چکانی پڑتی ہے۔ جیسا کہ جینرل مشرف نے قومی اور صوبائی اسیمبلیوں کے ارکان کے لیے بی- اے کی ڈگری کی شرط کو قانون کا درجہ دیا تو اس کے پیچھے یہ گمراہ کن تصور موجود تھا کہ تعلیم یافتہ لوگ قومی اور صوبائی اسیمبلیوں میں بہتر کردار ادا کر سکتے ہیں۔ لیکن اس کا نتیجہ کیا نکلا کہ قانون ساز، جعل ساز بن گئے۔ یوں لگتا ہے کہ تحریکِ انصاف بھی اپنے ووٹ بینک کو ان گمراہ کن تصورات پر تعمیر کرنا چاہتی ہے۔ اس کے پاس نئے تصورات کی کمی ہے ۔ایسے نئے تصورات جن کے ذریعے یہ، نہ صرف عام شہریوں کی ہمدردی حاصل کر سکے، بلکہ عام شہریوں کے لیے بلا امتیاز بنیادی حقوق کی دستیابی کو بھی ممکن بنا سکے۔ ابھی کل پرسوں عمران خان نے یہ کہا کہ مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کی طرح، تحریکِ انصاف ”فیمیلی لمیٹڈ“ پارٹی نہیں بنے گی، اور وہ پارٹی کے تاحیات چیئر مین بھی نہیں بنیں گے۔ مزید یہ کہ کوئی بھی ہو، وہ صرف دو مرتبہ پارٹی کا چیئر مین متخب ہو سکے گا۔ یہ بہت اچھی باتیں ہیں، اور پارٹی کے اندر جمہوری رویوں کو پروان چڑھانے میں مدد دیں گی۔ اس کے ساتھ ساتھ جس بات پر توجہ دینے کی ضرورت ہے، وہ ہے پارٹی سے باہر پارٹی کے جمہوری رویے۔ یہی وہ دائرہ ہے، جہاں تحریکِ انصاف کو جگہ بنانے کی ضرورت ہے۔ اسے ایک نئی اور مختلف پارٹی بننے کے لیے نئے اور تخلیقی تصورات کی ضرورت ہے، جو پاکستان کے عام شہریوں کو بے وقوف بنانے کے بجائے، ان کے لیے ایک باعزت زندگی گزارنے کے حق کو یقینی بنا سکیں!


[یہ کالم 24 مارچ کو روزنامہ مشرق پشاور میں شائع ہوا۔]

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں