سوموار، 9 ستمبر، 2013

مکمل ہوئی: مضامینِ شرر

جلد ہفتم
ـ ـ ـ ـ ـ

یہ بات قابلِ غور ہے کہ شرر اپنا نام، محمد عبدالحلیم شرر لکھتے تھے ۔ دیکھیے صفحہ: 81

یہ کتاب 29 مارچ کو مکمل ہوئی۔ چونکہ کتاب کے ابتدائی صفحات مفقود ہیں، لہٰذا، اس کی مزید تفصیل دستیاب نہیں۔ اس جلد میں جمع کیے گئے مضامین، وغیرہ، اولاً ’’دلگداز‘‘ میں شائع ہوئے۔ کل صفحات 177 ہیں۔

ہاں، جو ںظمیں، ڈرامے اور مضامین اس میں شامل ہیں، ان کی فہرست درجِ ذیل ہے:

شبِ وصل (نظم)
شبِ غم (نظم)
زمانہ اور اسلام (نظم)
بلینک ورس یا نظمِ غیر مقفیٰ (مضمون اور منظوم ڈراما)
نظمِ معریٰ (مضمون)
نظمِ معریٰ (مضمون)
مظلوم ورجینا (منظوم ڈراما)
اسیری بابل (مضمون اور منظوم ڈراما)
بنی اسرائیل کی مختصر تاریخ (مضمون)
نیچرل شاعری (مضمون)
ازماست کہ برماست (مضمون)
شادی وغم (مضمون)
ریختی گوئی (مضمون)
مانی (مضمون)
ایک اصلاح (مضمون)
پھر وہی اصلاحِ زبان (مضمون)
قبرستانوں کا مسئلہ (مضمون)
بدقسمت زبانِ اردو (مضمون)
چیچک کا ٹیکا اور لیڈی مانٹیگو (مضمون)
ایک کارِ خیر (مضمون)
خوشی اور رنج کا انحصار طبیعت پر ہے (مضمون)
یوڈوشس اور لیونٹائن، ایڈیسن (یہ ممکنہ طور پر ترجمہ معلوم ہوتا ہے۔)
چند مختصر خیالات (مضمون)
ہمارے دوست کورٹ انسپکٹر صاحب کے بُلڈاگ (مضمون)
ہیرامن توتا (مضمون)
عالمگیر قتالِ مغرب (مضمون)
موسیٰ ندی! موسیٰ ندی!! (’’حیدرآباد دکن میں جو ہیبت ناک اور تباہ کرنے والا سیلاب موسیٰ ندی سے آیا تھا اس پر مولانا نے یہ مضمون اکتوبر ۱۹۰۸ کے دلگداز میں تحریر فرمایا۔‘‘)
سوگواری (مضمون)
ـ ـ ـ ـ ـ

کتاب کے آخری صفحے پر ایک اشتہار دیا گیا ہے، جو پڑھنے کے لائق ہے ۔ ملاحظہ کیجیے:


صفحہ 152 پر شرر نے ذکر کیا ہے کہ منشی عبدالعزیز نے اخلاقیات کے بارے میں ’’سینیکا‘‘ کی کتاب کا ترجمہ کیا ہے، ’’اخلاقِ عزیزی‘‘ کے نام سے۔ منشی عبدالعزیز لکھنؤ کے کورٹ انسپیکٹر تھے۔

کچھ اشعار جو مجھے اچھے لگے:

دیکھو باغ پہ کیا جوبن ہے
پھولوں پر بے ساختہ پن ہے
ـ ـ ـ ـ ـ

بیٹھے شرر ہو کیوں پُر حسرت
جل بھی بجھیے شمع کی صورت
ـ ـ ـ ـ ـ

گزرے گی یوں ہی سر کو دھنتے
تارے گنتے تنکے چنتے
ـ ـ ـ ـ ـ

جو دیکھا تو اک ٹوٹا پھوٹا مکاں تھا
گذشتہ ترقی کا اجڑا سماں تھا
ـ ـ ـ ـ ـ

جس جگہ حاکم ہو ظالم! سنگدل! کم ذات! اور
بد گہر! جس کو شرافت اور نجابت سے نہ ہو
کچھ بھی مس! ایسی جگہ جینے سے بہتر موت ہے
ـ ـ ـ ـ ـ

کل پھر ہاتھ نہ آئے گا
آج کا لطف جو جائے گا
آہ! کہ کل پچھتاؤ گے
جیسا کرو گے پاؤ گے
ـ ـ ـ ـ ـ

کیا بدلے گی اس دل کو بھلا قید و اذیت

رہتا حرمِ سینہ میں ہے جو بحفاظت

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں