سوموار، 9 ستمبر، 2013

عبوری حکومت: خواب یا سازش

ابھی 23 مارچ کے دن ایک انگریزی اخبار میں سابق وفاقی وزیر برائے سائینس اور ٹیکنالوجی، اور سابق چیئرمین ہائیر ایجوکیشن کمیشن عطاالرحمان کا ایک مضمون شائع ہوا۔ بہت ڈرانے والا مضمون ہے۔ اگر اس کے عنوان کا ترجمہ کیا جائے تو کچھ یہ مطلب بنتا ہے: چٹان کے کنارے پر۔ وہ لکھتے ہیں: ’آج پاکستان لُٹا پُٹا کھڑا ہے، اس کرپشن کی وجہ سے، جس کی نظیر ملنا مشکل ہے۔ ٹرانسپیرینسی انٹرنیشنل پاکستان کی رپورٹ کے مطابق گذشتہ پانچ برس پاکستان کی تاریخ کے بد ترین سال تھے، جن کے دوران ہمارے حکومتی اہلکاروں اورمختلف اداروں میں ان کے مقررہ حواریوں نے 18 کھرب سے زیادہ روپے (تقریباً 180 بلین ڈالر) لوٹ لیے۔‘ انھوں نے اپنے مضمون میں اس طرح کے مزید حقائق بیان کیے ہیں، جو دہشت زدہ بھی کرتے ہیں اور یہ بھی بتاتے ہیں کہ پاکستان کے شہری کتنی دولت تخلیق کرتے ہیں، اور یہ دولت کس طرح ان کی جیبوں سے نکال لی جاتی ہے۔

مضمون کا پچانوے فیصد حصہ اسی قسم کے دلخراش حقائق پر مبنی ہے، جن سے اختلاف کی قطعاً کوئی گنجائش نہیں۔ بلکہ ان میں اضافہ ہی کیا جاسکتا ہے۔ تاہم، مضمون کے آخری دو پیرے اس حوالے سے اہم ہیں کہ وہ اس بات پر توجہ دیتے ہیں کہ اب کیا کیا جائے۔ آپ بھی سنیے: ’پاکستان میں مختلف شعبوں میں دیانت دار اور اہل لوگو ں کی کمی نہیں۔ تاہم، اگر وہ انتخابات میں حصہ لینے کی غلطی کرتے ہیں تو ان کے منتخب ہونے کا کوئی امکان نہیں؛ تاآنکہ ایلیکشن کمیشن اہم انتخابی اصلاحات متعارف نہ کروا دے، جو نامناسب امیدواروں کے اخراج کو یقینی بنا سکیں۔ اس کے لیے (ا) ایسی صفات پر مشتمل مناسب معیار کا تعین ضروری ہے، جس پرامیدوار پورے اترتے ہوں؛ اور (ب) انتخابی عمل سے قبل امیدواروں کی محتاط سکریننگ کی جائے۔‘ وہ مزید لکھتے ہیں: ’پاکستان کا مستقبل ہمارے ہاتھوں میں ہے۔ ہم اس نام نہاد ”جمہوریت“ کا تسلسل نہیں چاہتے، کیونکہ ملک یقینا آئندہ پانچ برس اس کے بوجھ تلے زندہ نہیں رہ سکے گا۔ ہمارے نظامِ حکمرانی میں بنیادی تبدیلیاں لانے کی ضرورت ہے، تاکہ ہم دوبارہ وہی کچھ نہ دیکھ سکیں، جو پاکستان کے ساتھ گزر چکا ہے۔ جن فریبیوں نے قومی دولت پر ہاتھ صاف کیا ہے، ان کی پکڑ ہونی چاہیے، اور انھیں عبرت ناک سزا ملنی چاہیے؛ تاکہ مستقبل کے لیڈر کرپشن کی جرأت نہ کر سکیں۔ پاکستان جل رہا ہے۔ اس سے پہلے کے بہت دیر ہو جائے، ہمیں کچھ کرنا ہو گا۔‘

گو کہ عطاالرحمان نے صاف لفظوں میں وہ کچھ نہیں کہا جو جینرل مشرف نے سیدھے انداز میں کہہ دیا۔ لیکن جب عطاالرحمان یہ کہتے ہیں کہ وہ نام نہاد ”جمہوریت“ کا تسلسل نہیں چاہتے، تو اس کا مطلب کیا ہے۔ اس کا مطلب وہی ہے، جس کے لیے جینرل مشرف تشریف لائے ہیں۔ یاد کیجیے، اپنی واپسی سے کچھ دن قبل جینرل مشرف نے کیا فرمایا۔ انھوں نے کہا: ’ملک کو دلدل سے نکالنے کا بہترین حل یہ ہے کہ پاکستان میں تین سال کے لیے عبوری حکومت قائم کی جائے۔ مزید یہ کہ پاکستان کو بچانے کے لیے آئین کو معطل کرنا پڑے تو کوئی مضائقہ نہیں۔‘ تو کیا عطاالرحمان بھی دبے لفظوں میں یا بین السطور یہی کچھ نہیں کہہ رہے۔ کیا وہ یہ نہیں کہہ رہے کہ انتخابات طاق میں رکھیں، اور ایک عبوری حکومت قائم کریں، جو چوروں، لٹیروں کا عبرتناک احتساب کرے۔ یاد کیجیے، کیا یہ وہی ایجینڈا نہیں، جو جینرل مشرف نے جب 12 اکتوبر 1999 کو ایک منتخب آئینی حکومت کو لپیٹا تھا، آئین کو معطل کیا تھا، تو اپنے مارشل لا کو جواز عطا کرنے کے لیے پیش کیا تھا۔ انھوں نے بھی وہی کرپشن کہانی سنائی تھی، جو ہمیشہ سے پاکستان کا مقدر بنی ہوئی ہے۔ انھوں نے بھی عبرتناک احتساب کا خواب دکھایا تھا۔


[یہ کارٹون یکم اپریل کو انگریزی اخبار ’’دا نیشن‘‘ میں شائع ہوا۔]

حقیقت یہ ہے کہ پاکستان میں جب جب مارشل لا لگے، آئین کو معطل کیا گیا، عبوری حکومتیں بنیں، منتخب آئینی حکومتوں کو فارغ کیا گیا، ہمیشہ یہی جواز پیش کیا گیا۔ زیادہ تفصیل میں جانے کی ضرورت نہیں۔ یہاں اتنا اشارہ کرنا کافی ہو گا کہ اس قسم کے تمام اقدامات کا پہلا وار آئین پر ہوتا ہے۔ اور یہ بھی کہ اس قسم کے تمام اقدامات کا آخری زخمی بھی آئین ہی ہوتا ہے۔ آئین کو معطل کیا جاتا ہے، جیسے اب جینرل مشرف آئین کو معطل کرنے کا عندیہ دے رہے ہیں۔ آئین کو بگاڑا جاتا ہے، اور اس میں اپنی من پسند ترمیمات کی جاتی ہیں، جیسے جینرل مشرف کے دور میں کی گئیں۔ بلکہ جینرل ضیا کے دور میں تو آئین کا حلیہ ہی بگاڑ دیا گیا۔ مختصر یہ کہ اس قسم کے تمام اقدامات، جن میں آئین کو نشانہ بنایا جاتا ہے، ہمیشہ مزید بگاڑ کا سبب بنے۔ ان اقدامات نے ملک میں آئین کی بالا دستی کو کمزور کیا۔ آئین کی حکمرانی کو پسِ پشت ڈالا۔ آئین کی پاسداری کو پامال کیا۔ آئینی حکومتوں کا مضحکہ اڑایا۔ اور آئین اور قانون کے بجائے پاکستان میں طاقت اور مافیا کے تصور کو مضبوط کیا۔

اب جبکہ ملک انتخابات کے کنارے پر کھڑا ہے، اشرافیہ کے نمائندے، جو اصل میں ریاست پر اپنا قبضہ مستحکم رکھنا چاہتے ہیں، کرپشن، اور اسی طرح کے دوسرے حقائق کی کہانی سنا کر آئینی عمل میں رکاوٹیں کھڑی کرنا چاہتے ہیں۔ یہ نہیں چاہتے کہ پاکستان کے شہری اپنے نمائند ے منتخب کریں، اور ایک سیاسی اور آئینی حکومت کا تسلسل قائم رہے۔ ساٹھ پنیسٹھ سال ہو گئے ہیں، اس طرح کے حل پیش کیے جاتے رہے ہیں، اور ان عمل بھی ہوتا رہا ہے۔ مگر اس قسم کی عبوری حکومتیں، ملک سے کرپشن ختم کرنا تو دور رہا، کرپشن کو کم بھی نہیں کر سکیں۔ ان عبوری اور غیر آئینی حکومتوں کے ادوار میں کرپشن بڑھی ضرور۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ کرپشن کا حل، آئین اور قانون کی بالادستی میں ہے۔ غیرآئینی انداز کے نسخوں میں نہیں۔ ہاں، جیسا کہ خود عطاالرحمان کا کہنا ہے کہ انتخابات سے قبل آئین اور قانون کے تقاضوں کی تکمیل ضروری ہے، تو یہی کام کرنے کا ہے۔

قطع نظر اس سے کہ اشرافیہ کے نمائندے عبوری حکومت کا خواب دیکھ رہے ہیں، یا کہیں کوئی سازش تیار ہور ہی ہے، اس وقت جس چیز پر توجہ دینے کی اشد ضرورت ہے، وہ یہی انتخابات کا عمل ہے۔ مراد یہ کہ اس کے ہر مرحلے پر کڑی نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔ کاغذاتِ نامزدگی داخل کرانے سے لے کر انتخابات کے نتائج مرتب ہونے تک، ہر مرحلہ اہم ہے۔ گو کہ طرح طرح کے خدشات موجود ہیں، اور ہر ہر قدم پر ڈر محسوس ہوتا ہے کہ کہیں کچھ ہو نہ جائے۔ لیکن حالیہ طور پر یہ ثابت ہوا ہے کہ آج ایک خود مختار ایلیکشن کمیشن موجود ہے۔ پھر یہ کہ اس کی پشت پرایک سرگرم سپریم کورٹ بھی موجود ہے، جو ملک میں آئین اورقانون کی بالادستی کی ضمانت دے رہا ہے۔ گو کہ سوچنے سمجھنے والے لوگوں کے ذہن میں حکومت اور اس کے دوسرے اداروں سے متعلق متعدد تحفظات موجود ہیں، لیکن امیدِ واثق ہے کہ عبوری حکومت کا خواب پورا نہیں ہو گا، یا عبوری حکومت کی سازش کامیاب نہیں ہو گی۔ ہاں، اس چیز سے ڈرنا چاہیے کہ سیاست دان بے چارے بڑی مشکل میں ہیں کہ انھیں اس مرتبہ انتخابات سے پہلے آئین اور قانون کے تقاضوں کی کٹھالی سے گزرنا پڑے گا۔ کہیں وہ خود کسی سازش کا حصہ نہ بن جائیں۔ سیاست دانوں پر بھی پہرہ رکھنا ہو گا۔ میڈیا، اور سول سوسائیٹی اپنا کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔ یہ سب چیزیں حوصلہ دیتی ہیں کہ انتخابات کے نتیجے میں ایسے نمائندے سامنے آئیں گے، جو پاکستا ن میں آئین اور قانون کی بالادستی اور حکمرانی کو استحکام دیں گے۔ اور عبوری حکومتوں کا سودا بیچنے والے سوداگر ناکام ہو ں گے!


[یہ کالم 31 مارچ کو روزنامہ مشرق پشاورمیں شائع ہوا۔]

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں