سوموار، 9 ستمبر، 2013

پارٹی انتخابات کا ڈھونگ

پاکستان کی فکری فضا مغالطوں سے آلودہ ہے۔ یہاں ہرقسم کے مغالطے وافر دستیاب ہیں۔ مغالطے ایسے تصورات ہوتے ہیں، جو بظاہر درست معلوم ہوتے ہیں، لیکن بغور دیکھنے پر یہ غلط ثابت ہوتے ہیں۔ مغالطوں کا بڑا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ سوچنے، کھنگالنے، چھاننے پھٹکنے، اور تحقیق و تفتیش جیسے کام کی ضرورت باقی نہیں رہتی۔ یہاں وہاں، فیصلہ کن انداز میں، ہر جگہ انھیں دہرائے جاؤ، اور” ڈنگ ٹپائے“ جاؤ۔ یوں، دوسروں کے منہ بند کرنے کے ساتھ ساتھ بحث و مباحثے کو دفنانا بھی آسان ہو جاتا ہے۔ مغالطوں کا بڑا نقصان یہ ہوتا ہے کہ رفتہ رفتہ یہ ایک ناقابلِ عبور رکاوٹ کی حیثیت اختیار کر لیتے ہیں۔ بلکہ خاصی حد تک تقدس کے حامل قرار پا جاتے ہیں۔ مغالطوں کو تقدیس سے آمیز کرنے کا حربہ، سونے پر سہاگہ ثابت ہوتا ہے۔ اس طرح، کوئی بھی ان سے انکار کرنے، یا ان پر سوال اٹھانے کی جرأت نہیں کرتا۔ اگر کہیں کوئی ایسی غلطی کر بیٹھے تو اسے توہین کا سزاوار ٹھہرا دیا جاتا ہے۔ نتیجہ اس کا یہ نکلتا ہے کہ کوئی بھی چیز نہ تو صاف نظر آتی ہے، نہ اسے صاف طور پر سمجھنا ممکن رہتا ہے؛ اور نہ ہی اسے بہتر بنانے کا کوئی راستہ سجھائی دیتا ہے۔

پاکستان کی سیاست بھی لاتعداد سیاسی مغالطوں سے آلودہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستانی سیاست اس گرداب سے نکل نہیں پاتی، جس میں یہ پاکستان بننے کے وقت سے پھنسی ہوئی ہے۔ اور جیسا کہ یہ تصورات اور خیالات ہی ہوتے ہیں، جو انسانی زندگی کواچھا یا برا بناتے ہیں، سو پاکستانیوں کی سیاسی زندگی، گمراہ کن سیاسی تصورات کے بوجھ تلے کراہ رہی ہے۔ ایسا ہی ایک تصور یا مغالطہ یہ ہے کہ جب تک سیاسی پارٹیوں کے اندر جمہوریت جڑ نہیں پکڑتی، اس وقت تک یہ سیاسی پارٹیاں ملک میں جمہوریت کو مضبوط نہیں کر سکتیں۔ اس سے مراد یہ ہے کہ سیاسی پارٹیاں پہلے اپنے اندر جمہوریت پختہ کریں، تب ان کی اس بات پر اعتبار کیا جا سکے گا کہ وہ پاکستان میں جمہوریت کے ساتھ مخلص ہیں، اور ملک میں جمہوریت کے لیے کام کرنا چاہتی ہیں۔ یہی تصور ہے جسے اب تحریکِ انصاف آنے والے انتخابات میں اپنی جیت کو ممکن بنانے کے لیے استعمال کرنا چاہتی ہے۔ دیکھا جائے تو اصل میں تحریکِ انصاف، ایک غلط تصور کی بنیاد پر، جو لوگوں کے ذہن میں جاگزیں ہو چکا ہے، اپنے ووٹ کھرے کرنا چاہتی ہے۔ جبکہ، اگرتحریکِ انصاف، پاکستان کے شہریوں کے ساتھ مخلص ہے تو اسے چاہیے کہ اس غلط اور گمراہ کن تصورکے حوالے سے ان میں بیداری پیدا کرے تا کہ کوئی دوسری پارٹی یا دوسرے لیڈر انھیں گمراہ نہ کر سکیں۔ لیکن ایسانہیں ہے، اور اس سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ تحریکِ انصاف بھی باقی تمام سیاسی پارٹیوں کی طرح جیسے تیسے اقتدارتک پہنچنا چاہتی ہے، اور اس میں اور دوسری سیاسی پارٹیوں میں کوئی فرق نہیں۔ اور یہ کہ شہریوں کو اس نئی ابھرتی سیاسی پارٹی کو بھی ناقدانہ نظر سے دیکھنا چاہیے۔

پارٹی کے اندر انتخابات کے حوالے سے پہلی چیزتو یہ ہے کہ یہ کوئی مختلف بات نہیں۔ یہ بالکل وہی نقطۂ نظر ہے، جس کے مطابق سیاسی اور دانشورانہ حلقوں میں یہ تصور جما ہوا ہے کہ اگر باقاعدگی کے ساتھ انتخابات ہوتے رہیں تو ملک میں جمہوریت مستحکم ہو جائے گی۔ اس ضمن میں یہ اعتراض کیا جاتا ہے کہ کیونکہ بار بار مارشل لگا کر اس عمل میں خلل ڈال دیا جاتا ہے، لہٰذا، جمہوریت کا پودا پنپ نہیں پاتا۔ پہلی بات تو یہ کہ جمہوریت، محض انتخابات نہیں۔ پاکستان کی سیاسی پارٹیاں یہی چاہتی ہیں کہ شہری یہی سمجھتے رہیں کہ انتخابات، جمہوریت ہی کا دوسرا نام ہیں۔ اب تک پاکستان میں یہی تو ہوتا آ رہا ہے۔ انتخابات اور بس انتخابات ۔ کیا ان انتخابات سے کبھی کوئی فرق پڑا۔ بالکل نہیں۔

تو پھر فرق، کس چیز سے پڑا۔ یہ سوچنے والی بات ہے۔ فرض کریں جینرل مشرف نے چیف جسٹس افتخارمحمد چوہدری کو ہٹانے کی غلطی نہ کی ہوتی۔ بعد میں وکلا کی تحریک نہ چلی ہوتی۔ اور شہریوں نے کثرت کے ساتھ اس تحریک کا ساتھ نہ دیا ہوتا۔ پھر چیف جسٹس کی بحالی نہ ہوئی ہوتی۔ بعدازاں 3 نومبر کو جینرل مشرف نے اعلیٰ عدالتوں پرشب خون نہ مارا ہوتا۔ اور پاکستان کے میڈیا اور شہریوں نے آئین کی بالادستی کے لیے ایک نئی تحریک نہ چلائی ہوتی۔ انتخابات نہ ہوئے ہوتے۔ پھر پیپلز پارٹی نے معزول ججوں کی بحالی سے منہ نہ موڑا ہوتا۔ اور پاکستان کے شہریوں نے ججوں کی بحالی کے لیے تاریخی لانگ مارچ نہ کیا ہوتا۔ سوچنے والی بات یہ ہے کہ اگر یہ سب کچھ نہ ہوا ہوتا، تو کیا پاکستان کے شہریوں میں آئین پسندی، آئین اور قانون کی بالادستی، اور آزاد عدلیہ کے تصور ات کی اہمیت کا شعور پیدا ہوتا۔ بالکل نہیں۔ اصل میں یہ یہی تصورات ہیں، جنھوں نے پاکستان کو آگے بڑھایا ہے، تبدیل کیا ہے۔ اور یوں پاکستانی جمہوریت کو آئین اور قانون کا پابند بنانے کی کوشش کی ہے۔ گو کہ پیپلزپارٹی کی حکومت نے پانچ سال ان تمام چیزوں کو کمزورکرنے کی کوشش کی، لیکن ایسا نہ ہوسکا۔ اس کی صاف وجہ یہ ہے کہ پاکستان کے شہریوں نے ان تصورات کو اپنا لیا ہے، اور وہ پاکستان کے ریاستی، حکومتی اور سیاسی معاملات کو ان تصورات کے مطابق چلتے دیکھنا چاہتے ہیں۔ یہی سبب ہے کہ ایک نہایت نااہل، بلکہ تباہ کن حکومت بھی پاکستان میں امید کو قتل نہ کر سکی۔ یہ یہی امید ہے، جو پاکستان میں شفاف اور صاف ستھرے انتخابات کا تقاضا کر رہی ہے۔

پارٹی انتخابات کے حوالے سے ایک بات اور اہمیت کی حامل ہے ۔ فوجی آمر وں نے بھی اس گمراہ کن تصور کا سہارا لیا، اور پاکستان کے سیاسی عمل اور شہریوں کے درمیان حائل خلیج کو وسیع کیا۔ جینرل ضیا کے دور میں اس حوالے سے قانون سازی بھی کی گئی اور سیاسی پارٹیوں کو اپنے اندر انتخابات کروانے کا پابند بنایا گیا۔ لیکن کیا اس قانون سے سیاسی پارٹیوں اور پھر پاکستان میں جمہوریت کوئی فرق پڑا۔ اس ضمن میں نہایت اہم دلیل یہ ہے کہ جماعتِ اسلامی غالباً پاکستان کی واحد سیاسی (و مذہبی) جماعت ہے، جس کے اندر ”مثالی انتخابی جمہوریت“ موجود ہے۔ اس پارٹی کے اندر باقاعدگی سے انتخابات ہوتے ہیں، اور وہی لیڈرشپ، پارٹی کو چلاتی ہے، جو پارٹی کے انتخابات میں منتخب ہو کر سامنے آتی ہے۔ یعنی نہ تو اس میں کوئی موروثی لیڈرشپ وجود رکھتی ہے، نہ اس پارٹی پر کسی ایک شخصیت کا قبضہ ہے۔ تو کیا جماعتِ اسلامی کو ایک ایسی پارٹی کا نام دیا جا سکتا ہے، جس نے پاکستان میں جمہوریت کو مستحکم کیا ہو۔ قطعاً نہیں۔ بلکہ حقیقتِ حال اس کے برعکس ہے۔ اس سے یہ نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ پارٹی کے اندر جمہوریت، یا انتخابات ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ یہ پارٹی ملک میں جمہوریت کے استحکام کا باعث بنے گی۔ یہ تصور محض ایک ڈھونگ ہے۔

حاصلِ بحث یہ کہ جمہوریت کو جو چیز مستحکم کرتی ہے، اور یہ بات مثال سے ثابت ہوئی ہے، وہ آئین اور قانون کی بالا دستی ہے۔ جمہوریت اصل میں اُس نظامِ حکمرانی کو کہا جاتا ہے، جس میں جمہوریت بے مہار نہیں ہوتی۔ یعنی یہ سیاست دانوں اور سیاسی پارٹیوں کی مرضی کے تابع نہیں ہوتی۔ بلکہ آئین اور قانون کے تابع ہوتی ہے۔ اور یہ پارلیمان کے تابع بھی نہیں ہوتی، جیسا کہ پاکستان کے سیاست دان سمجھتے ہیں۔ اور یہ سیاست دان چاہتے ہیں کہ پاکستان کے شہری بھی ایسا ہی سمجھتے رہیں، کیونکہ اس میں ان کا فائد ہ ہے۔ جمہوریت، بنیادی طور پر آئین کے تابع ہوتی ہے۔ مزید برآں، آئینی جمہوریت وہ ہوتی ہے، جس میں عدلیہ آزاد ہو، اور آئین کی حکمرانی کو ممکن بنا سکے۔ گذشتہ پانچ برس پیپلز پارٹی کی حکومت جو کچھ کرتی رہی ہے، اسے آزاد عدلیہ کے ساتھ ساتھ آئین اور قانون کی بالادستی کو کمزورکرنے کے مترادف قرار دیا جا سکتا ہے۔ کیا تحریکِ انصاف اپنے اندر انتخابات کروانے کے حوالے سے جمہوری پارٹی ہونے کا دعوے کر کے لوگوں کو درست سیاسی شعور دے رہی ہے؟ یا باقی سیاسی پارٹیوں کی طرح کوئی ڈھونگ رچا رہی ہے؟ اور یہ بھی پاکستان میں ایسی ہی جمہوریت چاہتی ہے، جو آئین اور قانون کے تابع نہ ہو؟


[یہ کالم 21 مارچ کو روزنامہ مشرق پشاور میں شائع ہوا۔]

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں