سوموار، 9 ستمبر، 2013

فلسفۂ تاریخ، نوآبادیات اور جمہوریت: ایک کتاب کی تقریبِ رونمائی کا بیان

ابھی 8 اپریل (2013) کو پنجاب پبلک لائیبریری کے پرانے ہال میں، جو قبل ازیں، لائیبریری کا ریڈنگ روم ہوا کرتا تھا، ایک تقریب کا انعقاد ہوا۔ چونکہ میں خود اس ”کعبے“ کا ایک بت ہوں، جو واں کا تو نہیں، پر واں سے دور کی نسبت ضرور رکھتا ہے۔ یہ وضاحت بھی ضروری ہے کہ میں خود وہاں سے نکلا ہوا ہوں، نکالا نہیں گیا۔ اس خود جلاوطنی کی تفصیل پھر کبھی بیان ہو گی۔ فی الحال، اس تقریب کا حال سنانا مقصود ہے۔

سال 2011 میں سانجھ پبلیکیشنز، لاہور، نے ایک کتاب شائع کی: ’’فلسفۂ تاریخ، نوآبادیات اور جمہوریت (چند نامکمل مباحث)‘‘۔ اس کے مصنف ہیں، اشفاق سلیم مرزا۔ یہ کتاب جب میرے سامنے آئی تو میں اسے خریدے بغیر نہ رہ سکا۔ اور پھر جلد ہی اسے پڑھ بھی ڈالا۔ کتاب پر پھر کبھی بات ہو گی۔ یہ تقریب اس کتاب کی رونمائی کا اہتمام تھی۔ چار بجے کا وقت تھا، کوئی پانچ بجے کے قریب تقریب کا آغاز ہوا۔ کوئی 60 کے قریب حاضرین موجود تھے۔ نظامت، پنجابی زبان میں، بائیں بازو کے جوشیلے جذباتی وکیل، عامر ریاض نے کی۔ کرسیِ صدارت پر ڈاکٹر مبارک علی کوبٹھایا گیا۔ ان کے ساتھ حسین نقی، اور خود اشفاق سلیم مرزا سٹیج پر تشریف رکھتے تھے۔

پہلے ڈاکٹر امداد حسین نے کتاب پر بات کی۔ انھوں نے اس بات کی طرف توجہ دلائی کہ اشفاق سلیم مرزا کے مطابق لیفٹ نے پاکستانی سوسائیٹی کا معروضی تجزیہ نہیں کیا۔ پھر یہ کہ اب لیفٹ اور مذہبی جماعتیں قریب آ رہی ہیں۔ ڈاکٹر امداد نے اشفاق سلیم مرزا کے سامنے کچھ سوال بھی رکھے: مثلاً یہ کہ کیا مذہب ترقی پسند کردار ادا نہیں کر سکتا۔ یا، کیا روشن خیالی (اینلائیٹن مینٹ) کے تصورات کو پاکستان میں استعمال کرنا ضروری ہے۔ مزید یہ کہ کیا صوفیانہ فکر سے کام لیا جا سکتا ہے۔ اور یہ کہ کیا اسے نظر انداز کرنے کی وجہ سے دوسرے طبقات کو اس پر قبضہ کرنے کا موقع نہیں مل گیا۔ ڈاکٹر امداد نے یہ بھی کہا کہ اسلامائیزیشن کو کچھ اور مقاصد کے لیے استعمال کیا گیا۔ انھوں نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ آیا پاکستان میں جو کشمکش موجود ہے، وہ مذہب اور سیکولرازم کے درمیان ہے، اور کیا مذہب کو یا سیکولرازم کو ایک حل کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔

پھر پروفیسر امجد علی شاکر کو بلایا گیا۔ انھوں نے پہلے ہی اپنی معذوری کا اظہار کر دیا کہ انھوں نے کتا ب نہیں پڑھی، پھر بھی وہ بات کرنا پسند کریں گے۔ انھوں نے مختلف موضوعات پر اپنے خیالا ت پیش کیے۔ انھوں نے کہا کہ جیسے پاکستان کو آزادی ایک ڈائیریکٹو کے ذریعے سے ملی، اسی طرح یہ بھی سمجھا گیا کہ اسلامائزیشن بھی ایک ڈائیریکٹو کے ذریعے ہو جائے گی۔ پروفیسر شاکر نے اپنی گفتگو میں نصاب کو آڑے ہاتھوں لیا۔ ان کا کہنا تھا کہ قدیم فرسودہ نصاب پڑھاتے رہیں گے تو معاشرے میں تبدیلی کیسے آئے گی (وہ سیکولر تعلیم کی بات کر رہے تھے)۔ ان کے مطابق پاکستان کے پاس آئین تو ہے، پر اس آئین کا کیا کریں، جو اپنے خالق کو پھانسی سے نہیں بچا سکا۔ (کیا کسی بھی آئین کے آئین ہونے کے لیے یہ لازمی شرط ہے کہ وہ اپنے خالق کو پھانسی سے بچائے۔ یا پھر کیا آئین کا خالق ایک شخص ہو سکتا ہے۔ ہو سکتا ہے پروفیسر شاکر کے ذہن میں صدر فیلڈ مارشل ایوب کا آئین ہو! خلیل) اس کے ساتھ ایک ہی سانس میں انھوں نے کہا کہ انتخاب ہو رہے ہیں، اس کا مطلب یہ ہے کہ ”سسٹم بن گیا ہے۔“ ایک آئین موجود ہے، اور اس پر عمل ہو رہا ہے۔

اس دوران سعادت سعید نے ایک سوال اٹھایا اور پوچھا: کیا کتاب پنجابی زبان میں لکھی گئی ہے۔ جس پر عامر ریاض نے ترکی بہ ترکی جواب دیا کہ اگر کتاب انگریزی میں ہوتی اور اس پر گفتگو اردومیں ہو رہی ہوتی تو کوئی اعتراض نہ اٹھایا جاتا۔ ان کے اس جواب پر خوب تالیاں بجیں۔

عامر ریاض ہر مقرر کو بلانے سے پہلے، کتاب سے کچھ سطریں پڑھ کر سناتے تھے۔ چونکہ کتاب اردو میں تھی، سو یہ سطریں، وہ اردو میں پڑھتے تھے۔ کیا انھیں پنجابی میں ترجمہ نہیں کیا جا سکتا تھا! ایک موقعے پر انھوں نے کہا کہ اشفاق سلیم مرزا لگتا ہے کہ سٹالین سے بہت محبت رکھتے ہیں، جہاں انھوں نے قومیت پر بات کی ہے، وہاں انھوں نے سٹالین کی رائے کو حرفِ آخر کا درجہ دیا ہے۔

اب قاضی جاوید نے کتاب پر بات شروع کی۔ انھوں نے اردو میں گفتگو کی۔ انھوں نے کتاب پر بات نہیں کی۔ پھر بھی انھوں نے جتنی بات کی، وہ کتاب کے مواد سے کم اور کتاب سے زیادہ تعلق رکھتی تھی۔ ان کی گفتگو کو ”نصابی“ گفتگو کے زمرے میں رکھا جا سکتا ہے۔ مثلاً انھوں نے بتایا کہ کتاب بہت خوبصورت انداز میں چھاپی گئی ہے۔ اس میں گیارہ مضامین شامل ہیں۔ اور جس مضمون نے انھیں زیادہ مزا دیا، وہ نوآبادیات کی ماہیت سے تعلق رکھتا ہے۔

پھر ڈاکٹر طارق رحمان کو دعوت دی گئی۔ انھوں نے بھی اردو میں گفتگو کی۔ ان کی گفتگو شروع ہوئی تو یوں محسوس ہوا، جیسے گفتگو اب شروع ہوئی ہے۔ مراد یہ کہ یہ ایک سکالر کی گفتگو تھی۔ اِدھر اُدھر کے مباحث چھیڑنے کے بجائے، انھوں نے براہِ راست کتاب پر بات کی۔ انھوں نے کہا کہ علمی اعتبار سے یہ ایک کامیاب کتا ب ہے۔ یہ تین موضوعات پر فوکس کرتی ہے: سیاست، تاریخ، اور فلسفہ۔ انھوں نے کہا کہ ایک چیز ہوتی ہے، ریویو آف لِٹریچر، یعنی جس موضوع پر لکھا جا رہا ہے، اس پر جو کام پہلے ہو چکا ہے، اس کا ملخص بیان کرنا۔ اس کتا ب میں اس کی کمی ہے۔ تاہم، انھوں نے ڈرتے ڈرتے یہ بھی کہا کہ اس کی اتنی ضرور ت بھی نہیں تھی۔ تاہم، یہ ضرور ہے کہ اس میں نئے نظریات کا ذکر مفقود ہے۔ ڈاکٹر رحمان نے کہا کہ مثلاً قوم اور قومیت کے معاملے پر بہت کچھ تحقق ہو چکی ہے، کئی نئے نظریات کی تشکیل ہوئی ہے، مگر کتاب میں ان سے استفادہ نہیں کیا گیا، اور اسی پرانی بحث پر اکتفا کیا گیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ فلسفہ مشکل چیز ہے۔ اور پھر فلسفے میں ہیگل تو کہیں زیادہ مشکل ہے۔ جبکہ اشفاق سلیم مرزا نے فلسفے کو آسان کرنے کی کوشش کی ہے، اور انھوں نے ہیگل کو بھی عام فہم بنایا ہے۔

اب حسین نقی کو بلایا گیا۔ ان کی گفتگو تقریب کو پھر پہلی ڈگر پر لے آئی، جو کتاب سے کم تعلق رکھتی تھی۔ انھوں نے بھی اردو میں بات کی۔ انھوں نے کہا کہ اشفاق سلیم مرزا نے تاریخ کو صحیح کرنے کا کام اپنے ہاتھوں میں لیا ہوا ہے۔ انھوں نے بھی اعتراف کیا کہ انھوں نے کتاب پوری طرح نہیں پڑھی، بس چیدہ چیدہ مباحث پر نظر ڈالی ہے۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ کتاب میں جن خیالات کا اظہار ہوا ہے، ان کی بِنا پر اشفاق سلیم مرزا اور پھر ڈاکٹر طارق رحمان بھی 62 اور 63 پر پورے نہیں اترتے۔ انھوں نے آئی- اے- رحمان کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ قائدِ اعظم محمد علی جناح کی 11 اگست، 1947 کی تقریر پاکستان کے قیام سے پہلے کی تقریر ہے۔ جبکہ قراردادِ مقاصد مارچ 1949 میں منظور ہوئی۔ ان کا کہنا یہ تھا کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ ایک چیز پہلے بن جائے، اوراس کے مقصد کا تعین بعد میں کیا جائے۔

اب خود مصنف کی باری تھی۔ اشفاق سلیم مرزا نے بھی اردو میں بات کی۔ انھوں نے کہا، اس بہانے دوستوں سے ملاقات ہو گئی۔ مزید یہ کہ کتاب کی تقریب کی بدولت کچھ لوگوں کا تقریر کرنے کا موقع مہیا ہو گیا۔ انھوں نے کہا کہ فلسفے کو آسان کرنا نہایت مشکل ہے۔ بالخصوص جرمن فلسفی، کانٹ، ہیگل، کارل مارکس، ان کا آئی کیو بہت اونچا ہوتا ہے۔ ہم گھامڑ لوگ انھیں بار بار پڑھ کر اپنے لیے آسان کر لیتے ہیں۔ انھوں نے ڈاکٹر امداد کے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ جب مذہب آتا ہے تو وہ ترقی پسند ہوتا ہے، بعد میں وہ قدامت پسند ہو جاتا ہے۔ صوفیانہ فکر اور طالبان کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ جیسے خواہ یہ عشق ہو یا ریپ، دونوں کا مقصود ایک ہی ہوتا ہے، بالکل یہی حال صوفیانہ فکر اور طالبان کا ہے۔ اس پر کسی حاضر نے احتجاج کیا اور تکرار کی کہ آپ کو ایسا نہیں کہنا چاہیے۔

انھوں نے کتاب کے پیش لفظ سے کچھ سطریں پڑھیں۔ مثلاً: ”اس آوارہ خانی اورشوق آوارگی میں کوئی بڑا کام نہ کر سکا۔ کسی ایک جگہ ٹھہرتا تو کوئی بات بنتی۔ علم کی جستجو اور محبت میں مبتلا ہونا دراصل کیفیاتی طور پر ایک جیسا عمل ہے۔ حیرت اور کم مائیگی آپ کو گھیرے رہتی ہیں۔ کم از کم میرے ساتھ تو ایسے ہی ہوتا آیا ہے۔“

آخر میں ڈاکٹر مبارک علی نے صدارتی کلمات کہے۔ انھوں نے ہیگل کے نظریات کو بیان کیا۔ اور پھر اشفاق سلیم مرزا سے اختلاف کرتے ہوئے اس رویے پر تنقید کی کہ بغیر سوچے سمجھے اور تحقیق کیے یہ بات دوہرائی جاتی ہے کہ انگریزوں سے پہلے برِ صغیر میں کچھ نہیں تھا، نہ صنعتیں، نہ تصورات و خیالات۔ بس ”انگریزوں کی برکا ت“ پر قناعت کر لی گئی ہے۔ انھوں نے کئی کتابوں کا ذکر کیا کہ جن میں، ان کے مطابق، جدید تحقیق کی مدد سے یہ دکھایا گیا ہے کہ انگریزوں کے آنے سے قبل یہاں کیا کچھ موجود تھا۔

صدارتی کلمات کے اختتام کے ساتھ ہی تقریب بھی ختم ہوئی۔ حاضرین کے لیے کسی چائے، وغیرہ، کا کوئی بندوبست نہیں تھا۔ اس لحاظ سے یہ تقریب نہایت سادہ اور بے خرچ تقریب تھی۔ اس کا اہتمام پبلشرنے خود جو کیا تھا!


حسبِ معمول اخبارات اور ریڈیو یا ٹی وی چینلز نے اس کی کوریج نہیں کی۔ نہ کوئی نمائندہ نہ کوئی فوٹو گرافر۔ غالباً یہ تقریب پاکستانی میڈیا کے لیے ’’صدا بصحرا‘‘ سے زیادہ کوئی حیثیت نہیں رکھتی تھی۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں