سوموار، 9 ستمبر، 2013

انصاف کی قابلِ تقلید مثال

کیاانصاف ممکن ہے؟ بالخصوص اگر ایک فرد یا افراد کا ایک مختصر گروہ، قتلِ عام کا مرتکب ہو تو پھر انصاف کی نوعیت کیا ہو گی؟ یہ تسلیم کرنا چاہیے کہ انصاف ممکن نہیں۔ مثلاً اگر کسی فرد کی جان لی گئی ہے، یا اسے کوئی نقصان پہنچایا گیا ہے، تو اس کی کوئی تلافی ممکن نہیں۔ تاہم، انسانی تہذیب نے ”قانونی انصاف“ کا تصور ضرور وضع کیا ہے، جسے انصاف کو گرفت کرنے کی بڑی کوشش ضرور کہا جا سکتا ہے۔ اور حقیقتاً یہی قانون پر مبنی انصاف ہے، جو کسی مثالی انصاف کا بدل ہو سکتا ہے۔ پھر جیسا کہ یہ بھی واضح ہے کہ عدالتیں لفظ بہ لفظ قانون پر عمل درآمد نہیں کر سکتیں؛ انھیں ہر کیس کو ”فطری انصاف“ کی رو سے دیکھنا اور جانچنا ہوتا ہے، اور اس کے مطابق فیصلے کرنے ہوتے ہیں۔

حال ہی میں ناروے میں ایسی ایک مثال سامنے آئی ہے، جو اپنی جگہ ایک ایسا ماڈیل ہے، پاکستا ن میں بھی جس کی تقلید کی جا سکتی ہے۔ اس مثا ل کی تفصیل نیویارک ٹائمز میں چھپنے والے ایک مضمون میں دی گئی ہے، جس کے مصنفین ٹرائیل مول اور ڈیوڈ ایل- پالیٹز ہیں۔ گذشتہ برس 24 اگست کو ناروے کی ایک عدالت نے فیصلہ دیا کہ اینڈرس بہرِنگ بریوِک، 22 جولائی 2011 کو اپنے ہوش و ہواس میں تھا، جب اس نے پہلے مرکزی اوسلو میں ایک دھماکہ کیا، اور پھر یوٹویا جزیرے میں نوجوانوں کی ایک ریلی پر فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں 77 لو گ مرے اور سینکڑوں زخمی ہوئے۔ عدالت نے اسے 22 برس قید کی سزا دی؛ اس میں اضافے کا امکان بھی ہے۔ مقدمے کے دوران، دنیا بھر کی نظریں اس بات پر ٹکی تھیں کہ عدالت اس مقدمے کو جس انداز میں چلا رہی تھی، کیا اس سے انصاف کے تقاضے پورے ہو پائیں گے یا نہیں۔

مقدمے کے دوران، نشانہ بننے والے ہر فرد کی کہانی کو جگہ دی گئی۔ ان کے خاندانوں کو اجازت دی گئی کہ وہ اپنے دکھ اور اندوہ کا اظہار کریں۔ زخمیوں کو اپنے جذبات کو بیان کرنے کا موقع دیا گیا۔ یوں، بریوک کے مقدمے نے، دہشت گردی اور سول شہریوں کے قتلِ عام کے معاملات میں انصاف کا ایک نیا نمونہ مہیا کیا۔ مقدمے کے آغاز سے قبل، عدالت نے 174 وکلا کے نام بتائے، جنھیں ریاست نے مقدمے اور تفتیش کے ضمن میں، نشانہ بننے والے افراد اوران کے خاندان کے مفادات کے تحفظ کے لیے مقررکیا تھا۔ ان کی فیس کی ادائیگی بھی ریاست نے کی۔ عدالت نے 77 لاشوں کی آٹاپسی رپورٹیں سنیں۔ 77 انسانوں کی موت کی وجہ بننے والی گولیوں کے زخموں، اوردوسرے اسباب کی تکنیکی تفصیلات سننا روح فرسا عمل تھا۔ ہر رپورٹ کے بعد، عدالت میں موجود حاضرین کو نشانہ بننے والے ہر فرد کی تصویر دکھائی گئی۔ ان میں سے اکثر نوعمر تھے۔ پھر نشانہ بننے والے ہر فرد کی زندگی کے حالات سنوائے گئے، جوا یک منٹ کی طوالت پر مبنی تھے۔ ہر ایک کی زندگی کی نہ پوری ہونے والی خواہش اورخوابوں کو بیان کیا گیا۔

عدالت نے زندہ بچ جانے والوں کی شہادتوں کے لیے بھی وقت مہیا کیا۔ ان میں سے بعض خوفناک طور پر زخمی تھے۔ اس مقدمے کے دوران شہادتوں، نشانہ بننے والوں کے دکھ اور تکلیف کی کہانیوں، اور زندہ رہنے کے لیے ان کی کوششوں کو سننا، ناقابلِ بیان طور پر دل دہلا دینے کے مترادف تھا۔ اس کا حاصل محض یہ نہیں تھا کہ اوسلو اور یوٹویا میں جو کچھ ہوا، اسے پوری تفصیل کے ساتھ سامنے لایا جائے، بلکہ اس کا مقصد یہ یاد دہانی کروانا بھی تھا کہ مرنے والوں کی اس تعداد کے ہر عدد کے پیچھے ایک انسان موجود تھا۔ مقدمے کے آخری روز، استغاثہ اور صفائی کے وکیلوں کے دلائل کے سمیٹے جانے کے بعد، عدالت نے نشانہ بننے والے خاندانوں اور ان کے احباب کے پانچ نمائندوں کو اپنے دکھ اور نقصان کے اظہار کا موقع دیا۔ ان میں سے بعض نمائندوں نے اس قدر فصاحت اورزورِبیان کا مظاہرہ کیا کہ حاضرین، جن کی اکثریت نشانہ بننے والوں اور ان کے خاندانوں پر مشتمل تھی، عش عش کر اٹھے۔

اس مقدمے کا ایک پہلو یہ بھی تھا کہ انسانی ابتلا اوراندوہ کی اتنی غمناک یادداشتیں ملزم کے حقوق کے دفاع کے ضمن میں شکوک پیدا کرتی تھیں: یعنی یہ کہ اس مقدمے کو اس انداز میں چلانے سے کہیں انصاف کے تقاضے تو مجروح نہیں ہو رہے۔ یہی وجہ تھی کہ عدالت نے مقدمے کے شروع ہونے سے قبل ہی، بریوک کو اپنی آئیڈیالوجی کو تفصیل سے بیان کرنے کا موقع دیا۔ یہ آئیڈیالوجی امریکی دائیں بازو کے پروپیگنڈے اور مسلم مخالف یورپی فاش ازم اورنسل پرستی کا ملغوبہ تھی۔ بریوک نے اسے بیان کرنے میں 73 منٹ لیے۔ اسے عدالت میں اپنی شہادت دینے میں ایک ہفتے سے زیادہ کا وقت لگا۔ اس نے بارہا گواہوں کے بیانات کی تصحیح بھی کی۔

مقدمے کے بالکل اختتام پر، بریوک کو حرفِ آخر کہنے کے اجازت دی گئی۔ اس نے کوئی آدھ گھنٹہ لیا۔ اس نے ثقافتی مارکس وادیوں کے ہاتھوں ناروے کے شہریوں کی نسلی پاکیزگی کی ”شکست وریخت“ کے بارے میں باآوازِ بلند عدالت کو لعن طعن کی۔ بریوک نے عدالت میں جو تقریریں کیں، انھیں براڈ کاسٹ نہیں کیا گیا۔ ہاں، ان تقریروں کوناروے بھر کی مقامی عدالتوں کو لائیو سنوایا گیا، اور انھیں متعدد ویب سائیٹس پر لفظ بہ لفظ نقل کیا گیا۔ عدالت نے اوسلو دھماکے اور یوٹویا کے قتلِ عام کی سچائی کے ضمن میں ناروے کی سوسائیٹی، اور تاریخ کی طرف سے، شہادتِ عامہ کی تکمیل کا فریضہ خود سنبھالا۔ نشانہ بننے والے ہر فرد کی انسانیت کے اثبات کے ذریعے، عدالت نے صدمے کا شکاربننے والی سوسائیٹی کی سچائی اورانصاف کی پیاس بجھانے کی کوشش کا سامان مہیا کیا۔ اور اس حوالے سے صفائی پیش کرنے والے بریوک کے لیے منصفانہ پیشی اور مکمل دفاع کو بھی یقینی بنایا۔

یوں، بریوک کے مقدمے کو فوجداری عدالتی نظام کے اندر رہتے ہوئے، بحالیاتی انصاف کے ایک نمونے کی حیثیت دینے کی سعی کی گئی۔ تاہم، جنوبی افریقہ کے ”سچائی اور مصالحت کمیشن“ کے برعکس، مقدمے کا مقصد، مصالحت نہیں تھا، بلکہ تشدد کے نتیجے میں جنم لینے والی انسانی ابتلا کا اعتراف تھا۔ حالیہ برسوں میں دنیا بھر میں عدالتوں نے دہشت گردی اور قتلِ عام کے مقدموں کی سنوائی میں مختلف انداز اختیار کیے ہیں۔ گوانٹانامو بے کے ملیٹری ٹریبیونل کی کاروئی بند کمرے میں ہوتی ہے، اور ان کا دار و مدار خفیہ شہادتوں پر ہوتا ہے۔ جبکہ بریوک کا مقدمہ، اس کے مخالف نقطہِ نظر کی مثال سامنے لاتا ہے: یعنی، انسانی ابتلا کی سچائی کا مکمل اعتراف۔ مراد یہ کہ اس انداز میں انسانی ابتلا کی سچائی کا اعتراف، نشانہ بننے والوں اور ان کے خاندانوں، اور پوری قوم کے زخموں پر مرہم رکھنے کا کام کر سکتا ہے۔ ناروے کی تاریخ کے اس خوفناک سانحے کے مقدمے میں اگر کوئی چیز باقی رہنے والی ہے تو وہ انصاف کا یہی انداز ہے۔ آیا پاکستان میں انصاف کے انسانی تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے اس مثال کی تقلید ممکن ہے یا نہیں، آئندہ کالم میں اس معاملے سے بحث کی جائے گی!


[یہ کالم 14 فروری کو روزنامہ مشرق پشاور میں شائع ہوا۔]

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں