سوموار، 9 ستمبر، 2013

انصاف کے انسانی تقاضے

انصاف کی فراہمی کے لیے کوئی بھی نظام وضع کر لیا جائے، اس میں بہتری کی گنجائش ہمیشہ موجود رہے گی۔ وجہ یہ ہے کہ ”انصاف“ حقیقتاً کبھی ممکن نہیں ہو پاتا۔ اگر کسی انسان کی جان غیر قانونی اندازمیں لی گئی ہے، تو کیا اس کا کوئی بدل ممکن ہو سکتا ہے۔ اسی طرح، اگر کسی فرد کو کوئی نقصان پہنچایا گیا ہے تو کیا اس کی کوئی تلافی ہو سکتی ہے۔ قطعاً نہیں۔ اس حوالے سے کم سِن بچوں میں موجود انصاف کی تڑپ سے سبق سیکھا جا سکتا ہے۔ اور یہ دیکھا جا سکتا ہے کہ بچے جس طرح کا خالص انصاف طلب کرتے ہیں، وہ وجود نہیں رکھتا۔ جب کسی بچے کا کوئی کھلونا، کوئی دوسرا بچہ توڑ دیتا یا یہ کھیل کے دوران کسی بچے سے ٹوٹ جاتا ہے، تو کھلونے کا مالک بچہ، وہی اصل کھلونا واپس چاہتا ہے۔ انصاف کی اس ضد کا کوئی حل موجود نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ قدیم معاشروں میں انتقام در انتقام کی جنگ چلتی رہی ہے۔ جبکہ انتقام پر مبنی انصاف کے متبادل کے طور پر قبائلی روایات (جیسے پشتون ولی) پر مبنی انصاف، انصاف کے لیے نہ ختم ہونے والی اسی انتقامی جنگ کو روکنے کی کوشش کہا جا سکتا ہے۔

ہاں، جیسا کہ ذکر ہوا، انصاف سے ملتی جلتی جو چیز ممکن ہو سکتی ہے، اسے پانے کے لیے انسانوں نے بہت کچھ سوچا سمجھا اور تشکیل دیا ہے۔ پولیس، عدالتیں، وغیرہ، اور اسی طرح کے دوسرے ادارے قائم کیے گئے ہیں، جن کا مقصدِ اولیٰ، ”قانون کے تحت انصاف“ کی فراہمی کو ممکن بنانا ہے۔ اس کے باوجود عدالتوں کو خاصی آزادی میسر ہوتی ہے کہ فطری انصاف کے تصور کو سامنے رکھتے ہوئے اور قانون کے اندر رہتے ہوئے، وہ جو کچھ مناسب سمجھتی ہیں، اس سے رجوع لائیں۔ جیسا کہ گذشتہ کالم ”انصاف کی تقلیدی مثال“ میں بیان ہوا کہ ناروے کی عدالت نے اینڈرس بہرِنگ بریوِک کے مقدمے کو کس طرح چلایا؛ تاکہ اس کے ہاتھوں قتل ہونے والے 77 افراد اور زخمی ہونے والے سینکڑوں افراد کو نہ صرف انصاف کی فراہمی ممکن ہو سکے، بلکہ انصاف کے قانونی تقاضو ں کے ساتھ ساتھ انصاف کے انسانی تقاضوں کو بھی پورا کیا جاسکے۔

بریوک کے مقدمے کے دو پہلو اہم تھے۔ ایک تو وہ جس کا ذکر گذشتہ کالم میں ہوا: یعنی انصاف کے انسانی تقاضوں کی تکمیل۔ دوسرا اہم پہلو وہ تھا، مقدمے کے دوران، دنیا بھر کی نظریں جس پر مرتکز تھیں: یعنی یہ کہ کیا عدالت بریوک کومجرم قرار دیتی ہے، یا ذہنی طور پر مختل۔ پھر عدالت اس مقدمے کو جس انداز میں چلا رہی تھی، اس سے بھی مختلف طرح کے مباحث جنم لے رہے تھے؛ اور انسانی حقوق کے علمبردار افراد اور ادارے یہ سوال اٹھا رہے تھے کہ کیا اس طرح ملزم / مجرم کا صفائی اور دفاع کا حق متاثر نہیں ہو گا۔ پھر یہ بھی کہ کیا عدالت غیر جانبداری سے انصاف کر سکے گی۔ یہ تمام معاملات انصاف کے قانونی تقاضوں کی تکمیل سے تعلق رکھتے ہیں۔

گذشتہ کالم میں نیویارک ٹائمز کے جس مضمون کی تلخیص پیش کی گئی تھی، اس کے لکھنے والوں کے مطابق، یہ بات اپنی جگہ اہم تھی کہ یہ مقدمہ صرف بریوک کی ذہنی حالت سے متعلق نہیں تھا، بلکہ اس کے دوران خود عدالتی سائیکائیٹری بھی کٹہرے میں کھڑی تھی۔ اس کے سامنے یہ سوال موجود تھا کہ ذہنی خلل اور ذی عقل ہونے میں تفریق کیسے کی جائے۔ مقدمے میں سائیکائیڑی کی دو رپورٹیں پیش کی گئی تھیں۔ پہلی کا نتیجہ یہ تھا کہ جرم کے وقوع کے وقت بریوک نفسی مرض اورمغالطے کا شکار تھا۔ دوسری رپورٹ کے مطابق اس کے ہوش و ہواس اور عقل قائم تھی۔ نفسیاتی ماہرین کی دو ٹیموں کا عدالت میں ایسی رپورٹیں پیش کرنا، جو ایک دوسرے کو جھٹلاتی تھیں، سائیکائیٹری کی شہادت پر سوال اٹھاتا تھا۔ یوں، نہ صرف عدالتی سائیکائیٹری پر انگلیاں اٹھیں، بلکہ اس سے انصاف کے قانونی نظام میں موجود کمزوریوں کی نشاندہی بھی ہوئی ۔

جیسا کہ واضح ہے کہ حیاتیاتی اور سماجی علوم بھی انصاف کے نظام پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ بعض اوقات یہ اثرات منفی ہوتے ہیں، اور بعض اوقات مثبت۔ مثلاً ملزموں یا مجرموں کی نفسیاتی کیفیات اور حالات کو وکلائے دفاع، صفائی کے ہتھیار کے طور استعمال کرتے ہیں۔ ان دنوں کراچی میں زیرِ سماعت ایک ہائی پروفائل مقدمے میں، مبینہ طور پرشاہ زیب خان کے قتل کے بڑے ملزم کی عمر کے تعین کا سوال، اس مقدمے کا ایک بڑا اہم نکتہ رہا ہے، کیونکہ اس سے دونوں فریقین کی انصاف کی طلب متاثر ہو سکتی تھی۔ اگر ملزم کو عدالت کی نظر میں کم عمر ثابت کر دیا جاتا ہے تو اس کی سزا کی نوعیت یکسر تبدیل ہو جائے گی۔ تاہم، دیکھنے والی بات یہ ہے کہ قانونی اور عدالتی طریق، دونوں فریقین کو اپنا اپنا مقدمہ ثابت کرنے کا پورا اختیار دیتے ہیں۔ مراد یہ کہ اگر ایک طرف ملزم کو اپنی صفائی کا پورا موقع دیا جاتا ہے، تو دوسری طرف، متاثرہ فریق کو بھی اپنا الزام ثابت کرنے کا پورا موقع فراہم کیا جاتا ہے۔ ان چیزوں کا تعلق قانونی تقاضوں کی تکمیل کے ضمن میں اہمیت رکھتا ہے۔

تاہم، عملاً یہ چیز بھی انصاف کے نظام کا حصہ ہے کہ دونوں فریق ان تقاضوں کا غلط فائدہ اٹھاتے ہیں۔ یہ بالکل اسی طرح کی بات ہے کہ ایک طریقہ قانونی تقاضے کی تکمیل کے لیے قائم کیا جاتا ہے، لیکن جب یہ قائم ہو جاتا ہے، تو اس سے ناجائز فائدہ اٹھانے کے مواقع بھی پیدا ہو جاتے ہیں۔ اس سے یہ نتیجہ نکالنا کہ انصاف کے تقاضے نامناسب ہیں، غلط ہو گا۔ ہاں، اس کا مطلب یہ ضرور بنتا ہے کہ ان تقاضوں میں بہتری پیدا کی جائے، اور ان کے غلط استعمال پر قدغن اور روک کو زیادہ موثر بنایا جائے۔ کہنے سے مراد یہ ہے کہ، جیسا کہ ابتدا میں بھی ذکر ہوا، انصاف کے نظام میں بہتری کی گنجائش ہمیشہ موجود رہتی ہے۔ یہی انصاف کی فراہمی کا تقاضا بھی ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ انصاف کے ضمن میں جتنے بھی قانونی اور عدالتی تقاضے وضع کر لیے جائیں، بعض صورتوں میں انصاف کی فراہمی کے باوجود یہ معلوم ہوتا ہے کہ دراصل انصاف ممکن نہیں ہو سکا۔ مثلاً اگر ایک شخص، کئی اشخاص کو قتل کرتا ہے، اور عدالت جرم ثابت ہونے کے بعد اسے موت کی سزا دے دیتی ہے، تو یہ سوال اپنی جگہ موجود رہتا ہے کہ کیا اتنے انسانوں کی موت کے نقصان کا بدل ممکن ہوسکا ہے؛ یعنی کیا انصاف ممکن ہو سکا ہے۔ جیسا کہ اس نوعیت کے مقدمات میں مجرم کو کئی کئی بار موت کی سز ا سنائی جاتی ہے، لیکن مجرم تو ایک ہی فرد ہے، اور عملاً اسے ایک ہی مرتبہ موت کی سزا دی جا سکتی ہے۔ اینڈرس بہرِنگ بریوِک کا جرم بھی ایسا ہی تھا، اور چونکہ ناروے میں موت کی سزا ختم کر دی گئی ہے، لہٰذا، اسے 22 برس قید کی سزا دی گئی۔ پاکستان میں بھی ایسے مقدمات عدالتوں میں پیش ہوتے ہیں، لیکن یہاں کسی عدالت نے یہ انداز اختیار نہیں کیا۔ پاکستان میں ایسے سانحات بھی ہوتے رہتے ہیں، بالخصوص دہشت گردی کے واقعات، جن میں بیسیوں لوگ لقمۂ اجل بن جاتے ہیں۔ یہ قتلِ عام ہی تو ہے۔ لیکن کیا یہاں کبھی ایسے کسی مقدمے کے ضمن میں انسانی تقاضوں کو پیشِ نظر رکھا گیا، جس طرح ناروے کی عدالت نے کیا۔ بہرنگ کے مقدمے سے اس فرق کو سمجھا جا سکتا ہے، جو ناروے اور پاکستان میں ہے۔ پاکستان میں انسان کی جان کی کوئی قیمت نہیں۔ یہاں کی عدالتوں میں انصاف کے انسانی تقاضوں کی تکمیل کی بات تو دور رہی، انصاف میسر آجانا ہی بڑی بات ہے!

[یہ کالم 16 فروری کو روزنامہ مشرق پشاور میں شائع ہوا۔] 

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں