سوموار، 9 ستمبر، 2013

غزلِ مسلسل ـ پھول یہ کیسا ہے اندر باغ میں

یہ غزلِ مسلسل جب میں کلر سیداں (تحصیل کہوٹہ، ضلع راولپنڈی) میں تھا، تب لکھی تھی۔ اس نے دو دن مجھے اپنی گرفت میں لیے رکھا۔ یہ 2 اور 3 مارچ (1994) کے دوران مکمل ہوئی۔ آج کل پھر کچھ دنوں سے بار بار تنگ کر رہی ہے۔ ذہن خود بخود، اب اور تب، اس کا مطلع پڑھنے لگتا ہے۔ پھر باقی اشعار گو کہ پورے پورے سامنے نہیں آتے، مگر ان کا آہنگ پس منظر میں گونجنے لگتا ہے۔ 

اس غزل کو پڑھ کر شاید یہ کہا جائے کہ یہ وحدت الوجود کے کرب کو بیان کرتی ہے۔ لیکن اس مفہوم سے میں شدید اختلاف بھی کروں گا اور اس پر شدید احتجاج بھی کروں گا۔ یہ غزل جو کچھ بھی ہو، وحدت الوجود میں ڈوبی ہوئی نہیں۔ اسے وحدت الوجود سے بھاگنے کی روداد کا نا م تو دیا جا سکتا ہے۔ تاہم، یہ اس سے بہت آگے جاتی ہے۔ آپ بھی اس کے ساتھ چلیے اور دیکھیے یہ کہاں لے جاتی ہے اور کہاں تک جاتی ہے۔

[خلیل ـ 9 اپریل، 2013 ]   


غزلِ مسلسل


پھول یہ کیسا ہے اندر باغ میں
خود ہی کھلنا اور مرجھانا بھی خود

کونسی گردش میں ہیں خورشید و مہ
خود ہی چڑھنا اور ڈھل جانا بھی خود

تیرگی کیسی ہے دردستِ شمع
روشنی بھی خود، نظر آنا بھی خود

کوئی سورج بھی کہیں باہر نہیں
چاند بننا، چاند چمکانا بھی خود

کیا سفر سا ہے، مسافت ہے یہ کیا
پل میں جانا، پل میں لوٹ آنا بھی خود

عشق اور الفت سے کیا مقصود ہے
جانِ جاں خود، جانِ جاناناں بھی خود

کون محبوبی ہے نازاں ناز پر
روٹھنا خود اور من جانا بھی خود

کیوں یہ سرگرمی و سرگردانیاں
خود ہی کھونا اور پھر پانا بھی خود

حشر کیسا ہے بپا میدان میں
مارنا خود اور مر جانا بھی خود

کونسی فطرت پہ ہے طبعِ بشر
شہر بھی خود اور ویرانہ بھی خود

دل کی منطق کا عجب ہے مخمصہ
خود اُچٹنا اور لگ جانا بھی خود

لذتِ گریہ کی اصلیت ہے کیا
خود ہی رونا اور رلوانا بھی خود

مسئلہ بننے میں کیا ہے مصلحت
خود الجھنا اور سلجھانا بھی خود

علم اور عرفاں کی ماہیت ہے کیا
خود ہی بھولے اور پھر جانا بھی خود

حکم اور تحکیم کی علت ہے کیا
ماننا بھی اور فرمانا بھی خود

کفر اور الحاد سے مقصد ہے کیا
خود ہی مانا اور نہ مانا بھی خود

نامہ و پیغام کی غایت ہے کیا
خود ہی پڑھنا اور لکھوانا بھی خود

بے سبب بے چینیاں، بے تابیاں
خود بگڑنا اور بہلانا بھی

آشنائی میں چھُپا ہے بھید کیا
دوست بھی خود اور انجانا بھی خود

نشہ و مستی میں کیا مفہوم ہے
خود ہی بادہ اور پیمانہ بھی خود

آنکھ کے پیچھے بھلا کیا راز ہے
دیکھنا خود اور بھر آنا بھی خود

روشنی اور موت میں کیا ربط ہے
خود ہی شمع اور پروانہ بھی خود

آگ کیسی ہے، یہ کیا کھلیان ہے
خود لگانا اور جل جانا بھی خود

تشنگی و پیاس کا مطلب ہے کیا
خود بھڑکنا اور مٹ جانا بھی خود

دل کا دریا ہے عجب دریا خلیل

سوکھنا خود اور امڈ آنا بھی خود

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں