سوموار، 16 ستمبر، 2013

”پاکستا ن میں ریاستی اشرافیہ کا عروج“

کتاب:”پاکستا ن میں ریاستی اشرافیہ کا عروج“ شائع ہو گئی

مصنف کے مطابق کتاب ”اشرافیہ کا نہیں، سب کا پاکستان“ کا نعرہ وضع کرتی اور اس نعرے کو فلسفیانہ بنیاد بھی مہیا کرتی ہے

’یہ کتاب پاکستا ن کے شہریوں کی زندگی بدل سکتی ہے،‘ مصنف ڈاکٹر خلیل احمد


لاہور، 21 فروری 2012: اے، ایس، انسٹیٹیوٹ، لاہور، نے آج ڈاکٹر خلیل احمد کی تازہ ترین کتاب، ”پاکستان میں ریاستی اشرا فیہ کا عروج“ ریلیز کر دی ہے ۔ یہ کتاب پاکستانی اشرافیہ کو آئین اور قانون کی حکمرانی اور بالا دستی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ قرار دیتی ہے ۔ اس کے مطابق پاکستانی اشرافیہ، ریاست، ریاستی اداروں اور ریاست کے وسائل پر پھلتی پھولتی ہے ۔ یہ نہ صرف پاکستانی ریاست پر قابض ہے، بلکہ ریاستی اداروں پر قبضے کے ذریعے اس نے مارکیٹ کو بھی اغوا کیا ہو ا ہے ۔ اشرافیہ کے قلب، یعنی سیاست دانوں، ایسٹیبلِشمینٹ، یعنی قائمیہ اور بیوروکریسی نے پاکستانی آئین کو اپنے گھر کی باندی بنایا ہوا ہے ؛ جبکہ عام شہریوں کو بنیادی حقوق کی دستیابی محال ہی نہیں، نا ممکنات میں سے ہے ۔

مصنف کا کہنا ہے کہ اس مظہر کو ”ریاستی اشرافیہ“ کی اصطلاح سے سمجھنا ضروری ہے ۔ قبل جدیدی اشرافیہ، اپنی طاقت اور اختیار، کسی امتیاز، جیسے کہ نسلی برتری، سے اخذ کرتی تھی، جبکہ پاکستانی اشرافیہ اپنی طاقت اور اختیار، ریاست سے اخذ کرتی ہے ۔ دولت ہو یا اثر و رسوخ، مراعات ہوں یا اعانات، اشرافیہ ہر چیز کو ریاست کے ذریعے اپنے لیے مختص کرلیتی ہے ۔ اور عام شہریوں کے لیے سرکاری دفتروں، انتخابی سٹیشنوں، اور عدالتوں کے دھکوں کے سوا کچھ نہیں بچتا ۔

یہ کتاب اشرافی پاکستان کو سب کے پاکستان میں تبدیل کرنے کا راستہ دکھاتی ہے ۔ اور پاکستان کے تمام طبقات اور گروہوں کو آئین اور قانون کی حکمرانی کی طرف بلاتی ہے، اور انھیں انسانی تہذیب کی اہم ترین قدر، قانون، پر ٹِک جانے کی صلاح دیتی ہے ۔ مزیدبرآں، یہ کتاب جن موضوعات سے بحث کرتی ہے، ان میں اشرافیہ - تاریخی تناظر ؛ پاکستانی ریاست اور اشرافیہ ؛ پاکستانی اشرافیہ کی تشکیل ؛ ریاستی اشرافیہ کا عروج ؛ اشرافیہ کا فلسفہء انسان ؛ پاکستانی اشرافیہ کی نوعیت اور ماہیت ؛ اشرافی شکنجے سے آزادی ؛ پاکستان کے اشرافی طبقات ؛ پاکستان کی ریاستی اشرافیہ کا قلب، شامل ہیں ۔

کتاب کا مصنف، فلسفے کی تدریس سے وابستہ رہا ہے، اور سیاسی فلسفے سے دلچسپی رکھتا ہے ۔ وہ آلٹر نیٹ سالوشنز انسٹیٹیوٹ کے بانیوں میں سے ہے، جو پاکستان میں بنیادی حقوق اور قانون کی حکمرانی کے استحکام کے لیے کام کر رہا ہے ۔ مصنف کی اہم تصنیف، ”چارٹر آف لبرٹی“ (میثاق ِ آزادی) ہے، جو پاکستانی آئین میں بیان کیے گئے بنیادی حقوق کو آئین کی اساسی اور اعلیٰ ترین قدر بنانے پر زور دیتی ہے ۔

یہ کتاب 156 صفحات پر مشتمل ہے، اور اس کی قیمت 220 روپے ہے ۔ کتاب سے متعلق معلومات اور خرید کے لیے درج ِ ذیل پر رابطہ کیا جا سکتا ہے:

فون نمبر: 0303 – 4000 161 
ایمیل : info@asinstitute.org
آفس ایڈریس: کمرہ نمبر 32، تیسری منزل ، لینڈ مارک پلازا، 5/6 جیل روڈ، لاہور

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں