جمعہ، 6 ستمبر، 2013

سیاسی پارٹیاں یا سیاسی بندوبست: پاکستانی سیاست کے پیچ و خم کا فلسفیانہ محاکمہ

اس 10 اگست کو آلٹرنیٹ سالوشنز انسٹیٹیوٹ نے میری دوسری اردو کتاب ریلیز کی ۔ زیل میں اردو میڈیا ریلیز نقل کی جا رہی ہے: 


میڈیا ریلیز:

نئی کتاب: ”سیاسی پارٹیاں یا سیاسی بندوبست: پاکستانی سیاست کے پیچ وخم کا فلسفیانہ محاکمہ“ شائع ہو گئی

کتاب میں پہلی بار پاکستان کی سیاسی پارٹیوں، اور سیاسی مغالطوں کا فلسفیانہ تجزیہ کیا گیا ہے

مصنف سیاسی پارٹیوں کو شہریوں کا دشمن قرار دیتاہے، اوران کی تبدیلی پر زور دیتا ہے

لاہور، 10اگست 2012: اے، ایس، انسٹیٹیوٹ، لاہور، نے آج ڈاکٹر خلیل احمد کی دوسری اردو کتاب، ”سیاسی پارٹیاں یا سیاسی بندوبست: پاکستانی سیاست کے پیچ وخم کا فلسفیانہ محاکمہ“ ریلیز کر دی ہے ۔ ڈاکٹر خلیل کی پہلی اردو کتاب، ”پاکستان میں ریاستی اشرا فیہ کا عروج“ اسی سال فروری میں ریلیز کی گئی تھی اور پاکستانی ریاست، سیاست، معیشت اور حکومت کی تفہیم کے حوالے سے اسے ایک اہم کتاب قرار دیا گیا ہے ۔

یہ کتاب بتاتی ہے کہ پاکستان کے شہری ایک عجیب مخمصے میں گرفتار ہیں: یہی سیاسی پارٹیاں، جو پاکستان میں موجود ہیں، ان کی دشمن ہیں، اور یہی سیاسی پارٹیاں ہیں، جو ان کی دوست بھی بن سکتی ہیں ۔ یہی سیاسی پارٹیاں ہیں جو ان کے ووٹ حاصل کرکے ان کی زندگیوں کو تباہی کی طرف دھکیلتی ہیں، اور دھکیل رہی ہیں؛ اور یہی سیاسی پارٹیاں ہیں، جو ان کی زندگی کو امن، سکون اورخوشحالی سے ہمکنار کر سکتی ہیں ۔ لیکن یہ کیسے ہو سکتا ہے؟ یہ کتاب اسی نکتے کی تفصیل اور توضیح سے تعلق رکھتی ہے ۔

یہ کتاب اس بات کوکھول کر بتا تی ہے کہ سیاسی پارٹیاں، کب سیاسی پارٹیاں بنتی ہیں، اور کب اور کیوں، سیاسی بندوبست بنی رہتی ہیں، جو صرف پارٹی مفادات اور پارٹی کے ساتھ وفاداری پر مبنی ہوتے ہیں ۔ یہ کتاب اس بات پر بھی توجہ دیتی ہے کہ شہریوں کو سیاسی پارٹیوں سے کس چیز کا مطالبہ کرنا چاہیے، اور کس چیز کا نہیں ۔ اور یہی وہ بھید ہے، جس پر سیاسی پارٹیوں کی سیاست تعمیر ہوتی ہے ۔ یہی وہ طوطا ہے ، جس میں ان کی سیاست کی جان ہے ۔ شہریوں کو سیاسی پارٹیوں سے وہ چیز نہیں مانگنی چاہیے، جو وہ دے نہیں سکتیں ۔ یعنی ان کے فلاحی ایجینڈے کے لالچ میں نہیں آنا چاہیے ۔ اور شہریوں کو سیاسی پارٹیوں کے اختیار میں صرف وہ چیز دینی چاہیے، جو ان کے کرنے کا کام ہے: جان و مال اور ان کے حقوق اورآزادیوں کی محافظت؛ یعنی تحفظاتی ایجینڈا ۔

پھر یہ کہ شہریوں کو اپنی کل زندگی، سیاسی پارٹیوں کے حوالے نہیں کرنی چاہیے ۔ اگر وہ ایسا کریں گے، تو سیاسی پارٹیاں ان کی زندگی کی دعویدار بن بیٹھیں گی ۔ بلکہ بن بیٹھی ہیں ۔ یوں وہ شہریوں کی زندگی کو اپنے نظریات اور آئیڈیالوجی کا ایندھن بنا دیتی ہیں ۔ بلکہ بنا دیا ہے ۔ یہ تحریر ان ہی معاملات پر توجہ دیتی ہے، اور شہریوں کے لیے ایک ایسے راستے کی نشاندہی کرتی ہے، جو سیاسی پارٹیوں کو ان کا دوست بنا سکتا ہے ۔ یہ کتا ب ایسے ہی سلگتے ہوئے مسائل و معاملات پر توجہ مرکوز کرتی ہے اور بتاتی ہے کہ کس طرح شہری، سیاسی پارٹیوں کو اپنا دوست بننے پر مجبور کر سکتے ہیں ۔

کتاب میں سیاسی پارٹیوں کا تفصیلی فلسفیانہ تجزیہ بھی کیا گیا ہے، ان میں پاکستان پیپلز پارٹی، پاکستان مسلم لیگ (ن)، پاکستان مسلم لیگ (ق)، پاکستان تحریک ِ انصاف، جماعت ِ اسلامی، جمیعت ِ علمائے اسلام (ف)، شامل ہیں، اور یہ دکھایا گیا ہے کہ تمام سیاسی پارٹیوں کا ایجینڈا یکساں ہے، یعنی سب فلاح پسند پارٹیاں ہیں ۔ کتاب یہ بھی دکھاتی ہے کہ بیشتر سیاسی پارٹیاں، پیپلز پارٹی، مسلم لیگ (ق)، پاکستان تحریک ِ انصاف، محض سیاسی بندوبست کیوں بنی ہوئی ہیں، اور انھیں سیاسی پارٹیاں کیوں نہیں کہا جا سکتا ۔

کتاب کا مصنف، فلسفے کی تدریس سے وابستہ رہا ہے، اور سیاسی فلسفے سے دلچسپی رکھتا ہے ۔ وہ آلٹر نیٹ سالوشنز انسٹیٹیوٹ کے بانیوں میں سے ہے، جو پاکستان میں شخصی آزادی اور قانون کی حکمرانی کے استحکام کے لیے کام کر رہا ہے ۔ مصنف کی اہم تصانیف، ”چارٹر آف لبرٹی“ (میثاق ِ آزادی )، اور ”پاکستان میں ریاستی اشرافیہ کا عروج“ ہیں ۔

یہ کتاب مجلد اور128 صفحات پر مشتمل ہے، اوراس کی قیمت 200 روپے ہے ۔ کتاب سے متعلق معلومات اور خرید کے لیے درج ذیل پر رابطہ کیا جا سکتا ہے:

فون نمبر: 0303 - 4000 161  ایمیل : info@asinstitute.org

آفس ایڈریس: کمرہ نمبر 32، تیسری منزل ، لینڈ مارک پلازا، 5/6 جیل روڈ، لاہور

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں