بدھ، 11 ستمبر، 2013

جلتی مرتی دنیا کے لیے ایک ’’شہر آشوب‘‘

دنیا بکھر رہی ہے
ٹکڑوں میں مر رہی ہے

بیٹھی تھی جو کثافت
تہہ سے ابھر رہی ہے

برپا ہے اک تلاطم
ہر موج ڈر رہی ہے

اٹھتا ہے شورِ محشر
بستی اجڑ رہی ہے

جوڑے گا کون پھر سے
ہر شے بگڑ رہی ہے

[یکم اگست، 2013]

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں